Tuesday, February 3, 2026
صفحہ اولتازہ ترینمسلم دنیا میں جہل، توہم پرستی کا اندھیرا چھایا ہوا ہے، پروفیسر...

مسلم دنیا میں جہل، توہم پرستی کا اندھیرا چھایا ہوا ہے، پروفیسر عطا الرحمن

کراچی: سابق وفاقی وزیر برائے سائینس اور ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم دنیا میں جہل اور توہم پرستی کا اندھیرا چھایا ہوا ہے، مسلم ممالک کے کسی بھی سائینسی ادارے نے ابھی تک کوئی ایک نوبل پرائز حاصل نہیں کیا ہے جبکہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج نے تنہاء121 نوبل پرائز حاصل کیے ہیں، کامسیٹس کوچاہیے کہ وہ پالیسی سازی میں تعلیم، سائینس، ٹیکنالوجی اور انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن پر خصوصی فوقیت دیں۔

 

یہ بات انھوں نے بدھ کو بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے زیرِ اہتمام منعقدہ کامسیٹس کی کوآرڈینیٹنگ کونسل کے چوبیسویں اجلاس کی افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب کے دوران کہی۔

 

افتتاحی تقریب سے کامسیٹس کی کوآرڈینیٹنگ کونسل کے چیئر پرسن پروفیسر ڈاکٹر اشرف شالان، شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی،ئ آئیی سی بی ایس، جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹرمحمد اقبال چوہدری، کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد نفیس زکریا اور بین الاقوامی مرکز کی پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ شاہین نے بھی خطا ب کیا۔ اس موقع پردی ورلڈ اکیڈمی آف سائینسزکے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد حسن سمیت دیگرملکی اور غیر ملکی ماہرین بھی موجود تھے۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد: فیڈرل بورڈ نے IBCC کے دفتر کا افتتاح کر دیا

پروفیسر عطا الرحمن نے مسلم دنیا میں سائینس اور تعلیم کی مخدوش صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا مسلم ممالک کے مقابل یونیورسٹی آف کیمبرج کے محض ایک کالج ٹرینیٹی نے اب تک34 نوبل پرائز اپنے نام کیے ہیں، انھوں نے کہا نوبل انعام یافتہ دو مسلم سائینسدان ڈاکٹرعبدالسلام اور ذیوائل احمد نے بالترتیب برطانیہ اور امریکہ میں اپنا تحقیقی کام کیا تھا۔

 

پروفیسر خالد عراقی نے اجلاس کے شرکاء کوجامعہ کراچی میں خوش آمید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حقیقی قومی ہیرو کو پہچانے کی ضرورت ہے، نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائینسدان ڈاکٹرعبدالسلام حقیقی معنیٰ میں قوم کے ہیرو تھے۔ انھوں نے کہا موسمیاتی تغیر ایک اہم مسئلہ ہے مگر پاکستان میں اس قدرتی مظہر کی طرف توجہ نہیں دی جاتی، جبکہ بیرونِ ملک بیس سال پہلے بھی یہ مسئلہ بہت اہم تھا،

مزید پڑھیں:جی سی یو ارشد شریف میموریل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز قائم کرے گا

سندھ اور بلوچستان میں سیلاب محض قدرتی آفت نہ تھی بلکہ اس میں انسانی کوتاہی بھی شامل ہے۔ پروفیسر اقبال چوہدری نے بین الاقوامی مرکز میں اجلاس کے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہاحالیہ علمی وباء میں دنیا کے ممالک کو سنگین صورتحال سے مقابلہ کرنے کے لیے اُن کے اپنے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا جس سے عالمی تعاون کی ناکامی یکسر بے نقاب ہو گئی، اس صورتحال نے عالمی معیشت کی کمزوریوں کو بھی آشکار کیا۔ڈاکٹر محمد نفیس زکریا نے شرکاءِ اجلاس کو کامسیٹس کی کارکردگی سے متعلق آگا ہ کیا، انھوں نے کہا ترقی پذیر ممالک میں سائینس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی نشونما کامسیٹس کے مقاصد کا حصہ ہے،

 

انھوں نے کہا کامسیٹس کی تشکیل دراصل نوبل انعام یافتہ سائینسدان ڈاکٹرعبدالسلام کی فکر کے نتیجے میں ہوئی تھی۔ پروفیسر اشرف شالان نے کہا کہ کامسیٹس کا مشن متعقلہ میدان مین رکن ممالک کی معاونت و مدد کرنا ہے۔ آخر میں پروفیسر فرزانہ شاہین نے کلمہئ سپاس پیش کیا۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین