Wednesday, February 4, 2026
صفحہ اولتازہ ترینوفاقی اردو یونیورسٹی، طلبہ ایکشن کمیٹی کا فیسوں کے اضافے کیخلاف صدر...

وفاقی اردو یونیورسٹی، طلبہ ایکشن کمیٹی کا فیسوں کے اضافے کیخلاف صدر پاکستان کو خط

وفاقی اردو یونیورسٹی کی طلبہ ایکشن کمیٹی نے فیسوں کے اضافے کے خلاف صدر پاکستان کو خط لکھ دیا۔

خط میں خلاف قاعدہ فیسوں میں اضافے کے علاوہ قائم مقام وائس چانسلر کی طرف سے غیر قانونی تقرریوں اور ترقیوں کا بھی ذکر طلبہ ایکشن کمیٹی نے صدر پاکستان سے فوری طور پر سینٹ کا اجلاس بلانے اور انتظامیہ کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق کچھ دن قبل جب وفاقی اردو یونیورسٹی نے طلبہ کی سیمسٹر فیسوں میں ہوشربا اضافہ کیا تو طلبہ ایکشن کمیٹی نے اس پر احتجاج کیا جس پر قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الدین نے طلباء سے وعدہ کیا کہ وہ ان فیسوں پر نظر ثانی کریں گے جس پر طلبہ ایکشن کمیٹی نے اپنا احتجاج موخر کیا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انتظامیہ نے صرف دو شعبہ جات کے علاوہ کسی بھی شعبہ میں فیسوں میں کمی نہیں کی جس پر طلبہ ایکشن کمیٹی نے صدر پاکستان و چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی کو ایک خط میں اس معاملہ کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

منظر عام پر انے والے خط کے مندرجات کے مطابق طلبہ نے اردو یونیورسٹی کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے اس اضافہ کو غیر قانونی اور غیر منظور شدہ قرار دیا ہے ۔ طلبہ کا مدعا ہے کہ جس اکیڈمک کونسل میں ان فیسوں میں اضافے کی منظوری لی گئی قانون کے مطابق اس کی منظوری سینٹ سے ہونا لازمی ہے اور سینٹ سے منظوری حاصل ہونے تک ان فیسوں میں اضافہ نہیں ہو سکتا ہوں ۔

طلبہ ایکشن کمیٹی نے اپنے خط میں موجودہ قائم مقام وائس چانسلر کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی تقرریوں اور ترقیوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ایک طرف انتظامیہ مالی بحران کا جواز بنا کر فیسوں میں اضافہ کر رہی ہے تو دوسری طرف خیر قانونی نئے تقررات اور ترقیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔

طلبہ نے اس معاملہ پر سینٹ کے خصوصی اجلاس کا حوالہ دیا ہے جس میں موجودہ قائم مقام وائس چانسلر پر کسی بھی قسم کی ترقی یا تقرر پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

طلبہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ قائم مقام وائس چانسلر اس وقت ایک متنازعہ اور عارضی ایمرجنسی کمیٹی کی سفارشات کے تحت براجمان ہیں اس تناظر میں بھی انہیں ایسے اقدامات کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہونے والی ترقیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ختم لکھا گیا ہے کہ ان ترقیوں میں کئی ملازمین کو گریڈ 17 بھی دیا جا رہا ہے جس کے لیے سلیکشن بورڈ یا سلیکشن کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا۔

لہذا یہ غیر قانونی عمل ہے ۔ طلباء ایکشن کمیٹی نے اس خط میں اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ ان تمام نئے تقرر کیے گئے اور ترقیاں حاصل کرنے والے ملازمین کو ماہ اگست میں اضافہ شدہ تنخواہ دی جائے گی جس کا بوجھ طلبہ پر ائے گا۔

طلباء ایکشن کمیٹی نے اپنے خط میں صدر پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الدین کے غیر قانونی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں تاکہ سینٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف کاروائی ہو سکے۔

طلباء نے یہ بھی اپیل کی ہے کہ قائم مقام وائس چانسلر کو سینٹ کی طرف سے متعین کردہ اختیارات کے ہی استعمال تک محدود کیا جائے اور مستقل طور پر مسائل کے حل کے لیے سینٹ کا اجلاس بلایا جائے۔

طلبہ ایکشن کمیٹی کے اس خط کی نقول یونیورسٹی کے پرو چانسلر وفاقی وزیر تعلیم، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور تمام اراکین سینٹ کو بھی ارسال کی ہے۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین