Friday, January 16, 2026
صفحہ اولNewsلیاقت میڈیکل یونیورسٹی کالونی کے گھر خالی اور جامعہ کراچی کے کیوں...

لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کالونی کے گھر خالی اور جامعہ کراچی کے کیوں نہیں ؟

کراچی : سندھ ہائیکورٹ حیدر آباد سرکٹ بنچ نے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کالونی کے مکانات ریٹائرڈ ڈاکٹرز، افسران اور ملازمین سے خالی کرانے کا حکم دیتے ہوئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں لمس کی ڈاکٹر گلشن آرا کی جانب سے 2016ء میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی رہائشی کالونی کے مکانات جو حاضر سروس ملازمین اور افسران کو دئیے جاتے ہیں ان پر ریٹائرڈ پروفیسرز، ڈاکٹرز، انتظامی افسران اور ملازمین قابض ہیں۔

ان کے بااثر ہونے کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ مکانات خالی کرانے سے قاصر ہے۔ عدالت نے درخواست پر پہلے بھی ریٹائرڈ افسران وملازمین سے گھر خالی کرانے کے احکامات دئیے تھے لیکن ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا ہے ۔

معلوم رہے کہ اسی طرح کی صورت حال جامعہ کراچی کی رہائشی کالونی کی بھی ہے جہاں پر ریٹائرڈ اساتذہ و افسران گزشتہ کئی عرصہ سے رہائش پذیر ہیں ۔ جو جامعہ کراچی کے گھر ۔ سرکاری بجلی ، پانی اور گیس استعمال کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ پنشن سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔

موجودہ انتظامیہ اس لئیے بھی گھر خالی کرانے میں دلچسپی نہیں لیتی کیوں کہ کچھ عرصہ بعد انہوں نے بھی ریٹائرڈ ہو کر اپنے گھروں میں ہی قبضہ کرنا ہے ۔ تاہم حالیہ حیدر آباد سرکٹ بنچ کے فیصلے کو نظیر بناتے ہوئے جامعہ کراچی سے گھر خالی کرائے جا سکتے ہیں ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین