Friday, January 16, 2026
صفحہ اولNewsہری پور کے معروف روحانی بزرگ قاضی عبدالدائمؒ انتقال کر گئے

ہری پور کے معروف روحانی بزرگ قاضی عبدالدائمؒ انتقال کر گئے

ہری پور : ہری پور کے معروف روحانی بزرگ قاضی عبدالدائمؒ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ قاضی عابدالدائم اور قاضی واجدالدائم کے والدِ گرامی ، قاضی محمد رضا، قاضی حافظ حسن رضا اور قاضی حامد رضا کے ماموں اور قاضی چن گل کے چچا تھے ،

ہری پور کے معروف روحانی بزرگ پیرِ طریقت و رہبرِ شریعت، سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کے سجادہ نشین اور صدریہ دربار عیدگاہ شریف کے بزرگ قاضی عبدالدائم رحمۃ اللہ علیہ بقضائے الٰہی اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے ہیں ۔

مرحوم ایک صاحبِ نسبت، متقی اور باعمل بزرگ تھے ۔ دینی و روحانی حلقوں میں ان کی خدمات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ ان کے وصال سے اہلِ علاقہ، عقیدت مندوں اور وابستگان میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ کل بہ روز ہفتہ دن 11:00 بجے عیدگاہ شریف میں ادا کی جائے گی ۔ تمام متعلقین، احباب اور عقیدت مندوں سے شرکت کی درخواست ہے ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

قاضی عبدالدائم 8 جون 1947ء کو پیدا ہوئے ، ابتداء سے انتہاء تک تمام تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ درس نظامی کی تقریبًا ساری کتابیں اپنے والد ماجد سے پڑھیں ۔ حتیٰ کہ عقائد، مناظرہ، ہیئت اور منطق وفلسفہ کی وہ بلند پایہ اور مشکل کتابیں جو، اب درس نظامی میں متروک ہو چکی ہیں اور آج کل کے بیشتر طالب علم ان کے ناموں سے بھی واقف نہیں ہیں ۔ وہ بھی آپ نے سبقاً پڑھی ہیں اور ان پر مکمل عبور حاصل کیا ہے۔ مثلاً خیالی، رشیدیه، شرح چغمینی، میرقطبی، میرزاهد ملاجلال، میر زاهد رساله قطبیه، میر زاهد امورعامه، قاضی مبارک، حمدالله، صدرا اور  شمس بازغه   وغیرہ۔

1383ھ 1964ء دارالعلوم نعمانیہ لاہور میں دورہ حدیث کے امتحان میں شرکت کی اور الشہادة العالمیہ کی سند جو ایم۔ اے کے مساوی ہے، خصوصی امتیاز سے حاصل کی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جب آپ دورہِ حدیث کے امتحان میں شریک ہوئے اس وقت تک آپ نے سوائے مشکوة شریف کے حدیث کی کوئی کتاب پڑھی ہی نہیں تھی، نہ ہی حضرت معظم نے آپ کو امتحان دینے کے لئے لاہور بھیجا تھا ؛ بلکہ اصل صورت حال یہ تھی کہ ان دنوں حضرت معظم کے ایک شاگرد مولانا محمد یوسف صاحب دارالعلوم نعمانیہ میں مدرس تھے ۔

حضرت معظم نے آپ کومولینٰا کے پاس لاہور اس لئے بھیجا تھا کہ اس دفعہ امتحان کے طریق کار وغیرہ کا جائزہ لے لیں تاکہ آئندہ سال جب صحاح ستہ کا امتحان دینے کسی مدرسے میں جائیں تو طریق کار سے ناواقفیت کی بنا پر کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مگر وہاں جا کر آپ کا ارادہ امتحان دینے کا ہو گیا۔ مولانا محمد یوسف صاحب کی کوششوں سے انتظامیہ نے آپ کو شرکت کی اجازت دے دی اور یوں آپ نے صحاح ستہ پڑھے بغیر امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس حیرت انگیز کامیابی میں آپ کی غیر معمولی ذہانت کا بھی یقینًا دخل ہے مگر آپ فرماتے ہیں کہ اس کا اصل سبب یہ تھا کہ مجھے حضرت معظم نے مشکوة شریف اتنے مفصل اور بھرپورطریقے سے پڑھائی تھی کہ وہی معلومات کافی ثابت ہوئیں اور میں اللہ کے فضل سے بآسانی یہ مرحلہ سر کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

1969ءمیں پندرہ پارے محترم جناب قاری منہاج الدین صاحب سے اور پندرہ پارے محترم قاری فقیر محمد صاحب سے صرف چھ مہینے میں تجوید کے ساتھ یاد کئے اور تقریبًا 18سال تک مسلسل تراویح میں قرآن مجید سنایا۔ آج کل آپ کے صاحبزادے قاضی عابدالدائم عابدصاحب رمضان میں سناتے ہیں ؛جبکہ آپ صبح کے فرضوں میں دو یا تین رکوع تسلسل کے ساتھ پڑھتے ہیں اور سات آٹھ ماہ میں قرآن مجید ختم کر دیتے ہیں۔ ختم والی صبح پرتکلف ناشتے سے احباب کی تواضع کرتے ہیں۔

آپ کی معروف تصنیفات میں سیدالورٰی تین جلدوں ، حرمین شریفین کے سفرنامہ پر کتاب بلاوا ، حیات صدریہ ، حقیقت یا فسانہ ؟ ، سایہ ِ مصطفی ، رونمائیاں وغیرہ سمیت متعدد مقالات بھی لکھے ہیں ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین