Wednesday, February 4, 2026
صفحہ اولتازہ ترینسرسید یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام فری مینٹل ہیلتھ  کیمپ کا انعقاد

سرسید یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام فری مینٹل ہیلتھ  کیمپ کا انعقاد

کراچی.: سرسید یونیورسٹی کے شعبہ سائیکالوجی کے زیرِ اہتمام   ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے  2023 کے تفویض کردہ موضوع ”ذہنی صحت ایک عالمی انسانی حق ہے“ پر فری مینٹل ہیلتھ کیمپ
سرسید یونیورسٹی اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے فری مینٹل ہیلتھ کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ پورا دن کیمپ میں دماغی صحت کے حوالے سے مختلف سرگرمیاں ہوئیں جن میں آگاہی اسٹالز، نفسیاتی تشخیص، اسٹریس فری زون، آرٹ تھراپی اور کونسلنگ شامل تھے۔
اس کیمپ کے دوسرے حصے میں  ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے  ممتاز سائیکارٹسٹس اور سائیکالوجسٹس نے دماغی صحت کے حوالے سے پیدا ہونے والے  خدشات و چیلنجز اور ان کے تدارک پرسیر حاصل گفتگو کی۔شرکاء میں سرسید یونیورسٹی کے رجسٹرار کموڈور (ر) سید سرفراز علی، روسائے کلیات،سربراہانِ شعبہ جات اور اساتذہ و طلباء کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔
جناح پوسٹ گریجویٹ  میڈیکل سینٹر کے Distinguished  National Professor، ممتاز سائیکاٹرسٹ،  مہمانِ خصوصی تھے پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال آفریدی نے کہا کہ ذہنی صحت ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرے اور ان صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں فعال و موثر کردار ادا کرے۔ہم اکثر اپنی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ نہیں لگا پاتے۔خوش ہونے کا تعلق مثبت سوچ سے ہے۔اگر ہم کام کو عبادت سمجھ کر کریں تو مسئلہ ہی ختم ہوجائے گا۔ دوسروں کے کام آکر،  دوسروں کی مدد کرکے جتنی خوشی ملتی ہے، آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔
جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کی سابق سربراہ پروفیسرڈاکٹر قدسیہ طارق نے کہا کہ اسٹریس زندگی کا ایک نارمل جُز ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں ہمیں خوفزدہ کردیتی ہیں۔ ہم بچوں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں جو بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ اپنے سوشل سپورٹ سسٹم کو بہتر بنائیں۔ منفی رجحانات کا قطعی شکار نہ ہوں۔ آپ کا ہر رویہ آپ کی ذہنی صحت کا ضامن ہے۔ اگر آپ اپنے ساتھ اچھے ہیں تو معاشرے کے لئے بھی اچھے ثابت ہوں گے۔
ستارہ امتیاز، ٹرانسفارمیشن ویلنیس کلینکس و مینٹل ہیلتھ  پریکٹشنرکے بانی،ڈاکٹر محمد عمران یوسف  نے کہا کہ آپ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے،  ترقی نہیں کرسکتے جب تک اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو لوگوں میں تقسیم کرنے کی عادت نہ ڈالیں۔ کتابوں سے زیادہ انسانوں کو پڑھنے سے آدمی سیکھتا ہے۔ ۔آپ کے چہرے پر سجی مسکراہٹ، آپ کے اندر ایک مثبت توانائی لاتی ہے۔۔ دوسروں کا خیال کرنے اور ان سے چیزیں شیئر کرنے سے ایک دائمی خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے۔
جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کی سابق چیئر پرسن، پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال نے کہا کہ زمانہ حال میں جینا سیکھیں، آج کی زندگی گزاریں۔ ۔ماضی پر افسوس، گزرے وقت کی باتیں، سوائے وقت کے زیاں کے کچھ نہیں۔اس سے آپ کی توانائی شدید متاثر ہوتی ہے۔ کوویڈ میں سماجی نہیں جسمانی فاصلہ پر زور دیا گیا تھا، ورنہ سماجی رابطوں کے بغیر انسان کیسے زندگی گزار سکتا ہے، انسان تو ایک سماجی مخلوق ہے۔ ہر ثقافت کی اپنی سماجی اقدار ہوتی ہیں۔ اگر anxiety مستقل رہے تو disorder بن جاتی ہے۔ اگر اسٹریس کو زندگی سے نکال دیں تو ترقی رک جائے گی۔ اگر طلباء کو امتحانات کا اسٹریس نہیں ہو گاتو وہ کامیاب ہونے کے لئے محنت کرنا چھورڑدیں گے۔
جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ ا ٓف کلینیکل سائیکالوجی کے  سابق ڈائریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد نے کہا کہ ہم سائیکو تھراپی اور کونسلنگ سے زیادہ نفسیاتی تشخیص اور اندازوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ہم مغربی معاشرے کی کسوٹی پر یہاں کے ذہنی طور پر متاثرہ افراد کو پرکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم نے ابھی تک انٹیلکچول نقص کو جانچنے کے لئے اپنے معاشرے اور ثقافتی پس منظر کے لحاظ سے  ایک بھی اسکیل یا ٹیسٹ نہیں بنایا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر ثناء، ڈاکٹر شیباء اور ڈاکٹر مریم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔۔
سمینار سے خطاب کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ دماغی صحت سے متعلق آگاہی ایک اہم سماجی تحریک ہے جس کا مقصد لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ دماغی امراض کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں قطعی کوئی ندامت یا شرمندگی محسوس نہیں کرنا چاہئے۔۔ موجودہ دور میں انسان کو جتنی آسانیاں اور آسائشیں  میسر ہیں، وہ اتنا ہی ناخوش اور یاسیت کا شکار نظر آتاہے ۔دورِ جدید میں انسان مشین بن کر رہ گیا ہے۔پیسہ کمانے کی دوڑ میں ہماری زندگی سے سکون و اطمینان غائب ہوگیا۔انھوں نے بتا یا کہ سرسید یونیورسٹی میں شعبہ سائیکالوجی کی افادیت اور کارکردگی کو مزید بہتر اور نتیجہ خیز بنانے  کے لیے مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز جیسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر کام ہورہا ہے۔
اختتام ِ تقریب پر کلیہ کمپیوٹنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے ڈین، پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور بعد ازاں مہمانوں اور آرگنائزرز میں شیلڈز تقسیم کی گئیں جبکہ طلباء کوسرٹیفکیٹس دئے گئے۔۔
قبل ازیں شعبہ سائیکالوجی کی چیئرپرسن سنبل مجیب نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی امراض کو پاگل پن قرارد دینے کے تاثر کو زائل کرنا ہوگا۔ مہنگائی، بیروزگاری اور معاشرے کی ابتر صورتحال، لوگوں کی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ ذہنی مسائل پہلے سے کئی گناہ یبڑھ گئے ہیں اور چالیس فیصد لوگ ذہنی مسائل کا شکار ہیں جن میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین