جمعرات, جولائی 18, 2024
صفحہ اولتازہ ترینڈاؤ یونیورسٹی میں گریڈ 16 و 17 کے 80 افسران کو انوکھی...

ڈاؤ یونیورسٹی میں گریڈ 16 و 17 کے 80 افسران کو انوکھی ترقیاں دے دی گئیں

کراچی : ڈاو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں ایچ آر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں تین سال سے بننے والی پرائیویٹ و نامکمل پرموشن پالیسی بنائی گئی ہے۔

یونیورسٹی میں 9 برس بعد پرموشن ہوئے ہیں جس میں 17 برس سے پرموشن سے محروم سینئیر ملازمین حیران پریشان ہو کر حق تلفی کا رونا رو رہے ہیں ۔ ترقی نہ ہونے متاثرین کو ایچ آر ڈپارٹمنٹ سے رجوع کرنے پر تسلی بخش جواب تک نہیں دیا جا رہا  ڈائریکٹر و ایڈیشنل ڈائریکٹر کی جانب سے ملازمین کے ساتھ مبہم اور غیر تسلی بخش رویہ اپنایا جا رہا ہے ۔

ڈاؤ یونیورسٹی میں گریڈ 16 اور 17 کے 79 پرموشن اور اپ گریڈیشن ہوئے ہیں جبکہ ترقی پانے والے ملازمین کی مکمل لسٹ بھی جاری نہیں کی جا رہی اور  انفرادی طور پر ای میل اور لیٹر جاری کیے جا رہیں ہیں۔ مذکورہ ترقیوں میں ٹائم اسکیل پرموشن کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جس کس وجہ سے ملازمین میں بے چینی اور مایوسی پیدا ہو رہی ہے  اسی وجہ سے ایک ملازم تو ذہنی صدمہ و طبعیت خراب ہونے کے سبب اسپتال پہنچ چکے ہیں ۔

واضن رہے کہ ہائر ابجوکیشن کمیشن کے رولز کے مطابق پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں سینڈیکیٹ کا ایجنڈا‛ منٹس آف دی میٹنگز کو خفیہ رکھا جاتا ہے ۔ مذکورہ لسٹیں اور حقائق کو مخفی رکھ کر سنیارٹی و میرٹ کا قتل کر کے من پسند و مخصوص ملازمین کو نوازا گیا ہے ۔ ڈاؤ یونیورسٹی کے نرسنک ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے اجمل کا نام پرموشن میں نہیں ایا جس کی وجہ سے ان کو شدید ذہنی صدمہ پہنچا اور انہیں ہارٹ اٹیک ہوا جس کے بعد انہیں ڈاؤ کے ICU وارڈ میں داخل کرایا گیا ہے ۔

ملازمین کی جانب سے شکایات کی جا رہی ہے کہ ڈاو یونیورسٹی میں عدم مساوات ناانصافی اقرباپروری اور من پسندی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ فنانس اور ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے من پسندوں کو سال میں تین ایکسٹرا گروس سیلری دی جاتی ہے اور چند من پسندوں کو ہر ماہ خصوصی الاونس سے نوازا جاتا ہے ۔ اور ترقی و پرموشن کے عمل میں بھی سینئیرز کی حق تلفی اور ناانصافی کر کے من پسندوں کو نوازا جاتا ہے۔ ان اسباب کی وجہ سے ملازمین کی اکثریت ڈر و خوف ذہنی ٹینشن ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہو رہی ہے ۔

گریڈ 16 اور 17 کے 250 ملازمین سے 79 ملازمین کو ترقی دی گئی جس میں سے 50 فیصد کو نوازا گیا ہے اور سینئیرز کی حق تلفی کی گئی ہے اس پرموشن میں بھی بہت سے افسران کے صرف عہدے تبدیل کیے گئے ہیں انہیں اگلے گریڈ کی ترقی نہیں دی گئی جو کہ ایچ آر ڈپارٹمنٹ کا انوکھا کارنامہ ہے۔ پبلک سیکٹر یونیورسٹیز، سندھ گورنمنٹ اور وفاقی گورنمنٹ کی پرموشن پالیسی کے برخلاف ایچ آر ڈپارٹمنٹ کی تین سال سے بننے والی پرموشن پالیسی میں ٹائم اسکیل پرموشن و اپ گریڈیشن کو شامل ہی نہیں کیا گیا اور سنیارٹی کے بر خلاف پک اینڈ چوز پرموشن پالیسی بناکر ملازمین کی حق تلفی کی جارہی ہے ۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

مقبول ترین