پیر, فروری 26, 2024
صفحہ اولتازہ ترینوفاقی محتسب:تجد ید عہد کا سال

وفاقی محتسب:تجد ید عہد کا سال

(رپورٹ تیا ر کردہ:ڈاکٹر انعام الحق جا وید)

وفاقی حکومت کے ایک ریٹا ئر ڈ افسر کو 9 سال بعد پنشن کی رقم کے 95 لا کھ روپے ادا کر وائے گئے۔محکمہ ڈاک کے معذ ور ملا زم کی ریٹا ئر منٹ کے بعد اس کے بیٹے کو30 دن کے اندر ملا زمت دینے کا حکم دیا گیا، کو ئٹہ میں سو راب ہو شا ب روڈN-85 کے متا ثر ین کو این ایچ اے سے ساڑ ھے پانچ کروڑ سے زیا دہ رقم بطور معا وضہ دلوا ئی گئی۔

 

بہا ولپور کی نوا حی بستی جام نظام الد ین آ ہنہ کے مکینوں کی درخواست پر پو رے گاؤں کی بجلی بحال کرائی گئی۔ سعو دی عرب اور لیبیا کی جیلوں میں قید پا کستا نیوں کو رہا ئی دلوا کر پا کستان پہنچوا یا گیا۔ خا تون کی شکا یت پر اے ٹی ایم سے چو ری شدہ رقم اس کے ا کا ؤ نٹ میں منتقل کرا ئی گئی۔

 

ایک مکین کے ساڑ ھے تین لا کھ روپے کے بجلی کے نا جا ئز بل کو درست کرا کے نیا بل جا ری کرا یا گیااور برطا نیہ میں مقیم پا کستا نی کی شکا یت پر نیب کے ذریعے اس کے پلا ٹ کی قیمت واپس دلوا نے کا بندوبست کیا گیا۔

 

سال رواں کی پہلی سہ ما ہی میں اس نو عیت کے سینکڑ وں کیسز میں شکا یت کنند گان کو ریلیف فرا ہم کر نے والے ادارے وفاقی محتسب سیکرٹیر یٹ کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں وفاقی سرکاری اداروں کی بد انتظا می،کا ہلی اور بے تو جہی کے با عث ایک عام آ دمی سے ہو نے والی ناانصا فی اور زیا دتیوں کا ازالہ صرف 60 دنوں میں کردیا جا تا ہے۔

 

یہاں نہ کو ئی فیس ہے اور نہ ہی وکیل کی ضرورت۔شکا یت کنند ہ سا دہ کاغذ پر درخواست لکھ کر بذ ریعہ ڈاک، آن لا ئن یا موبائل ایپ ارسال کر سکتا ہے اور خود بھی آ کر جمع کرا سکتا ہے۔ شکا یت مو صول ہو تے ہی اس پر عملدرآمد شر وع ہو جا تا ہے اور 24 گھنٹوں میں سائل کو اس کے مو با ئل پر اطلا ع فرا ہم کر نے کے ساتھ ساتھ اس پر با قا عدہ کارروائی کا آ غا ز ہو جا تا ہے۔

 

واضح رہے کہ آج سے 40 سال قبل 24 جنو ری 1983ء کو وفاقی محتسب سیکر ٹیر یٹ کا قیام عمل میں آ یا تھا اور اب سا ل2023ء کو تجد ید عہد کا سال قرار دیتے ہو ئے یہ ادارہ پر عز م ہے کہ عوام النا س کی شکا یات کے ازالے کے لئے جو اہدا ف مقرر کئے گئے تھے۔

 

ان کی روشنی میں آ ئند ہ بھی گڈگو رننس، قا نون کی حکمرا نی اور انسا نی حقو ق کے تحفظ کے لئے بھر پور کردار ادا کیا جا تا رہے گا۔ اس ادارے کے حوا لے سے جہاں یہ بات باعث اطمینان ہے کہ گز شتہ 40 بر سوں میں 19 لا کھ سے زائد سا ئلین کی شکا یات کاا زالہ کیا گیا وہیں یہ امر بھی خوش آ یند ہے کہ پچھلے سال یعنی 2022ء میں 157,770 شکا یات کے فیصلے کر کے سا ئلین کو ریلیف فرا ہم کیا گیا جو کہ سال 2021ء کے مقا بلے میں 48 فیصد زیا دہ ہے جب کہ 90 لا کھ سے زائد بیرون ملک مقیم پا کستا نیوں کے مسا ئل کے حل کے لئے الگ سے قا ئم کئے گئے ۔

 

”شکا یات کمشنر سیل برا ئے اوورسیز پاکستانیز“ کے ذریعے اوورسیز پا کستا نیوں کی137,423شکایات کاا زالہ کیا گیا جو کہ سال 2021 ء کے مقابلے میں 133فیصد زیادہ ہیں۔

 

اسی طرح موجودہ سال2023 ء کی پہلی سہ ما ہی میں وفاقی محتسب کو47,197 شکا یات موصول ہو ئیں جو پچھلے سال کی پہلی سہ ما ہی سے 43 فیصد زیا دہ ہیں جب کہ ”شکایا ت کمشنر سیل برا ئے اوورسیز پا کستا نیز“میں بیرون ملک مقیم پا کستا نیوں کی 45,021 شکا یات موصول ہو ئیں جو پچھلے سال کی پہلی سہ ما ہی کے مقا بلے میں 102 فیصد زیا دہ ہیں۔

 

شکا یات میں یہ اضا فہ ایک طرف تو شفا فیت اور میر ٹ کی پا سدا ری کے با عث وفاقی محتسب پر لوگوں کے بڑھتے ہو ئے اعتماد کا مظہر ہے اور دوسر ی طرف اس میں وفاقی محتسب اعجاز احمد قر یشی کے نئے ویژن، نئے اقدا مات اور نئی پا لیسیوں کا بھی بہت زیا دہ عمل دخل ہے مثلاًسینئر ایڈ وائز روں کی ٹیموں کے ذریعے مختلف پبلک سر وس اداروں کے اچا نک معا ئنے اور وہاں پر موجود لوگوں کے مسا ئل کے حل کے لئے موقع پر ہی احکا مات کا اجراء اور دور دراز کے کم تر قی یا فتہ علاقوں میں کھلی کچہر یوں کا انعقا د کیا گیا۔

 

جہاں وفاقی محتسب کے سینئر افسران خود جا کر شکا یات سنتے ہیں اور وہیں پر فیصلہ کر کے متعلقہ محکموں کے نمائند گان سے اس پر عملدرآمد کرا تے ہیں۔ اسی طرح OCRپروگرام کے تحت ملک بھر میں پھیلے ہو ئے وفاقی محتسب کے17 علا قا ئی دفا تر کے افسران مختلف چھو ٹے شہروں اور تحصیلوں کی سطح پر جا کر لوگوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فرا ہم کر رہے ہیں۔

 

وفاقی محتسب اعجا ز احمد قر یشی کی شروع سے یہ کو شش رہی ہے کہ پسما ند ہ علا قوں کے غریب عوام کی شکا یات کے ازالے پر خصوصی تو جہ دی جائے چنا نچہ اس سلسلے میں انہوں نے حال ہی میں صدہ(ضلع کرم) اور وانا (جنو بی وزیر ستان)میں دو نئے ذیلی دفا تر بھی کھولے ہیں تا کہ شکا یات کنند گان کو ان کے گھر کے قریب انصاف فرا ہم کیا جا سکے جس سے انہیں آمد ورفت کے اخرا جات اور وقت کی بچت ہو گی۔

 

مز ید برآں کیسوں کی سما عت کی تاریخوں پر بھی شکایت کنند گان کو یہ سہو لت حا صل ہے کہ وہ وڈیو کال کے ذریعے اس میں شر کت کر کے اپنا مو قف بیان کر سکتے ہیں۔ اسی طر ح کچھ عر صہ قبل IRD کے تحت ”با ہمی تنا زعات کے غیر رسمی حل“کا پروگرام بھی شر وع کیا گیا ہے جس میں باہمی رضا مندی سے مصا لحتی انداز میں لوگوں کے مسا ئل حل کئے جارہے ہیں۔

 

یہ اور اس نو عیت کے دیگر پروگرا موں کے ساتھ ساتھ وفاقی محتسب اعجا ز احمد قر یشی کی خصو صی ہدا یات کے زیر اثر ادارے کے افسران اور عملے کے عوام دوست رویے کے با عث بھی مختلف سرکاری محکموں کے ستا ئے ہوئے لوگ وفاقی محتسب کی طرف رجو ع کررہے ہیں۔

 

وفاقی محتسب کا دائر ہ اختیار وفاقی سر کا ری اداروں سے متعلق صرف شکا یات کے ازالے تک محدود نہیں بلکہ وہ ما ہر ین کے ذریعے یہ تحقیق بھی کرتا ہے کہ مختلف وفاقی محکموں سے لوگوں کو جو شکا یات پیدا ہوتی ہیں۔

 

اس کی بنیا دی وجو ہ کیا ہیں؟ اس ضمن میں مختلف اداروں کے نظام کا جا ئزہ لیا گیا اور نا مور شخصیات پر مشتمل کمیٹیوں کے ذریعے 28اسڈ ی رپورٹس تیار کر وائی گئیں جن میں پیش کی گئی سفا رشات پر عملدرآمد کے باعث ان محکموں کے سسٹم میں تبد یلیاں لا ئی گئیں جس سے بے شمار لوگوں کو فا ئدہ پہنچا۔مثلاًپہلے لوگوں کو پنشن لینے کے لئے نیشنل بینک کے سامنے گھنٹو ں لا ئنوں میں کھڑا ہونا پڑ تا تھا اب ایک خود کار نظام کے ذریعے گھر بیٹھے پنشن ان کے بینک اکاؤنٹس میں جمع ہو جا تی ہے۔

 

اسی طر ح پہلے نیشنل سیو نگز سنٹرز سے منا فع کی رقم نکلوا نے کے لئے بہت زیادہ وقت ضا ئع ہو تا تھا اب یہ منا فع صارفین کے اکا ؤ نٹ میں چلا جا تا ہے اور وہ جب چاہیں، اسے اپنی چیک بک کے ذریعے نکلوا سکتے ہیں۔

 

بچوں کے حقو ق کے تحفظ اور سائبر کرا ئمز کی رپورٹ پر بھی قا نون سازی کا عمل جا ری ہے۔ جیل اصلا حا ت کے حوالے سے تیار کردہ رپورٹ کے بھی خا طر خواہ نتائج بر آ مد ہو رہے ہیں اوراس سلسلے میں وفاقی محتسب اعجاز احمد قر یشی خود چاروں صو بوں میں جاکر چیف سیکرٹر یز، آ ئی جی جیل خانہ جات اور دیگر متعلقہ اداروں کے سر برا ہوں سے میٹنگز کر تے ہیں۔

 

اس کے ساتھ ساتھ شکا یات کے جلد از جلدحل کو یقینی بنانے کے لئے وفاقی محتسب کی ہدا یات کی روشنی میں بیشتر وفاقی اداروں نے اپنے ہاں شکا یات سیل قا ئم کر رکھے ہیں اور اگر ادارہ جاتی سطح پر کو ئی شکایت 30 دن میں حل نہ ہو تو وہ ایک خود کار نظام کے تحت وفاقی محتسب کے کمپیو ٹر ائزڈ سسٹم پر منتقل ہو جا تی ہے اور پھر وفاقی محتسب سیکرٹیریٹ میں اس پر کا رروائی شر وع کر دی جا تی ہے۔

 

ای او بی آ ئی کی طرف سے غر یب مز دوروں کو پنشن کی عدم ادا ئیگی، ڈینگی کی وبا ء کے دوران حفا ظتی اقدامات اور ادویات کی فرا ہمی، ٹر یفک کے مسا ئل اور مفا د عا مہ کے دیگر معا ملا ت کے سلسلے میں ازخود نوٹس (Suo Moto Notice) لینے کے علا وہ گز شتہ برس وفاقی محتسب اعجا ز احمد قریشی کی خصو صی ہدا یت پر تمام علا قا ئی دفا تر کے سینئر افسران نے بلوچستان، ملتان، بہا ولپور، ڈی آ ئی خان اور دیگر علا قوں میں مو قع پر جاکر سیلاب متا ثر ین کی امدا دی کا رروائیوں میں شر کت کی اور مقا می انتظامیہ کے تعاون سے335 اسکولوں میں ریلیف کیمپ قا ئم کر کے 97910 سیلاب متا ثر ین کو بنیا دی سہو لیات فرا ہم کی گئیں۔

 

بجلی کے نظام کو درست کروایا گیا، نئے ٹر انسفا رمر لگوا ئے گئے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بے سہا را لوگوں کو پیسے دلوانے کے ساتھ ساتھ ان کی دیگر مشکلات حل کر نے میں مدد کی۔

 

اسی طر ح یو ٹیلٹی اسٹورز پر اشیا ئے خورد و نوش کی کمی اور قیمتوں کی زیا دتی کا معا ملہ سا منے آ نے پر وفاقی محتسب کے تمام دفا تر کے افسران کی انسپیکشن ٹیموں نے ملک بھر کے یو ٹیلٹی اسٹورز کے دورے کئے اور خر یداروں کے لئے بنیا دی ضروریات کی چیزوں کی طے شدہ قیمتوں پر فرا ہمی کو یقینی بنایا۔

 

انصاف کی فرا ہمی ہر معا شر ے اور ملک کی بنیا دی ضرورت ہوتی ہے۔ وفاقی محتسب سیکر ٹیر یٹ کی طرف سے مفت انصاف کی فرا ہمی میں کا میا بی دراصل ملک میں گڈ گو رننس، قا نون کی حکمرا نی اور انسا نی حقوق کی حفا ظت کی ضا من ہے اور اسی لئے صدر پا کستان اس ادارے کو Island of Excellance قرار دے چکے ہیں۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

مقبول ترین