Wednesday, February 4, 2026
صفحہ اولتازہ ترینجامعہ پر بوجھ بننے والے شعبہ جات کو بند کرنے پر غور...

جامعہ پر بوجھ بننے والے شعبہ جات کو بند کرنے پر غور کر رہے ہیں، وی سی گومل یونیورسٹی

ڈیرہ اسماعیل خان( ) گومل یونیورسٹی میں طلباء کی تعداد کو 30 ہزار تک لے جانا میری ترجیحات میں شامل ہیں اور اس کیلئے تمام شعبہ جات کے سربراہان نے کام کرنا ہے ، نئے شعبہ جات، کورسز، ڈپلومہ کے اجراء کیلئے یونیورسٹی انتظامیہ ہمیشہ شعبہ جات کے سربراہان کے ساتھ ہے۔

 

ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ نے 43ویں اکیڈمک کونسل کی میٹنگ کے دوران کیا۔

 

اس موقع پر رجسٹرار گومل یونیورسٹی ڈاکٹر محمد شعیب خان سمیت تمام شعبہ جات کے ڈینزاور تمام ممبران بھی شریک تھے۔ میٹنگ میں ڈائریکٹر اکیڈمکس وسیم خان کٹی خیل نے ایجنڈا آئٹم معزز ممبران کے سامنے پیش کئے۔

 

میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی سے منسلک ایفی لیٹڈ پرائیویٹ کالجز کے امتحانات گومل یونیورسٹی ہی لے گی اور اس حوالے سے کنٹرولر امتحانات اپنی تمام ترتیاری جلد از جلد مکمل کر ے۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پرائیویٹ ایفی لیٹڈ کالجز جو گومل یونیورسٹی کے قوانین پر عملدرآمد نہیں کریں گے ان کو بند کر دیا جائے گا کیونکہ گومل یونیورسٹی کی عزت و قار کا خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور کسی کو بھی اس قدیم مادر علمی کا تقدس پامال کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔

 

وائس چانسلر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ گومل یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں گزشتہ کئی سالوں سے طلباء کی تعداد انتہائی حد تک کم ہو چکی ہے اور نہ ہی اس شعبہ جات کی طر ف سے شعبہ صحافت میں طلباء کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ نئے کورسز یا ڈپلومہ شروع کرنے کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ شعبہ صحافت یونیورسٹی اس وقت یونیورسٹی کے مالی خسارے کا باعث بنا ہوا ہے۔

 

لہٰذا آئندہ گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ میٹنگ میں شعبہ صحافت کو بند کرنے کے حوالے سے ایجنڈا آئٹم رکھا جائے گااور اس کے بعد باقی وہ شعبہ جات جہاں طلباء کی تعداد انتہائی کم ہے اور وہاں پر داخلے نہیں ہو رہے اور وہ شعبہ جات یونیورسٹی کے اوپر بوجھ بنے ہوئے ہیں ان کو بھی بندکریں گے کیونکہ یونیورسٹی ان ملازمین کی تنخواہوں کا بوجھ بالکل نہیں اٹھا سکتی۔

 

وائس چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ تمام اساتذہ، افسران، ملازمین کو چاہئے کہ وہ اپنے شعبہ جات کی بہتری اور اس قدیم مادر علمی کی ترقی و خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں ۔

 

کام نہ کرنے والے ملازمین کی یونیورسٹی میں کوئی جگہ نہیں ۔ کیونکہ اسی ادارے کی بقاء ہی میں سب کی بقاء ہے ۔گومل یونیورسٹی میں طلباء کی تعدادکو30ہزار تک لے جانا میری ترجیحات میں شامل ہیں اور اس کیلئے تمام شعبہ جات کے سربراہان نے کام کرنا ہے۔

 

نئے شعبہ جات ،کورسز، ڈپلومہ کے اجراء کیلئے یونیورسٹی انتظامیہ ہمیشہ شعبہ جات کے سربراہان کے ساتھ ہے۔ اکیڈمک کونسل میں مختلف نوعیت کے اہم کیسز کو حل کرنے کیلئے مختلف کمیٹیاں بھی بنائیں ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین