تحریر : زاہد احمد
تین روز قبل اسلامی جمعیت ِ طلبا ٕ کراچی کے زیر ِاہتمام جامعہ ٕ کراچی میں ”پری بجٹ سیمینار“ کا انعقاد ہوا جس میں مجھ ناچیز کو ”سندھ کے سرکاری کالجوں کو درپیش مالی مساٸل اور ان کا حل“ کے موضوع پر اظہار ِخیال کی دعوت دی گٸی ۔
مذکورہ سیمینار سے خطاب کے دوران میری جانب سے معروضی حالات میں سرکاری کالجوں کو درپیش مالی مساٸل کو مدّ ِ نظر رکھتے ہوٸے چند تجاویز پیش کی گٸیں ۔
مذکورہ سیمینار کی کارواٸی کو نہ صرف سوشل میڈیا پر شٸیر کیا گیا بلکہ کچھ علاقاٸی و قومی اخبارات نے بھی سیمینار سے میرے خطاب اور میری جانب سے پیش کردہ تجاویز کو جلی حروف میں شاٸع کیا ۔
سندھ کے سرکاری کالجوں کے مالی وساٸل اور انہیں درپیش مساٸل کے ضمن میں میری نیک نیتی اور خلوص کے جذبے کے تحت پیش کردہ تجاویز کو جہاں کچھ دوستوں اور متعلقین نے سراہا وہیں کچھ دوستوں اور متعلقین نے ان تجاویز پر اپنے تحفّظات ظاہر کرتے ہوٸے انہیں حدف ِ تنقید بھی بنایا ۔
معترضین کا نقطہ ٕ نظر یہ رہا کہ سرکاری کالجوں کے لٸے فی زمانہ ، کم یا زیادہ ، جتنا بجٹ بھی مختص کیا جاتا ہے اس کا استعمال دُرست اور شفّاف انداز میں نہیں ہورہا چنانچہ اگر بجٹ میں مزید اضافہ بھی کردیا جاٸے تو اس کا فاٸدہ ، موجودہ نظام کے تحت کالجوں یا ان میں زیر ِ تعلیم طلبا ٕ و طالبات کو نہیں بلکہ کالج پرنسپل اور موجودہ سسٹم کے اسٹیک ہولڈرز (وینڈر ، ڈاٸریکٹوریٹس ، اے جی آفس اور آڈیٹرز وغیرہ) کو ہی پہنچے گا ۔
میری دانست میں میری جانب سے پیش کردہ تجاویز پر اعتراضات اُٹھانے والے دوستوں نے یہ اعتراضات ”اعتراض براٸے اعتراض“ کے طور پر نہیں بلکہ نیک نیتی اور اصلاح ِ احوال کے جذبات کے تحت اُٹھاٸے ہیں اس لٸے میں ان اعتراضات کو نہ صرف اہمیت دیتا ہوں بلکہ ان اعتراضات کی روشنی میں اصلاح ِاحوال کا بھی خواہاں ہوں ۔
معترضین کا کہنا ہے کہ سرکاری کالجوں کے لٸے سالانہ مالیاتی بجٹ میں مختص رقوم جو ”وینڈر“ کے توسّط سے کالج پرنسپلز کو فراہم کی جاتی ہیں ، ان کا تصرّف پرنسپل (ڈی ڈی او) کی صوابدید ہوتی ہے ۔ یہ رقوم عموماً شفّاف انداز میں خرچ نہیں ہوتیں ۔
مختلف مدات (ہیڈز) کے تحت مختص رقوم کا استعمال شفّاف انداز میں ہوتا ہوا نظر نہیں آتا ، کالجز بعض بنیادی ضروریات اور سہولیات سے محروم نظرآتے ہیں اور بجٹ میں مختص رقوم کا کماحقّہُ استعمال نظر نہیں آتا نیز اس ضمن میں پرنسپل سے بھی کوٸی باز پُرس نہیں کی جاسکتی اور اگر کہیں پرنسپل سے اس ضمن میں کوٸی سوال کیا بھی جاٸے تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ مختص کردہ رقوم جو پہلے ہی مختلف نوعیت کے ٹیکسز اور سرچارجز کی کٹوتیوں کے بعد ناکافی ہوتی ہیں ، فیلڈ آفسز ، وینڈر ، آڈیٹر و دیگر متعلقین کی خوشنودی میں ہی تمام ہوجاتی ہیں ۔
کالجوں کا سالانہ آڈٹ بھی براٸے نام اور رسماً ہی ہوتا ہے ۔ سرکاری کالجوں میں بجٹ میں مختص رقوم کے استعمال کے حوالے سے سامنے آنے والے اعتراضات و خدشات کو دور کرنے کی غرض سے میں مندرجہ ذیل تجاویز پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں :
١ ۔ کالجوں میں پرنسپلز کی تعیناتیاں شفّاف اور سو فیصد میرٹ (سینیاریٹی کم فٹنس کے اصولوں پر) کی جاٸیں ۔
٢ ۔ ”ڈی ڈی او شپ“ کے اختیارات ”مالیاتی قواعد“ کی رُو سے صرف پرنسپلز کو ہی عطا کٸے جاٸیں ۔
٣ ۔ پرنسپلز کی انتظامی ، مالی ، تدریسی اور خاص طور پر اخلاقی پہلوٶں سے باقاعدہ تربیت کا نظام وضع کیا جاٸے ۔
٤ ۔ جس طرح حال ہی میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے قانون سازی کرکے چیف جسٹس آف پاکستان کے بعض اختیارات ، فرد ِ واحد سے لے کر سپریم کورٹ کے تین سینٸر موسٹ ججز (بشمول چیف جسٹس) کو منتقل کرکے اختیارات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہےاگر اسی طرز پر سرکاری کالجوں کے پرنسپلز کے ، بجٹ میں مختص رقوم کے استعمال کے اختیارات ( جو اس وقت فرد ِواحد کا اختیار اور صوابدید ہے) ، پرنسپل سے لے کر کالج کے تین سینٸر موسٹ اساتذہ (بشمول پرنسپل) کو منتقل کرنے کا ایک انتظامی حکم جاری کردیا جاٸے ۔
٥ ۔ کالجوں کے مالی معاملات میں محکمے یا محکمے کے ماتحت فیلڈ آفسز اور آفیسرز کی مداخلت قطعی بند کی جاٸے ۔ اگر مندرجہ بالا تجاویز پر عمل کیا جاٸے تو امید کی جاسکتی ہے کہ مذکورہ سیمینار میں پیش کردہ میری تجاویز کے معترضین کے خدشات کو دور کرنے میں بڑی حد تک مدد مل سکے گی ۔
سرکاری کالجوں میں مالی بے قاعدگیوں کی شکایات کو دور کرنے کی غرض سے کالجوں کے جملہ اسٹیک ہولڈرز (تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف ، طلبا ٕ اور انکے والدین ، فیلڈ آفسز، میڈیا اور سول سوساٸیٹی) کی بھی ذمّہ داری بنتی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر دستیاب ، کالجوں کے سالانہ بجٹ کا جاٸزہ لیں اور دیکھیں کہ مختص کردہ رقوم کا درست اور شفّاف انداز میں استعمال ہورہا ہے یا نہیں اور اگر اس سلسلے میں کوٸی بدعنوانی ، بد نیتی ، بدانتظامی ، تساہل یا اعتراض سامنے آٸے تو نہ صرف اس کی نشاندہی کی جاٸے بلکہ متعلقہ فورم پر اس کی شکایت بھی کی جاٸے ۔

