Tuesday, February 3, 2026
صفحہ اولتازہ ترینتمام اساتذہ طلبہ کے نتائج وقت پر جاری کریں، وائس چانسلر گومل...

تمام اساتذہ طلبہ کے نتائج وقت پر جاری کریں، وائس چانسلر گومل یونیورسٹی

وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ کی سربراہی میں گومل یونیورسٹی کی45ویں اکیڈمک کونسل میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ میٹنگ میں تمام شعبہ جات کے ڈینز سمیت سربراہان اور انتظامی افسران نے شرکت کی۔ میٹنگ کا ایجنڈا آئٹم ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر محمد نعمت اللہ بابر نے پیش کیا۔

میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ نے اساتذہ کو سختی سے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اساتذہ طلبہ کے نتائج وقت پر جاری کریںاورکوئی بھی استاد طلبہ کو نتائج کے حوالے سے تنگ کریںبغیر کسی قانونی جواز کے کسی بھی طالبعلم کے نتائج روکنا غلط اور جرم کے مترادف ہے ۔وہ اساتذہ یا ملازمین جو کوئی کام نہیں کرتے اور طلباء کوتنگ کرتے ہیں ان شعبہ جات کے سربراہان فوری طور پر رپورٹ کریں تاکہ ان کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے۔ کیونکہ یہ ہمارے اپنے بچوں کی طرح ہیں جس طرح ہم اپنے بچوں کا خیال اور رہنمائی کرتے ہیں اسی طرح طلباء و طالبات کا خیال اور ان کی رہنمائی کرنا ہم سب پر فرض ہے ۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ کا مزید کہنا تھا کہ گومل یونیورسٹی کو مالی خسارہ سے نکالنے کیلئے سخت فیصلے کرنا وقت کی ضرورت ہے کوئی بھی آ کر ہمیں اس خسارے سے نہیں نکالے اورنہ ہی کسی بھی وائس چانسلر کے پاس کوئی نوٹوں کی مشین یا پھر کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہوتی جو اس کی مدد سے فوری طور پر وہ یونیورسٹی کے مالی خسارے کو کم کر دے ۔ہم تمام کو مل کر ہی اس کیلئے کام کرنا ہے اور طلباء کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ مختلف پراجیکٹس پر کام کرنا ہوگا ان کا مزید کہنا تھا کہ گومل یونیورسٹی کے مالی خسارے کی سب سے اہم اور بڑی وجہ پنشنرز کا بوجھ ہے جس کے حل کیلئے دن رات کوشاں ہوں کیونکہ میں تمام پنشنرز کے مسائل سے بخوبی واقف ہوں ۔ وائس چانسلرگومل یونیورسٹی نے تمام شعبہ جات کے سربراہان کو سختی سے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ وہ شعبہ جات جن میں طلباء کے ذمہ واجب الادا رقم ہو وہ طلباء سے فوری طور پر فیسیںلیں اور بغیر فیس کے کسی بھی طلباء کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت مت دیں اور اس رقم کی ادائیگی میں تمام شعبہ جات کے سربراہان سختی سے عملدرآمد کروائیں۔

پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ نے کاکہنا تھا کہ وہ شعبہ جات جہاں طلباء کی تعدادانتہائی کم ہے اس کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ جب اس شعبہ کے سربراہ اور اساتذہ خود اپنے شعبوں کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تو ادارہ بھی ان کیلئے کچھ نہیں کر سکتا۔ میٹنگ میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے قوانین مطابق ایم ایس اور ایم فل کورس بیسڈ ایجوکیشن سسٹم کی منظوری بھی دی گئی جبکہ یونیورسٹی وینسم کالج کو ڈگری کالج بنانے کیلئے تمام قانونی پیچیدگیوں کو دیکھنے اور اس پر فوری کام کرنے کی ہدایت بھی جاری کیں۔ میٹنگ میں بی ایس 5سمسٹر میں داخلے لینے والے طلباء کی کلاس کے اجراء کا بھی فیصلہ کرنے کے ساتھ ویکلنڈ کلاس کو بھی فوری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ان طلباء کاقیمتی تعلیمی وقت ضائع نہ ہو

متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین