ہفتہ, جون 15, 2024
صفحہ اولتازہ ترینگورنمنٹ کالج آف فزیکل ایجوکیشن سکھر میں متعلقہ اساتذہ کی کمی ،...

گورنمنٹ کالج آف فزیکل ایجوکیشن سکھر میں متعلقہ اساتذہ کی کمی ، 3 اساتذہ کیخلاف سخت شکایات

کراچی : گورنمنٹ کالج آف فزیکل ایجوکیشن سکھر کے تین اساتذہ کے خلاف سخت شکایات سامنے آ گئی ہیں ، کالج کے پرنسپل امجد علی چنا نے سیکرٹری کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کراچی کے نام ایک خط میں انکشاف کیا ہے کہ اساتذہ کو بار بار تحریری نوٹس دینے کے باوجود بعض اساتذہ بائیو میٹرک کروانے کے بعد کالج چھوڑ دیتے ہیں اور کالج کے دوران ٹیوشن پڑھانے باہر چلے جاتے ہیں، اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ لڑتے جھگڑتے اور بدتمیزی کرتے ہیں ۔

خط کے مطابق یہ اساتذہ کافی عرصے سے غیر قانونی D/L کا مطالبہ کر رہے ہیں اور نہ دینے پر سے بدتمیزی کر رہے ہیں ۔ اس فزیکل کالج میں 9 ٹیچنگ اسٹاف ہیں اور ان میں سے صرف 2 فزیکل سبجیکٹ کے ہیں اور باقی دو انگلش اور 1 پولیٹیکل سائنس کا ہے ۔ جب کہ اس کالج میں پولیٹیکل سائنس کا کوئی مضمون ہی نہیں ہے ۔

جو اساتذہ یہاں پر اضافی یعنی بغیر مضمون کے موجود ہیں وہ محض سیاست کرتے ہیں یا ادارے میں سازشیں کرتے ہے، براہ کرم ان اساتذہ کو ایسے کالجوں میں بھیجیں جہاں ان مضامین کی ضرورت ہو ۔ خط میں استدعا کی گئی ہے کہ اس معاملے کی انکوائری کرائی جائے ، اگر ہمارے الزامات جھوٹے ہیں تو ہمارے خلاف کارروائی کی جائے، اگر بات سچی ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

واضح رہے کہ اسی طرح کا ایک بینر کی کالج کی دیوار پر چسپاں کر دیا گیا ہے جس میں یہی لکھا گیا ہے کہ اساتذہ غیر تدریس کے بجائے ٹیوشن سینٹر چلاتے ہیں ۔ تینوں اساتذہ کے گھر بھی قریب ہی ہیں اس لئے وہ یہاں سے ٹرانسفر روکوا لیتے ہیں ، جب کہ سکھر کے دیگر جنرل کالجز میں فزیکل ایجوکیشن نہ ہونے کے باوجود اساتذہ نے گھر قریب ہونے کی وجہ سے تعیناتی کرا رکھی ہے ۔

معلوم ہوا ہے کہ اس کالج میں 3 اے ٹی کی پوسٹیں خالی ہیں ، دو انگریزی اور ایک اسسٹنٹ پروفیسر پولیٹیکل سائنس کا زائد ہیں ، فیزیکل کالج میں صرف ایک فیزیکل کا لیکچرر ہے جس کا حال ہی میں ترقی کا لیٹر جاری ہوا ہے جب کہ کالج کی جانب سے محکمہ کو لکھا گیا ہے کہ فیزیکل کالج میں کم از کم 6 فیزیکل ایجوکیشن کے اساتذہ تعینات کیئے جائیں تاکہ فیزیکل ایجوکیشن کالج کے فیزیکل کی تعلیم دی جا سکے ۔

فیزیکل ایجوکیشن کے دیگر اساتذہ جن میں فیضان راجپوت ، علی سجاد ملاح اور جے پال شامل ہیں وہ بھی اس کالج میں پوسٹنگ نہیں لینا چاہتے ، فیضان راجپوت حیدرآباد کے ہیں وہ بھی اس کالج میں نہیں آنا چاہ رہے ہیں ، علی سجاد ملاح محراب پور میں ہی پوسٹنگ لے رکھی ہے ، جئے پال بھی یہاں نہیں آنا چاہتے ، جس کی وجہ سے فیزیکل ایجوکیشن کے عبدالرحمن عباسی پر بوجھ بڑھ گیا ہے جب کہ ان کے اب اسسٹنٹ پروفیسر کی پوسٹ ہونے سے ترقی ہونے کی وجہ سے پوسٹنگ کسی اور کالج میں کرانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ کالج میں بی اس کے داخلے ہو چکے ہیں رمضان کے بعد کلاسز شروع ہونگی جب کہ اساتذہ موجود ہی نہیں ہیں ۔

کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کی 3 اسامیوں پر انگلش کے زاہد حسین عباسی اور بشیر احمد بخاری سمیت پولیٹیکل سائنس کے مختار احمد سومرو موجود ہیں ۔ جو کلاسز لیتے ہی نہیں ہیں ۔ ڈائریکٹر فیزیکل ایجوکیشن کی ایک پوسٹ ہے جہاں پر گریڈ 18 کی ناصرہ یاسمین ، اور گریڈ 17 کے ارشد سعید ہیں ۔ گریڈ 17 کے لیکچررز کی پوسٹیں ہیں جن پر فیزیکل ایجوکیشن کے عبدالرحمن عباسی ، اگلش کے یسین اور کرن ہیں جب کہ ایک پوسٹ خالی ہے ، لائبریرین کی پوسٹ بھی خالی ہے ۔

ادھر کالجز کے دیگر اساتذہ نے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فزیکل کالج سکھر میں فزیکل ایجوکیشن کا اسسٹنٹ پروفیسر عبدلرحمان عباسی کی تعنیناتی کی جائے ، فزیکل کالج میں بی ایس فزیکل ایجوکیشن شروع ہو گیا ہے اور فزیکل ایجوکیشن کا ایک بھی لیکچرر یا اسسٹنٹ پروفیسر نہیں ہے ۔ فزیکل کالج اندرون سندھ کا واحد کالج ہے جس سے کافی اسپورٹس مین ڈگری حاصل کر کے DPE اور PET مختلف اداروں میں باعزت روزگار حاصل کر کے اپنی فیملی کو سپورٹ کر رہے ہیں اور ریشنلائز پالیسی پر عمل کر کے سبجیکٹ وائز تعینائتی کی جائے تاکہ سندھ کے کالجز کے شاگردوں کو معیاری تعلیم میسر ہو سکے ۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

مقبول ترین