Tuesday, February 3, 2026
صفحہ اولتازہ ترینسندھ: جامعات میں تعلیمی معیار کی بہتری کے حوالے سے اجلاس کا...

سندھ: جامعات میں تعلیمی معیار کی بہتری کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

سندھ کی جامعات میں تعلیمی معیار کی بہتری کے حوالے سے اجلاس نگران وفاقی وزیر تعلیم اور چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی سربراہی میں سندھ کی جامعات میں اعلی تعلیمی کے معیار کی بہتری کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا

کراچی، (پ-ر): صوبہ سندھ میں اعلی تعلیمی جامعات میں تعلیم و تحقیق کے معیار کی بہتری اور صوبہ سندھ میں جامعات کو درپیش چیلنجز کو حل کرنے کے لیے نگران وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت مدد علی سندھی اور چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد کی سربراہی میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن ریجنل سنٹر کراچی میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔

اس اجلاس میں صوبہ سندھ کی بیس سے زائد اعلی تعلیمی اداروں کے وائس چانسلرزنے بھی شرکت کی۔

نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد صوبہ سندھ میں اعلی تعلیمی اداروں کو درپیش چیلنجز اور تعلیمی معیار کو مزید بہتر کرنے کے حوالے سے سفارشات طلب کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات خوش آئند رہی ہے۔ زیادہ تر جامعات ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے وضع کردہ کم از کم معیار کی پیروی کر رہی ہیں۔

انھوں نے وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اساتذہ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کر رہے ہیں، پھر بھی یہ وائس چانسلر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی نگرانی کریں تاکہ طلباء کو عصر حاضر کی ضروریات کے عین مطابق تعلیم و ہنرکی فراہمی ممکن ہو سکے۔

انھوں نے وائس چانسلرز کو یقین دہانی کروائی کہ مستقبل میں بھی حکومت پاکستان اس طرح کے اجلاس منعقد کرے گی۔ انھوں نے وائس چانسلرز کو یقین دہانی کروائی کہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح نوجوانوں کو اعلی تعلیم کی فراہمی ہے اور اس ضمن میں ہر چیلنج کو حل کیا جائے گا۔

انھوں نے جامعات میں ہونے والی تحقیق کے حوالے سے کہا کہ وائس چانسلرز اور اساتذہ کرام کو چاہیے کہ طلباء کو ایسے عناوین پر تحقیق کرنے کی جانب رہنمائی کریں جو موجودہ دور کے مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوں۔

اس موقع پر چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کہا کہ اعلی تعلیمی جامعات سے چار ہزار سے زائد تعلیمی ادارے الحاق شدہ ہیں۔ ان الحاق شدہ تعلیمی اداروں کا معیار تعلیم مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے اعلی تعلیمی جامعات کو مانیٹرنگ کا نظام مزید فعال بنانا ہوگا اور تعلیم و تحقیق کے معیار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنےکی ضرورت ہے۔

سندھ کی اعلی تعلیمی جامعات کے وائس چانسلرز نے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ جامعات میں پڑھانے والے اساتذہ کے لیے پی ایچ ڈی کی شرط ختم کی جائے اور اساتذہ کو پڑھانے کی تربیت دی جائے۔

وائس چانسلرز نے مزید کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر پی ایچ ڈی اچھا استاد بھی بن سکے، ہمیں اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے نہ کہ پی ایچ ڈی تعلیم یافتہ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جامعات میں افرادی قوت بڑھانے کے حوالے سے بھی کام کیا جانا چاہیے۔ وائس چانسلرز کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو جامعات میں ملازمتیں دینے کی ضرورت ہے جن کو انڈسٹری میں کام کرنے کا تجربہ ہو تاکہ نوجوان نسل کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مند کیا جاسکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ میں دی جانے والی تعلیم کے معیار کو بہترکرنے کی اشد ضرورت ہے۔اس کے علاوہ وائس چانسلرز نے کہا کہ ریسرچ گرانٹس میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ لیبارٹریز اورآلات کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔

جامعات کے وائس چانسلرز کا کہنا تھا کہ تمام جامعات کو پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ الحاق کرنا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو انٹرنشپس اور ملازمتوں کی فراہمی ممکن ہو اور جامعات میں حقیقی معنوں میں تحقیقی پراجیکٹس کو کمرشلائز کیا جا سکے۔

وائس چانسلرز کا کہنا تھا کہ اگر اسی طرح حکومتی سرپرستی حاصل رہی تو جامعات خود کفیل ہو کرملک کو درپیش کئی چیلنجز کو حل کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

1 تعليق

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین