انجمن اساتذہ کراچی یونیورسٹی گزشتہ دو ماہ سے لیو انکیشمنٹ کے لیے احتجاج کررہے ہیں۔
انتظامیہ نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے احتجاج کرنے والے بی اے ایس آر کے جلیس قاضی، چیک سیکشن کے افتخار احمد اور فارمیسی کے شکیل احمد گبول کے ٹرانسفر لیٹر جاری کر دیئے گئے۔
اس سے قبل سیکورٹی کی روبینہ کے ساتھ وائس چانسلر صاحب نے سرعام دھمکیاں دیں، اسلامک لرننگ کے سید وقار علی کو گریڈ ١٦ سے ١٤ میں ڈیموٹ کیا، انجنئرنگ کے اشفاق احمد اور وقار علی کو رینجرز کے دفتر بلوایا گیا اور بارہ افراد جن میں درج بالا سب ہی شامل ہیں۔
ان پر ٹرانسپورٹ انچارج کی جانب سے جنرل باڈی جلوس کی من گھڑت بدامنی کا الزام لگوا کر خط جاری کیا.
لیو انکیشمنٹ مانگنے پر اس قدر دھونس دھمکی ٹرانسفر کا ماحول کیوں بنایا جا رہا ہے.
بڑی وجہ یہ ہے کہ انجمن اساتذہ کراچی یونیورسٹی ان تمام واقعات پر وائس چانسلر پر تنقید سے گریزاں ہے جبکہ یہی ملازمین ابھی کچھ ماہ قبل ہڑتال کے دوران اساتذہ کے ساتھ تھے.
وائس چانسلر کی جانب سے یونیورسٹی کے ماحول کو دھونس دھمکی بنانے کے خلاف آواز سب کو اٹھانی ہو گی.
یونیورسٹی کسی کی ذاتی سلطنت نہیں ہے، قوانین پر چلنا سب پر لازم ہے لیکن سب سے پہلے عمل انتظامیہ کو کرنا ہو گا اور لیو انکیشمنٹ ادا کرنا ہو گا اور انتقامی ٹرانسفر، ڈیموشن جیسے اقدامات کو واپس لینا ہو گا.

