Tuesday, February 3, 2026
صفحہ اولتازہ تریننگراں وزیرِ داخلہ سندھ کا سندھ فرانزک DNA اور سیرولوجی لیبارٹری ...

نگراں وزیرِ داخلہ سندھ کا سندھ فرانزک DNA اور سیرولوجی لیبارٹری کا دورہ

نگراں وزیرِ داخلہ سندھ برگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز، شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کے ہمراہ سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری(ایس ایف ڈی ایل)، جامعہ کراچی کا دورہ کرتے ہوئے۔

 

برگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز کا جامعہ کراچی میں خطاب کیا ۔ نگراں وزیرِ داخلہ کا جامعہ کراچی کی ڈی این اے لیب کا دورہ بہت جلد ڈی این اے لیب کی مالی مشکلات دور ہوں گی ۔ شیخ الجامعہ کراچی پروفیسرخالد عراقی، عطا الرحمن، پروفیسر فرزانہ شاہین نے وزیرِ داخلہ سندھ کا خیر مقدم کیا ۔

 

نگراں وزیرِ داخلہ سندھ برگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز نے کہا ہے کہ نگراں صوبائی حکومت ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیولر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ ( پی سی ایم ڈی ) کے تحت چلنے والی سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری (ایس ایف ڈی ایل)، جامعہ کراچی، کی تمام مالی مشکلات کو دور کرے گی تاکہ سندھ کی سطح پر ایس ایف ڈی ایل، جامعہ کراچی کے تحت ڈی این اے اور سیرولوجی ٹیسٹنگ سروس کا کام مناسب انداز میں جاری رہ سکے۔

 

یہ بات انھوں نے جمعہ کو سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری، جامعہ کراچی کے دورے کے دوران ایک اجلاس میں کہی۔

 

اجلاس میں شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، سابق وفاقی وزیر برائے سائینس اور ٹیکنالوجی اور پروفیسرامریطس ڈاکٹر عطا الرحمن، انسانی حقوق کی معروف کارکن اور’قانون میرا محافظ کی ‛ صدر فوزیہ طارق، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ شاہین اور دیگر آفیشل بھی موجود تھے۔

 

اجلاس سے قبل پروفیسر خالد عراقی، پروفیسر عطا الرحمن اور پروفیسر فرزانہ شاہین نے نگراں وزیرِ داخلہ سندھ کی ادارے میں آمد کا خیر مقدم کیا۔

 

اجلاس میں آئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی کی سربراہ پروفیسر فرزانہ شاہین اورایس ایف ڈی ایل کے انچارج اور پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اشتیاق احمدخان نے پریزینٹیشن کے ذریعے حکومتی وفد کو بین الاقوامی مرکز اور سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری جامعہ کراچی اور اس کی سرگرمیوں کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

 

پروفیسر فرزانہ شاہین نے برگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز کو خصوصی طور پراُن مالی مسائل کے متعلق آگاہ کیا جن سے بین الاقوامی مرکز اور سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری دوچار ہیں۔ نگراں وزیرِ داخلہ سندھ نے بین الاقوامی مرکز کی قومی خدمات اور صنعتوں کو دی جانے والی تحقیقی رہنمائی کی تعریف کی۔

 

انھوں نے ایس ایف ڈی ایل کے تحت مختلف حادثات میں پیش کی جانے والی تحقیقی خدمات پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا اورصوبائی حکومت کی جانب سے ادارے کے واسطے تمام تر مدد و معاونت کا یقین دلایا۔ وفد کو بتایا گیا کہ2019 سے 2023 کے دوران تقریباً 7250 ڈی این اے اور سیرولوجی کیسز کیے گئے ہیں۔

 

وفد کویہ بھی بتایا گیا کہ پی این اے سی، اسلام آباد، وفاقی وزارت برائے سائینس اور ٹیکنالوجی نے حال ہی میں سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری کو ’سرٹیفیکشن آف ایکریڈیٹشن‘دیاہے،پی این اے سی سے اس ISO سرٹیفیکشن (ISO/IEC17025:2017) کے بعد ایس ایف ڈی ایل جامعہ کراچی یہ اعزاز حاصل کرنے والی سندھ کی پہلی لیبارٹری بن گئی ہے۔

 

واضح رہے کہ ایس ایف ڈی ایل صوبائی وزارتِ صحت سندھ کی مالی معاونت سے 2019 ء میں قائم ہوئی تھی، یہ لیبارٹری سندھ کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سروس فراہم کرتی ہے۔ بعدِ اذاں نگراں وزیرِ داخلہ سندھ نے شیخ الجامعہ کراچی کے ہمراہ سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری کا دورہ بھی کیا۔

متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین