کراچی : جامعہ کراچی کے ICCBS سینٹر میں ڈائریکٹر کی تعیناتی دلچسپ صورتحال اختیار کر گئی ‛ اشتہار اور سابقہ تعیناتی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ۔ جبکہ الیکشن کمیشن کی پابندی کے باوجود پیر کو ڈائریکٹر کی تعیناتی کیلئے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ایجنڈے میں تعیناتی شامل ہی نہیں زرائع کے مطابق کوئی بھی امر با اجازت چیرمین بورڈ کے زریعے شامل کیا جائے گا۔ ممکنہ طور پر پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کو ہی تعینات کرنے کی ہر ممکن کوشش جائے گی ۔جبکہ جامعہ ایکٹ کوڈ کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد اگر تقررّی بہت ہی ضروری ہو تو یہ چانسلر کا استحقاق ہے اور اس کے بعد وزیر اعظم سے منظوری لی جاتی ہے.
- نمائندہ ایجوکیشن کو موصول ہونے والے ایجنڈہ نوٹ کے مطابق جامعہ کراچی کے اندر واقع ICCBS کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پروفیسر اقبال چوہدری 11 ستمبر کو دوسری بار اپنی مدت پوری کر کے ریٹائرڈ ہو جائیں ۔ ان کی عمر اس وقت 64 برس ہے اور وہ گزشتہ 21 برسوں سے مسلسل اہم ترین ادارے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے امور انجام دے رہے ہیں۔اور ادارے کے قوانین کے مطابق ایک ڈائریکٹراور دو کو ڈائریکٹر مل کر کام سر انجام دیں گے لیکن ٢١ سالوں میں کسی کو کو ڈائریکٹر تعینات نہیں کیا گیا کیونکہ وہ بھی ایگزیکٹو بورڈ کا سیکریٹری بن جائے گا قوانین کے مطابق اور چھپائے گئے معاملات سامنے آجائیں گے۔٢١ برس سے بورڈ کی میٹنگ بغیر سیکریٹری کے انجام دی جارہی ہے جس سے بورڈ معاملات مزید مشکوک ہوگئے ہیں۔
تاہم 21 برس بعد بھی سینئرز پروفیسرز میں سے کسی کو چارج دینے کے بجائے پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کی ایماء پر ICCBS کی ہی جانب سے ایک اشتہار جاری کیا گیا جس میں ایسی ایسی شرائط عائد کی گئی ہیں جو آج تک پاکستان تو کیا دنیا میں کسی بھی ادارے میں ڈائریکٹر/ ڈائریکٹر جنرل / منیجنگ ڈائریکٹر جیسی اسامیوں کیلئے بھی نہیں لگائی گئی ۔ جب کہ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر مکمل طور پر پابندی ہے ۔ جس کی وجہ سے مذکورہ ادارے میں کسی BPS سینئر پروفیسر کو چارج دیکر پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری 11 ستمبر کو چارج دیکر سبکدوش ہو سکتے ہیں ۔
تاہم ممکنہ طور پر ڈائریکٹر شپ کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کیلئے اقبال چوہدری کی ریٹائرڈمنٹ سے فقط 7 روز قبل 4 ستمبر بہ روز پیر دن ساڑھے 11 بجے PCMD میٹنگ ہال میں ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس منعقد کیا جائے گا ۔ جس کیلئے وائس چانسلر جامعہ کراچی ‛ ڈین سائنسز ‛ ڈین میڈیکل پروفیسر فریدہ اسلام ‛ رجسٹرار ڈاکٹر عبدالوحید ‛ عزیز جمال ‛ نادرہ پنجوانی اور نمائندہ HRC انجنیئر محمد رضا چوہان ہونگے ۔
باوثوق ذرائع کے مطابق اس ایگزیکٹیو بورڈ کی ضرورت انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں پیش آتی ہے جب کہ اہم فیصلوں کیلئے سنڈیکیٹ متعلقہ فورم ہے ۔ الیکشن کمیشن کی پابندی اور دو سینئر ریگولر پروفیسرز کی موجودگی میں ایمرجنسی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے ۔ ذرائع کا دعوی ہے مذکورہ ایگزیکٹیو بورڈ میں خود ICCBS کا کوئی حاضر سروس نمائندہ موجود نہیں جبکہ باقی ممبران کو اس ادارے میں اتنی ایمرجنسی کا خیال کیسے آ سکتا ہے کیونکہ ان کا ناظم امتحانات اسی وجہ سے تعینات کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور متعلقہ اتھارٹی کی اجازت نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے ایگزیکٹو بورڈ کے ممبران کے ذریعے ڈاکٹر اقبال چوہدری کو ہی بھرتی کیا جائے گا یا انہیں ایکسٹیشن دی جائے گی۔
ا
دھر ذرائع کا دعوی ہے اگر ایگزیکٹیو بورڈ نے ایسا ہی کیا تو اس صورت میں عدالت ‛ نیب اور متعلقت فورم کو جواب دہ ہونا پڑے گا ۔


