Tuesday, February 3, 2026
صفحہ اولتازہ ترینجامعہ کراچی میں جمعیت پر پاپندی لگانے کا مطالبہ

جامعہ کراچی میں جمعیت پر پاپندی لگانے کا مطالبہ

سندھی شاگرد ستھ کے ساتھیوں پر آج جامعہ کراچی میں فسطائی گروہ جمعیت کے وحشیانہ حملے کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ ہم خاص طور پر بعدازاں حملے (اپنی گھٹیا روایت کو برقرار رکھتے ہوئے) جمعیت کے جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہوئے حملے کو دوسرا رنگ دینے کی کوشش کرنے کی بھی شدید مزمت کرتے ہیں۔

انتظامیہ اور ریاست کی جانب سے کیمپس میں کھلی طالبانائزیشن کو فروخت دینے والی پالتو قوتیں نہ صرف طلباء و طالبات کے ذہنوں میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی بیج بونے کی کوششیں کر رہیں ہیں، بلکہ ان میں خوف پیدا کرنے کے لیے اس طرح کے انتہائی بزدلانہ حملوں کا سہارا بھی لیتی ہیں۔ یہ سیاسی تاریخ کی ایک حقیقت بن چکی ہے کہ انتظامیہ کے گرین سگنل کے ساتھ ماہ بہ ماہ دن کی روشنی میں درجنوں کی تعداد میں یہ رجعتی قوتیں ہجوم کی شکل میں حملہ آوور ہوتے رہتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی انتظامی کارروائی نہیں کی جاتی۔ کیونکہ یہ ہمیشہ پہلے سے منصوبہ بند حملہ ہوتا ہے اور اس کا مقصد اِن کے علاوہ کسی دوسری قوت کو سیاسی میدان میں داخل نہ ہونے دینا ہوتا ہے۔ اس میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دہشتگرد قوتیں خود طلبہ کی اجتماعی طاقت سے خوف زدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے حملے ہمیشہ کی طرح جامعات کہ ایسے کونوں میں ہوتے ہیں جہاں طلبہ کی تعداد کم ہوتی ہے۔ جمعیت خوف اور سیاسی عدم تحفظ کا خود شکار ہے، کیونکہ انتظامیہ کے سوا ان کی حمایت کوئی نہیں کرتا۔ طلبہ ان کو کھلم کھلا مسترد کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ ایک بنیاد پرست جماعت جماعت اسلامی کا طلبہ ونگ ہے، جو 1971 کے دوران بنگلہ دیش مخالف دہشت گرد گروپوں جیسے الشمس اور البدر کے ذریعے بڑے پیمانے پر قتل عام اور خواتین کی عصمت دری میں ملوث تھی۔ اور افغانستان اور کشمیر میں جہادیوں کی بھرتی، تربیت اور بھیجنے کے لیے بھی مشہور ہے۔

اور انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟ منہ بولے سٹوڈنٹس افیرز ادارے کیا کر رہے ہیں؟ جامعات کے تمام اعلیٰ ادارے کیا کر رہے ہیں؟ ان رجہتی اور دہشتگرد قوتوں کو کیمپس میں کھلی جگہ دینے، ان کے تقریبات کرواتے ہوئے ان کو پروموٹ کرنے اور طلبہ کے درمیان ان کے لیے جگہ بنانے تاکہ وہ طلبہ میں شدید تقسیم اور خوف پیدا کر سکیں، ان پر ظلم کریں اور ان کے سیاسی شعور کو مسخ کرسکیں۔

ہم نہیں سمجھتے کہ یہ حملے سندھی، بلوچ، پشتون ہونے کے ناطے یا کسی بھی لسانی، زبانی یا قومی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں، بلکہ مجموعی طور پر طلبہ کہ زہنوں میں طلبہ سیاست کا تصور کالا کرنے کے لیے اور ان کو اپنے حقوق کی حقیقی اور مشترکہ لڑائی لڑنے سے روکنے کے لیے کروائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان قوتوں سے لڑنے کے لیے اشد ضروری ہے کہ ہم لڑائی کا سیاسی طریقہ کار اختیار کریں اور انتظامیہ سے ہٹ کر ان کو جامعہ کے اندر بھرپور جواب دیں، تاکہ وہاں پڑھنے والے طلبہ یہ جان سکیں کہ جمعیت کیمپس کی مالک نہیں اور سیاست کرنے کا حق سب کا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب عام طلبہ ہی جمعیت کو اور ان کی دہشتگردی کو کیمپسوں سے صفایا کریں گے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے اور ملک بھر کے کیمپسوں میں ان پر فی الفور پابندی عائد کی جائے۔ طالبان کے بینرز اٹھانے والی قوت کو سماج کے کسی بھی کونے میں ایک انچ کی بھی جگہ نہیں ملنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین