وفاقی اردو یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الدین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا وفاقی اردو یونیورسٹی وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے عدم دلچسپی کے باعث شدید مالی بحران کا شکار ہے یونیورسٹی اپنے ذریعہ آمدن پر انحصار کی کوشش کرتے ہوئے فیس ری اسٹریکچر کی گئی جس پر طلبہ کی جانب سے رد عمل کے طور پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔
وائس چانسلر نے واضح کیا کہ جامعہ میں 2019 سے فیس میں اضافہ نہیں کیا گیا ، عالمی وباء کوڈ میں طلبہ کا خیال کیا گیا ملک کے موجودہ معاشی حالات کو دیکھیں یا مہنگائی کی شرح کو سامنے رکھیں تو ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے مسلسل 4 سال سے گرانٹ فکسڈ Constant/ رکھی ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے 3 ہزار ملین گرانٹ کی درخواست کی گئی لیکن بدستور کٹوتی کرتے ہوئے 30% سے25% ہی گرانٹ منظور ہوئی ۔
وائس چانسلر نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی کی دوسری بڑی جامعہ ہے جو اس شہر میں رہنے والوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہی ہے باوجود اس کے صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی اردو یونیورسٹی کی مالی معاونت صفر ہے سندھ کی دیگر جامعات کو سندھ حکومت اور وفاقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن دونوں جانب سے امداد ملتی ہے ۔ سابق وائس چانسلر کے دور میں چانسلر صدر پاکستان کہ روبرو صورتحال واضح کی گئی تو چانسلر صاحب نے کہا کہ فیس اسٹریکچر کا ازسرِ نو جائزہ لیاجائے دیگر ذریعہ آمدن میں الحاق کالجز کے قیام پر گزشتہ 8سال سے پابندی عائد ہے ان حالات میں واحد راستہ یہ تھا کہ فیس کوری اسٹریکچر کریں اس بابت رواں ماہ 2 ؍اگست کو اکیڈمک کونسل اجلاس طلب کیاگیا ۔
اجلاس سے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ 50% فیصد اضافہ کیاجائے ۔ واضح رہے کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کا فیس اسٹریکچر دیگر وفاقی و صوبائی جامعات سے کم ہے ۔ اس موقع پر رجسٹرارڈاکٹر مہہ جبیں ، رئیس کلیہ سائنس ڈاکٹر محمد زاہد ، رئیس کلیہ نظمیات کاروبار ،تجارت ، معاشیات ، ڈاکٹر مسعود مشکور ، ٹریژرار سید اقبال حسین نقوی ، مشیر امور طلبہ محمد افضال بھی موجود تھے ۔

