کراچی : پاک آسٹریا فخشولے میڈیکل کالج کا انسپکشن رک گیا ہے ، پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ نے میرپور نرسنگ کالج اور سکینڈری سکول کی ناکامی کے بعد تیسرے میڈیکل کالج میں بھی ناکام ہو گئے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق ہری پور میں میڈیکل کی تعلیم کے لئے ونڈسر میڈیکل کالج ہری پور میں متعلقہ اتھارٹی سے 2022 میں منظور کرایا گیا تھا جس کے بعد جولائی 2022 میں عدالت کی جانب سے ڈی ایچ کیو ہری پور کے ساتھ ونڈسر کالج کا الحاق بھی کر دیا گیا تھا ۔ جس کے بعد تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ہری پور میں فخشولے میڈیکل کالج بنانے کا اعلان کر دیا گیا تھا ۔
پالیسی کے مطابق اگر سرکاری ہسپتال کا الحاق کسی پرائیویٹ کالج کے ساتھ ہو گا اور اس دوران ایک سال کے اندر کوئی سرکاری میڈیکل کالج بن گیا تو اس صورت میں پرائیویٹ میڈیکل کالج کا الحاق سرکاری ہسپتال سے ختم کر کے سرکاری کالج کے ساتھ الحاق کر دیا جائے گا ۔
تحریک انصاف کی مقامی حکومت ونڈسر کالج کا راستہ روکنے کیلئے 2022 میں میڈیکل کالج کے اعلان کے بعد اکتوبر 2022 کو فخشولے میڈیکل کالج کو ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ساتھ الحاق کر دیا تھا اور یوں ونڈسر کالج کا الحاق رک گیا تھا ۔ 300 بیڈ کا ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے ونڈسر میڈیکل کالج کی کلاسز بھی رُک گئیں ۔
ونڈسر میڈیکل کالج نے ہری پور ڈومیسائل کے طلبہ کے لئے 10 فیصد اسکالرشپ کا اعلان بھی کیا تھا ، تاہم حکومت کی جانب سے اعلان کرنے کے باوجود 2022 سے تاحال سرکاری فخشولے میڈیکل کالج کا قیام تک نہیں کیا جا سکا ہے ۔ اس کی کوئی عمارت تک تعمیر نہیں ہو سکی ہے ۔
پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ اپنے بنیادی اہداف جن میں آسٹریا کی فکلیٹی کا انسٹیٹیوٹ میں پڑھانا ، یہاں کے طلبہ و طالبات کا آسٹریا جانا ، دہری ڈگری ملنا ، اسپیشلائرڈ ڈگری کے پروگرام شامل ہیں ان میں مکمل ناکام ہو چکا ہے ۔ اس ناکامی کو چھپانے کے لئے پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ کی انتظامیہ نے ہری پور کی مقامی تحریک انصاف قیادت سے مل کر ایک اور دھوکہ دہی کا منصوبہ بنا کر میڈیکل کالج کا اعلان کیا تھا ۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس جھوٹ کو چھپانے کے لئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو فارمیسی اور سائیکالوجی کے ڈیپارٹمنٹس دیکھا کر انہیں فخشولے میڈیکل کالج کی عمارات ظاہر کیا اور اس پر فخشولے میڈیکل کالج کا بورڈ بھی لگایا اور اس غیر قانونی اقدام کو مذید بڑھانے کیلئے انہوں نے ریٹائرڈ بیوروکریٹس بھی بھرتی کر لیئے جن میں عبدالخالق (73 سال) ، ڈاکٹر عبدالغفور (67 سال ) سمیت دیگر بھرتی کیئے ہیں ۔جن کو بھاری معاوضے دیئے جا رہے ہیں ۔
جس کے بعد پی ایم ڈی سی کو ایک شکایت موصول ہوئی ، جس میں انہیں حقیقت سے آگاہ کیا گیا ، پی ایم ڈی سی کو یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ اپلائیڈ انجنیئرنگ کیلئے بنایا گیا تھا ، اس کے کانسیپٹ نوٹ میں میڈیکل کالج کا کوئی وجود نہیں تھا ۔ یہ سرکاری ادارہ ہے جو طلبہ سے ایک لاکھ کے بجائے 18 لاکھ روپے فیس وصول کرے گا ، جس کے بعد پی ایم ڈی سی نے مذکورہ سرکاری کالج کا وزٹ/انسپیکشن منسوخ کر دیا ہے ۔
پاک آسٹریا انسٹیٹیوٹ اپنے اہداف میں ناکامی کے بعد دیگر جہگوں پر ہاتھ پائوں مار کر اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، انتظامیہ میرپور میں نرسنگ کالج چلانے میں ناکام ہوئی ، انسٹیوٹیوٹ میں ہی 11 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم سکینڈری اسکول بھی نہیں چلایا سکا جس میں اب ہاسٹل بنا دیا گیا ہے ۔
حیران کن طور پر ان ساری ناکامیوں کے پیچھے جعلی ڈگری ہولڈر پروجیکٹ ڈاکٹر ناصر علی خان ہے ، جس کے خلاف مختلف جگہوں پر انکوائریاں چل رہی ہیں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی ان کی پی ایچ ڈی ڈگری جعلی قرار دی ہوئی ہے ۔ ڈگری جعلی ہونے کی وجہ سے ناصر علی خان کو بلیک لسٹ بھی کر دیا گیا تھا۔ اب جعلی ڈگری ہولڈر پروجیکٹ ڈائریکٹر ناصر علی خان 2018 میں 60 سال کی عمر سے ریٹائرڈ ہوا تھا ، جس کے باوجود تحریک انصاف کی لیڈر شپ کی ملی بھگت سے وہ گزشتہ 7 برس سے غیر قانونی طور پر پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر براجمان ہیں ۔
اس حوالے سے ونڈسر میڈیکل کالج ہری پور کے مالک اعجاز خان درانی اتوار کی سہہ پہر 3 بجے اہم پریس کانفرنس کرکے اس حوالے سے مذید انکشافات کریں گے ۔ اہلیان ہری پور کا کہنا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ، پی ایم ڈی سی ، وزیر اعلی کے پی اور وزیر تعلیم سمیت متعلقہ اتھارے اس پر شفاف انکوائری کریں تاکہ اہلیان ہری پور کا مستقبل بہتر ہو سکے ۔

