Tuesday, February 3, 2026
صفحہ اولتازہ ترینسندھ کے تعلیمی بورڈز کو آخر کب تک اڈھاک ازم کی بنیاد...

سندھ کے تعلیمی بورڈز کو آخر کب تک اڈھاک ازم کی بنیاد پر چلایا جائے گا؟ وزیرِاعلیٰ سندھ

سندھ پروفيسرز اينڈ ليکچررز ايسوسی ايشن ( سپلا) کے مرکزی صدر منور عباس، سیکریٹری جنرل شاہجہاں پنھور، سيد عامر علی شاہ، پروفيسر الطاف کھوڑو، نجیب لودھی ، عصمت جہاں، سید جڑيل شاہ، لعل بخش کلہوڑو، حميدہ ميربحر، عزيز ميمن، خرم رفیع،عبدالمنان بروہی، سعید احمد ابڑو، رسول قاضی ، نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں سندھ کے تعلیمی بورڈز کی حالتِ زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتنی بد قسمتی ہے کہ سندھ کے آٹھ تعلیمی بورڈز میں گزشتہ 6 برس سے تمام کنٹرولرز، سیکریٹریز اور آڈٹ افسران اڈھاک ازم کی بنیاد پر چلائے جارہے ہیں۔

 

موزوں اور اہل امیدواراں کی جگہ ان پوسٹوں پر یا تو جونیئر افسران ہیں یا دوسرے محکموں سے آئے ہوئے افراد براجماند ہیں جب کہ پانچ تعلیمی بورڈز میں گزشتہ دو برس سے کوئی مستقل چئیرمین ہی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:اقراء یونیورسٹی اور اسلامک آزاد یونیورسٹی کے سربراہ کے مابین تعلیمی تعاون کے قیام کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

سپلا کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ ان تمام عہدوں پر اہل اور موزوں افسران کی عدم موجودگی کے سبب صوبے بھر کے بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ آئے روز جعلی مارکس شیٹ کے اجرا اور نتائج میں ہیرا پھیری کی خبروں نے سندھ کے روشن چہرے کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔

 

سپلا کے رہنماؤں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی کہ وہ صوبے کے روشن مستقبل کی خاطر اس طرف توجہ دیں اور سندھ کے تمام بورڈز میں مستقل ناظمِ امتحانات ، سیکریٹری بورڈز، آڈٹ افسران میرٹ پر تعینات کریں جبکہ دو تعلیمی بورڈز میں مستقل چیئرمین بورڈ بھی تعینات کریں۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین