کراچی : برطانوی حکومت نے غیر ملکی طلباء کے لیے کام کے اوقات میں اضافہ کر کے ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کی ایک اور راہ تلاش کر لی ہے ۔ دی ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ برطانوی حکام تنخواہ کے اوقات کار کو 20 سے 30 گھنٹے فی ہفتہ تک لے جانے کے لئے کوشاں ہیں ۔ اس بات پر اتفاق ہو سکتا ہے کہ اس ٹائم لمٹ کو ختم ہی کر دیا جائے ۔
برطانوی حکام نے یہ اقدام اس لئے اٹھایا ہے کہ وہ برطانوی ایک باہر سے آنے والے طلبا کو ملازمت کے مواقع بھی دے سکیں اور اس کے علاوہ ریٹیل جیسی صنعتوں کی کمی کو بھی دور کیا جا سکے ۔
اس کے علاوہ برطانوی حکومت رکاوٹوں کو کم کرنے اور طلباء کو مزید کام کرنے کی ترغیب دینے کے طریقوں پر بھی غور کر رہی ہے ۔ تاہم آئیڈیاز ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور ابھی پوری انتظامیہ کی طرف سے منظور ہونا باقی ہے ۔
مذید پڑھیں : اردو بولنے پر طالبعلم کی تذلیل کرنے والے سولائزیشن سکول کیخلاف انکوائری کمیٹی قائم
برطانوی ہوم سکریٹری سویلا بریورمین Suella Braverman’s کا خیال ہے کہ ملک میں غیر دستاویزی امیگریشن کو کم کرنے کے لئے یہ خیال مفید ثابت ہو سکتا کہ غیر ملکی طلباء کو زیادہ گھنٹے کام کرنے کی اجازت دی جائے ۔کیوں کہ ان سے لیبر مارکیٹ کے خلاء کو پُر کرنے میں مدد ملے گی بلکہ وہ اپنے ویزے سے باہر رہنے یا غیر قانونی تارکین وطن بننے سے بھی باز آئیں گے ۔
برطانوی حکومت طلباء کو مزید کام کا تجربہ حاصل کرنے اور اپنی کمائی میں اضافہ کرنے کا موقع فراہم کر کے ان کی مدد کرے گی۔

