ڈاکٹر خالد عراقی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی زیر صدارت منعقدہ ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کے حالیہ اجلاس میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ پالیسی اپنانے کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ کے لئے مطلوبہ اہلیت،دورانیے اور مطلوبہ دستاویزات سے متعلق سیر حاصل گفتگو ہوئی۔اجلاس میں شریک اراکین نے پوسٹ ڈاکٹر یٹ فیلوشپ کی منظوری کو خوش آئند اور تحقیقی میدان کو مزید وسیع کرنے کے مترادف قرار۔ دیا۔
پروفیسر ڈاکٹر انیلا امبر ملک نے اراکین کو بتایا کہ پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو شپ کے لئے امیدوار کا پی ایچ ڈی ہونا ضروری ہے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تسلیم شدہ جرنلز میں دواشاعتیں اور قومی/بین الاقوامی کانفرنسز میں دوپریزنٹیشن بھی ہونی چاہیئے۔
ڈاکٹر انیلا امبر ملک نے مزید بتایا کہ پوسٹ ڈاکٹریٹ مینٹور کے لئے پی ایچ ڈی کے بعد کم ازکم پانچ سال کے تدریسی وتحقیقی تجربہ کے ساتھ ساتھ کم ازکم آٹھ طلبہ کی ان کی زیر نگرانی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسسز کی تکمیل ضروری ہے۔
علاوہ ازیں متعلقہ ڈسپلن میں ہائرایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ جرنلز میں 25 اشاعتیں بھی ہونی چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوسٹ ڈاکٹر یٹ کرنے والا امیدوار بیرونی گرانٹنگ ایجنسی سے فنڈز حاصل کرسکتاہے،پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ کا دورانیہ ایک سال ہوگا۔ غیر تسلی بخش پیش رفت، کارکردگی اور قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی بناء پر پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ پیشگی اطلاع کے ساتھ ختم کی جاسکے گی۔
دریں اثناء شیخ الجامعہ ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ جامعہ کراچی کی درجہ بندی میں بہتری کے لئے تحقیق کے مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔تحقیق کے مواقع فراہم کئے بغیر نہ توہم معاشرے کے لئے کچھ کرسکتے ہیں اور نہ ہی جامعات کی درجہ بندی میں بہتری لاسکتے ہیں۔
جامعات کی شناخت ان کے رقبے یا طلبہ کی کثیر تعدادکی وجہ سے نہیں بلکہ اس میں ہونے والی تدریسی وتحقیقی سرگرمیوں سے ہوتی ہے۔

