اتوار, جولائی 14, 2024
صفحہ اولتازہ ترینحبیب یونیورسٹی کے کانووکیشن میں چھٹی گریجویشن کلاس کا جشن

حبیب یونیورسٹی کے کانووکیشن میں چھٹی گریجویشن کلاس کا جشن

حبیب یونی ورسٹی کے سالانہ کانووکیشن برائے سال 2023 کی تقریب میں حبیب یونیورسٹی کی چھٹے گریجویشن کلاس کا جشن ،  پاکستان کے پہلے لبرل آرٹس اینڈ سائنسز کے ادارے حبیب یونیورسٹی نے اپنی تاریخ کے چھٹے کانووکیشن تقریب کی میزبانی کی۔ یہ شاندار تقریب سال 2023 کی کلاس کی غیر معمولی کامیابیوں کی علامت بن گئی۔ جس میں طلبہ کے تعلیمی سفر بلکہ یونیورسٹی میں ان کے گہرے خود شناسی، ناقابل شکست رہنے اور ثابت قدمی کی بھی نمائندگی ہوئی۔

مجموعی طور پر، اس سال 203 طلباء نے یونیورسٹی کے دو اسکولوں، یعنی دھنانی اسکول آف سائنس اینڈ انجینئرنگ اور اسکول آف آرٹس، ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز سے ڈگریوں کے ساتھ گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔

دھانانی اسکول آف سائنس اینڈ انجینئیرنگ سے 98 طلباء کو الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر انجینئرنگ، اور کمپیوٹر سائنس میں بیچلر آف سائنس کی ڈگریاں دی گئیں۔ جبکہ اسکول آف آرٹس، ہومینیٹیز اینڈ سوشل سائنسز سے مجموعی طور پر 105 طلباء کو ڈگریاں دی گئیں۔ طلباء کو سماجی ترقی اور پالیسی میں آنرز کے ساتھ بیچلر آف سائنس کی ڈگری، اور کمیونیکیشن اینڈ ڈیزائن، اور تقابلی بشریات میں آنرز کے ساتھ بیچلر آف آرٹس کی ڈگریاں دی گئیں۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی کانووکیشن کی تقریب کو آن لائن اسٹریم کیا گیا جس سے حبیب یونیورسٹی کی عالمی برادری بشمول حبیب یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے ممبران، حبیب یونیورسٹی فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران، گریجویٹ طلباء اور دیگر کو بھی اپنے گھروں سے بھی تقریبات میں شامل ہونے کا موقع ملا۔

تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد تقریب میں قومی ترانہ پڑھا گیا۔ گھر پر تقریب دیکھنے والے سامعین نے اپنے تبصروں اور ورچوئل تالیوں کے ذریعے طلبہ کی کارکردگی کو سراہا۔

کمیونیکیشن اینڈ ڈیزائن میں میجر کرنے والی وجیہہ شکیل کو 2023 کی کلاس کے ویلڈیکٹورین کے طور پر کیا گیا ہے۔ طالب علمی کے چار سالہ سفر کے دوران شاندار طرز عمل کی بنیاد پر ویلڈیکٹورین کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ وجیہہ شکیل نے اپنی تقریر میں بتایا کہ انہوں نے کس طرح پچھلے چار سالوں میں نہ صرف حبیب یونیورسٹی کو آج کے بہترین اور شاندار انسٹی ٹیوٹ میں تبدیل ہوتے دیکھا بلکہ وہ خود بھی اس کے ساتھ آگے بڑھتی چلی گئیں۔ اس دوران وبائی امراض کے دوران میں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے پر انہوں نے اپنے تمام پروفیسرز اور انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

وجہیا شکیل کا مزید کہنا تھا کہ "ہم میں سے کچھ اپنے خاندانوں کے قابل فخر پہلے فارغ التحصیل گریجویٹس ہیں، ہم میں سے کچھ نے حبیب یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ہی اپنی پہلی ملازمتیں بھی حاصل کیں، ہم میں سے کچھ کو مشکل تجربات سے گزرنا پڑا، ہم سب جو اس یونیورسٹی میں پہلے دن تھے اب سے بہت مختلف ہیں۔

حبیب یونی ورسٹی کے صدر واصف رضوی نے بھی کانووکیشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے 2023 کی گریجویٹ کلاس کو مبارکباد دی، اور وبائی مرض کے دوران ان کی مستعدی اور کام کی اخلاقیات کی تعریف کی۔ انہوں نے ادارے کو دنیا کی نئی حقیقت سے ہم آہنگ کرنے میں مدد کرنے کے لیے معزز فیکلٹی، خاندانوں کے تعاون اور یونیورسٹی کی معزز قیادت کی بھی تعریف کی۔

حبیب یونیورسٹی کے صدر واصف رضوی نے مزید بتایا کہ پاس آوٹ ہونے والے 203 طلباء میں سے 125 لڑکیاں اور 78 لڑکے بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ میں مستحق طلباء کو فیس میں نمایاں طور پر سبسڈی دی جاتی ہے، پاس آوٹ ہونے والے 173 طلباء یعنی ان میں سے 85% نے مختلف قسم کے وظائف کے تحت یہاں تعلیم حاصل کی۔

ایک بہترین کاروباری شخصیت اور اختراع کار اور کمپیوٹرز اینڈ سٹرکچرز انکارپوریشن کے صدر اور سی ای او، اشرف حبیب اللہ نے کانووکیشن میں خصوصی تقریر کی اور فارغ التحصیل طلباء کو حوصلہ افزائی کے الفاظ پیش کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ ان کا کام ابھی شروع ہوا ہے۔ خصوصی مقرر اشرف حبیب اللہ کا مزید کہنا تھا کہ بنیادی طور پر تین چیزیں ہیں، جو ہم اپنی زندگی میں چاہتے ہیں، صحت، خوشی اور دولت اور یہ صرف بامعنی معاشرے کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہیں جس کی تکمیل میں طلبہ کا کردار اہم ہے۔

کونوکیشن کے مہمان خصوصی گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے پاس طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ اور نوجوان مستقبل کے معمار ہیں۔ اگرچہ پاکستان اس وقت بعض سنجیدہ مسائل کا شکار ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ نوجوان پاکستان کو مستقبل میں ان مسائل سے نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

گورنر سندھ کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی وہ کسی کانووکیشن میں شرکت کے لئے جاتے ہیں تو وہ یہ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ گریجویٹ کلاس کے نام اپنے تحریکی پیغام میں، حبیب یونی ورسٹی کے چانسلر رفیق ایم حبیب نے 2023 کی کلاس کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ فارغ اتحصیل طلبہ یوحسین کی اقدار پر قائم رہتے ہوئے دنیا میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

حسب روایت، چانسلر کا یوحسن تمغہ جو کہ کانووکیشن کا سب سے باوقار ایوارڈ ہوتا ہے وہ گریجویشن کرنے والے طالب علم کو دیا جاتا ہے جو دونوں تعلیمی لحاظ سے بہترین اور یوحسن کے فلسفے کو مجسم کرتاہے۔ تقریب کا اختتام 2023 کی کلاس کے چانسلر، رفیق ایم حبیب، بورڈ کے ممبران، حبیب یونیورسٹی کے صدر جناب واصف رضوی، تعلیمی امور کے نائب صدر ڈاکٹر عامر حسن، اور فیکلٹی کے ساتھ ایک گروپ فوٹو لینے کے ساتھ ہوا۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

مقبول ترین