Wednesday, March 11, 2026
صفحہ اولتازہ تریناعلی تعلیمی کمیشن کے باہر احتجاج اپوبٹا نے 2 ہفتے کیلئے ملتوی...

اعلی تعلیمی کمیشن کے باہر احتجاج اپوبٹا نے 2 ہفتے کیلئے ملتوی کر دیا

اسلام آباد : سینیٹر سعدیہ عباسی کی طرف سے سرکاری جامعات کے اساتذہ کے ایچ ای سی کے سامنے کئی روز سے جاری احتجاجی دھرنے اور چئیرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کے غیر ذمہ رویہ کے خلاف معاملہ اٹھانے کے بعد چئیرمین سینیٹ سنجرانی نے معاملہ سینیٹ کی تعلیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کو ریفر کر دیا ۔

 

سینیٹر سعدیہ عباسی اور وزیرتعلیم کی طرف سے معاملہ حل کرانے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی ، پس منظر میں ہونے والی پیش رفت کے بعد اپوبٹا نے احتجاجی دھرنا 15 دن کے لئے ملتوی کردیا۔ تفصیلات کے مطابق چئیرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے سینٹ اور قومی اسمبلی کی تعلیم سے متعلق قائمہ کمیٹیوں کی ہدایات کو مسلسل نظر انداز کرنے، ان کمیٹیوں کے سامنے ایچ ای سی کی طرف سے کرائی گئی یقین دہانیوں پر عمل نہ کرنے اور سرکاری جامعات کی اساتذہ تنطیموں سے کئے گئے چار تحریری معاہدوں سے مسلسل روگردانی کرنے پر آل پبلک یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن(اپوبٹا کی طرف سے ایچ ای سی کے ہیڈ آفس کے سامنے تین روز سے جاری احتجاجی دھرنے کا معاملہ سینیٹ آف پاکستان میں پہنچ گیا ۔

 

سینیٹر سعدیہ عباسی نے سینیٹ کے اجلاس میں معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پبلک یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچرز کی سروس سٹرکچر اور پروموشن پالیسی سے متعلق معاملہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں زیرغور آ چکا ہے، سرکاری جامعات کے اساتذہ ابھی تک اس مسلے پر احتجاج کررہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا ۔

 

یاد رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیاں اس معاملے پر ایچ ای سی کو جلد پالیسی منظور کرنے کی ہدایات دے چکی ہیں، اور ایچ ای سی حکام نے بھی دونوں کمیٹیوں میں یونیورسٹی اساتذہ کی پروموشن پالیسی جلد منظور کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر چیئرمین ایچ ای سی پارلیمانی کمیٹیوں کی ہدایات کو مسلسل نظر انداز کرتے آرہے ہیں اور کمیٹی ارکان کے سامنے کرائی گئی اپنی ہی یقین دہانیوں پر عمل درآمد پر آمادہ نہیں ہیں۔

 

اس بات پر سینیٹر سعدیہ عباسی نے معاملہ سنیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بھجوانے اور اس کے اجلاس میں اپوبٹا کے صدر ڈاکٹر سمیع الرحمان کو بلا کر ان کا موقف سننے کی تجویز دی جو چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے منظور کرلی۔ بعدازاں سینیٹر سعدیہ عباسی نے اپوبٹا کے صدر سمیع الرحمان کو یونیورسٹی اساتذہ کی محکمانہ ترقی کی پالیسی منظور کرانے کا معاملہ سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

 

دریں اثنا وزیرتعلیم مدد علی سندھی نے اپوبٹا کے قائدین سے ملاقات میں یونیورسٹی اساتذہ کے لئے سروس سٹرکچر اور پروموشن پالیسی کی منظوری کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا یقین دلایا۔ پس منظر میں ہونے والے رابطوں اور پیش رفت کے بعد اپوبٹا قائدین نے ایچ ای سی ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاجی دھرنا دو ہفتے کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

 

اس موقع پردھرنے میں شریک اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے اپوبٹا کے صدر ڈاکٹر سمیع الرحمان نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات اور یونیورسٹی اساتذہ کے لئے پروموشن پالیسی کی منظوری کے لئے دو ہفتے کا وقت دے رہے ہیں اگر اس دوران پالیسی منظور کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری نہ ہوا تو دو ہفتے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

 

دھرنے سے اپوبٹا اور فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا) پنجاب چیپٹر کے جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر رضوان کوکب نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ سرکاری جامعات کے بی پی ایس ٹیچرز کی سروس سٹرکچر اور پروموشن پالیسی کی منظوری ملک بھر کی جامعات کی تمام تنظیموں کا متفقہ مطالبہ ہے اور اس مطالبے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر یونیورسٹی اساتذہ کی پروموشن پالیسی کا نوٹیفیکیشن، فپواسا اور اپوبٹا کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے عین مطابق جلد جاری نہ کیا گیا تو یونیورسٹی اساتذہ کی تمام تنظیمیں ملک گیر احتجاج کریں گی۔

 

انہوں نے مذید کہا کہ اس سے پہلے اپوبٹا کا یونیورسٹی اساتذہ کی سروس سٹرکچر اور پروموشن پالیسی کی فوری منظوری اور اس کے نوٹیفیکیشن کے اجرا کے لئے احتجاجی دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا جس میں ملک بھر کی سرکاری جامعات کے سینکڑوں اساتذہ نے شرکت کی ۔

 

اساتذہ دن بھر ایچ ای سی ہیڈآفس کے سامنے سڑک پر دریاں بچھا کر زمین پر بیٹھے رہے، اس دوران وہ اپنے مطالبات کے حق اور ایچ ای سی انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے۔ دھرنے کے اختتام پر اساتذہ نے سڑک پر احتجاجی واک کی اور آخر میں ایچ ای سی کے مین گیٹ کے سامنے جمع ہو کر شدید نعرہ بازی کی۔

 

اس موقع پر اپوبٹا قائدین نے خطاب کیا اور یونیورسٹی اساتذہ کے مطالبات کو پرزور طریقے سے اٹھانے پر ملک بھر کے صحافی حضرات بالخصوص پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے افراد اور سینیٹر سعدیہ عباسی کا شکریہ ادا کیا اور دھرنا دو ہفتے کے لئے ملتوی کرنے کااعلان کیا جس کے بعد دھرنے کے شرکاء پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔

متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین