ہفتہ, جون 15, 2024
صفحہ اولNewsپانچ روزہ عالمی کتب میلہ 14دسمبر سے ایکسپو سینٹر میں شروع ہو...

پانچ روزہ عالمی کتب میلہ 14دسمبر سے ایکسپو سینٹر میں شروع ہو گا

کراچی : پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کے تحت 18واں کراچی انٹرنیشنل بک فیئر 2023 کراچی ایکسپو سینٹر میںجمعرات 14دسمبر سے شروع ہو رہا ہے پانچ روزہ کتب میلہ پیر 18دسمبر تک جاری رہے گا ، عالمی کتب میلے میں پاکستان، ترکی، سنگاپور، چین، ملائیشیا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات سمیت17 ممالک کے تقریباً 40 ادارے حصہ لے رہے ہیں ،نمائش میں 330 سے زائد اسٹال لگائے جائیںگے پاکستان بھر سے نامور پبلشرز بھی اپنے اسٹال لگا رہے ہیں ۔نمائش میں انتہائی کم قیمت میں کتابیں دستیاب ہوں گی ۔

نمائش میں اس سال چار لاکھ سے زائد افراد کی آمد متوقع ہے ۔ نمائش کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی نگران وزیر اعلی سندھ جسٹس(ر) مقبول باقر ہوں گے جبکہ مہمان اعزازی نگران صوبائی وزیربرائے ِ اطلاعات ، سماجی امور تحفظ اور صدر آرٹس کانسل محمد احمد شاہ ہوں گے ۔

اس عالمی کتب میلے کی افتتاحی تقریب جمعرات 14 دسمبر 2023 کو ہو گی۔ پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیر خالد اورکنوینر کے۔ آئی۔ بی۔ ایف وقار متین نے پیر کے روز مقامی ہوٹل میں ہونے والی پریس کانفرنس میں صحافیوں کو اس عالمی میلے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد، کنوینر وقار متین خان،ڈپٹی کنوینر ناصر حسین، ندیم مظہر، ایم۔ اقبال غازیانی، اقبال صالح محمد، ندیم اختر، کامران نورانی، اور سلیم عبدالحسین، سعد بن عزیز، اصغر زیدی اور اویس مرزا جمیل بھی موجود تھے۔ پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیر خالد نے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کاغذ کتابوں کے لئے معیاری نہیں جبکہ درآمدی کاغذکی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اگر حکومت درآمدی کاغذ پر عائد ڈیوٹی کی شرح کم سے کم کر دے تو کتابوں کی قیمتیں 50 فیصد تک کم ہو جائیں گی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 80 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے جہاں انٹر نیٹ یا جدیدٹیکنالوجی سے استفادہ کسی صورت ممکن نہیں اس لئے شائع کتابوں کی اہمیت کم نہیں ہو سکتی ۔قبل ازیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عزیز خالد نے کہا کہ اس طرح کے کتب میلے اب صرف عا م میلوں کی حیثیت نہیں رکھتے نہ ہی یہ صرف اور صرف پبلشرز کو ایک سادہ سا پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں بلکہ موجودہ دور میں (کے ۔آئی۔بی۔ایف) جیسے کتب میلے پاکستان کے مثبت پہلووں کو اُجاگر کرتے ہیں ۔

عزیز خالد کا کہنا تھا کہ (کے۔آئی۔بی۔ایف )کا حالیہ ایڈیشن پچھلے تمام ایونٹس کے مقابلے میں منفرد ہو گا جس میں اس عالمی کتب میلے کے ذریعے پیشہ ورانہ مہارت اور دیگر امور کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔ چیئرمین پاکستان پبلشرز اینڈ بُک سیلرز ایسو سی ایشن نے اس بات پر زور دیا کرا چی کتب میلے کے انعقاد سے ہم اپنے معاشرے کو اقدار، انسانیت، برادشت اور تہذیب کا درس دیتے ہیں۔ (‘کے۔آئی۔بی۔ایف)۔ کا مقصد پاکستانی نوجوان اور طلبہ کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ اس آنے والے وقت میں مختلف فنون اور شعبوں میں علم و ہنر حاصل کر کے اپنے ملک و قوم کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔

کے آئی بی ایف کے کنوینئر وقار متین نے کہا کہ 2005 سے لگاتار منعقد ہونے والے کرا چی بین الاقوامی کتب میلے کو پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی میلے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ یہ میلہ تمام پبلشرز، ڈسٹربیوٹرز، ملکی و غیرملکی پبلشرز، لائبریرینز اور صارفین کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے۔

وقار متین کا کہنا تھا کہ ہر سال ہونے والا یہ عالمی میلہ پاکستان بھر کے لاکھوں طلبہ، والدین، ادبی و تدریسی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔ وقار متین نے اس عالمی میلے میں حصہ لینے والے پبلشرز کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے یہ کتب میلہ اپنی کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھ سکا ہے اور ہر سال ریکارڈتوڑ تعداد میں لوگ اس میں شرکت کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

مقبول ترین