اتوار, جولائی 14, 2024
صفحہ اولNewsبینظیر بھٹو یونیورسٹی شہید یونیورسٹی لیاری میں استاد کیخلاف مہم

بینظیر بھٹو یونیورسٹی شہید یونیورسٹی لیاری میں استاد کیخلاف مہم

کراچی : بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے شعبہ انگریزی کے لیکچرار مہران میمن کو مخصوص گروہ کی جانب سے ہراساں کیا جانے لگا ہے ۔ بغیر ثبوت کے ڈمی اور جعلی اخبارات کی کٹنگ خود ایڈٹ کر کے خبریں پھلائی جا رہی ہیں ۔

مہران میمن انگریزی شعبے میں لیکچرار ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک سابق طالبہ کو ڈانٹا جس کے بعد وہ طالبہ اسٹوڈنٹ ویلفیئر آفیسر عبدالشکور بلوچ کے پاس چلی گئی تھی ، جس کے بعد انکوائری کمیٹی کی رپورٹ آئے بغیر ہی بنا ثبوت کے استاد کی تذلیل پر مبنی مہم شروع کر دی گئی ہے ۔

7 مئی کو افواہ ہلانے کے بعد مبینہ طور پر عبدالشکور نے کچھ لوئر اسٹاف کے لوگوں کو اس استاد کے خلاف اکسایا اور ان میں سے ایک شخص نے جان سے مارنے تک دھمکیاں بھی دیں ۔ مہران میمن کی طرف سے پولیس کو دی گئی درخواست کے بعد جب پولیس ماجد ، مہراب ڈرائیور اور چپڑاسی عابد عرف شاکا کو حراست میں لیا تھا جس کے بعد انہوں نے تھانے میں اقرار کیا کہ ہم نے لیکچرار مہران میمن کو عبدالشکور بلوچ کہ کہنے پہ دھمکایا ہے ۔

لیکچرار مہران میمن نے وائس چانسلر کو ایک انکوائری کمیٹی بنانے کی درخواست بھی دیی ہے جس میں انہوں نے مطالبا کیا ہے کہ باہر کے لوگ بھی کمیٹی میں شامل کیے جائیں ۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل رینجرز کو بھی ایک درخواست دی گئی ہے ۔

بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی، لیاری، کراچی میں 16ویں گریڈ کا ملازم عبدالشکور بلوچ جو طلبہ کے امور کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہا ہے ، ان کا دفتر یونیورسٹی کی اس عمارت میں واقع ہے جو فنکشنل بھی نہیں ہے یعنی وہاں کوئی دوسرا دفتر بھی نہیں ہے ۔ جب کہ کوئی کمیرہ بھی نصب نہیں ہے ۔ اس حوالے سے ان کا موقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر آفس کے علاوہ کوئی بھی کہیں بھی کیمرہ موجود نہیں ہے ۔

سوال یہ بھی ہے کہ اسٹوڈنٹ ویلفیئر آفس میں کوئی خاتون ملازمہ کیوں نہیں ہے ؟ جس پر عبدالشور بلوچ کا کہنا ہے اس میں ضرور ہونی چاہیئے ہیں مگر ہراسمنٹ کمیٹی میں ضرور خاتون ممبر ہوتی ہے جب کہ یونیورسٹی میں خواتین کے ساتھ کوئی صنفی رویہ کی شکایت ہی نہیں ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسٹوڈنٹ ویلفیئر آفس میں اس کی نوبت نہیں آتی ۔

واضح رہے کہ اس یونیورسٹی میں لیاری، کیماڑی اور گڈاب سمیت کراچی کے دوسرے پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں جن کے والدین اتنے اثر والے نہیں کہ یونیورسٹی آئیں اور اس کا حال دیکھیں ، جب کہ یونیورسٹی میں گزشہ کئی برس سے مستقبل رجسٹرار ہی نہیں ہے اور 6 میں تین رجسٹرار تبدیل ہو چکے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

مقبول ترین