Tuesday, March 24, 2026
صفحہ اولتازہ ترینمیونسپل کارپوریشن نجی اسکولوں کو بلیک میل نہیں کر سکے گی :...

میونسپل کارپوریشن نجی اسکولوں کو بلیک میل نہیں کر سکے گی : اسکول ایسوسی ایشن

کراچی : پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسو سی ایشن کے رہنمائوں نے کراچی پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس کی ، جس میں انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ عدالت کی جانب سے ان کا موقف سچ تسلیم کرتے ہوئے میونسل کارپوریشن کو متنبہ کیا ہے کہ وہ نجی اسکولوں کو ٹریڈ لائسنس پر مجبور نہیں کر سکتے ۔

 

پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسو سی ایشن کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ہمنے ایک ایسے کیس میں اہم قانونی فتح حاصل کی ہے ، ہمیں آج اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے پرائیویٹ اسکولوں کو درپیش اہم مسئلہ حل ہو گیا ہے ، اور ہم نے کراچی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے پرائیویٹ اسکولوں پر ٹریڈ لائسنس فیس کے نفاذ کیخلاف کامیابی حاصل کی ہے ۔

 

بعض نجی اسکولوں کے مالکان کو کورٹ میں بلا کر ان کی تذلیل کی جاتی تھی اور پھر ڈیل کر کے انھیں وہاں سے چھوڑا جاتا تھا ورنہ مقدمے کا سامنا کرنے کو کہا جاتا تھا ۔ پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے ان اسکولوں کی بھرپور معاونت کی اور اس مقدمے کو ان اسکولوں کی طرف سے خود لڑا جس پر کامیابی ملی ہے ۔

 

ہماری دلیل بالکل واضح ہے کہ تعلیم دینے کا عمل کسی بھی صورت ٹریڈ نہیں ہے ۔ پرائیویٹ اسکولز علم فراہم کرنے اور بچوں کے مستقبل کی تشکیل کے لیے پر عزم ہیں ، اور کسی بھی صورت نجی تعلیمی اداروں کو ٹریڈینگ اداروں میں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔ ہمارے موقف کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ پرائیویٹ اسکولز پہلے سے ہی ڈائریکٹوریٹ آف انسپکشن اینڈ رجسٹریشن پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لائسنس لے کر کام کرتے ہیں ۔

 

ہم ان کے رہنما خطوط پر عمل پیرا رہتےہوئے ان کے سخت معیارات پر پورا اترتے ہیں تاکہ اپنے طلباء کے لیے بہترین تعلیم کو یقینی بنایا جا سکے ۔ جب ہم پہلے ہی ایک لائسنس لے چکے ہیں، اس طرح، ایک اضافی تجارتی لائسنس کی ضرورت نہ صرف بے کار تھی بلکہ ناقابل جواز بھی تھی ۔

 

مزید برآں،جب ہماری قانونی ٹیم نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کا باریک بینی سے جائزہ لیا، تو یہ واضح ہوا کہ اس ایکٹ میں پرائیویٹ اسکولوں کے لیے ٹریڈ لائسنس فیس سے متعلق کوئی شق شامل ہی نہیں ہے ۔ ایکٹ میں ‘اسکول فیس’ کا واحد ذکر ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن (DMC) کے زیر انتظام اسکولوں سے جمع کی گئی فیسوں کا حوالہ دیتا ہے نہ کہ نجی اسکولوں سے ۔ اور یہ شک بھی ۲۰۲۱ میں ایکٹ سے نکال دی گئی ہے، جس کو جواز بنا کر کراچی میونسپل کارپوریشن کے چند لوگ نجی تعلیمی اداروں سے ٹریڈ لائسنس فیس وصول کر رہے ہیں ۔

 

کیس کی خامیوں کو تسلیم کرتے ہوئے عدالت نے نجی سکولوں پر ٹریڈ لائسنس فیس کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے ۔ یہ فتح اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ نجی اسکولز خدمت کے جذبے سے سر شار ہو کر کام کر رہے ہیں ۔ یہ فیصلہ ہمارے معاشرے میں نجی اسکولوں کے اہم کردار کی نشاندہی کرتا ہے، جونہ صرف معیاری تعلیم فراہم کررہے ہیں بلکہ مختلیف شعبوں میں ہمارے مستقبل کے لیڈرز تیار کرنے میں اپنا پورا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

 

پاکستان پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسو سی ایشن کے رہنمائوں کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنی قانونی ٹیم بالخصوص ایڈوکیٹ شکیل یوسف کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔تنظیم کے چئیرمین انور علی بھٹی، سینیر وائیس چئیرمین شکیل احمد خان ، وائس چئیرمین محمد انور، اور سیکریٹری جنرل عالم شیر اعوان ، سابق چیئرمین پرویز ہارون سمیت دیگر اسکولوں کے اساتذہ و مالکان اس پریس کانفرنس میں شریک رہے ۔

متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین