Friday, January 16, 2026
صفحہ اولNewsاین ای ڈی یونیورسٹی : ملازمین سے قانونی حق چھینے کیلئے غیر...

این ای ڈی یونیورسٹی : ملازمین سے قانونی حق چھینے کیلئے غیر منطقی فیصلے کی تیاری

کراچی : این ای ڈی یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ اجلاس میں آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے جمہوری عمل کو روکنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ سنڈیکیٹ میں یونیورسٹی کے خلاف معمولی نوعیت کے قانونی مقدمات کو روکنے کیلئے منظوری لی جا رہی ہے۔

ایجوکیشن نیوز کو حاصل دستاویزات کے مطابق این ای ڈی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کا اجلاس منگل 30 دسمبر کو منعقد ہو گا ۔ جس کے ایجنڈا آئٹم نمبر: 6 کی سکیشن جے میں انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں غیر ضروری قانونی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے غور و خوض کیا جائے گا ۔ کیونکہ یونیورسٹی کے کچھ ملازمین معمولی اور غیر سنجیدہ نوعیت کے آئینی و دیوانی مقدمات یونیورسٹی کے خلاف دائر کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے ۔

حیران کن طور پر غیر قانونی کام کیلئے ایک قانونی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ” ایک حالیہ مقدمہ (8652/2025) الیکٹریشن (BPS-15) حافظ الرحمٰن خان نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر اعلیٰ افسران کے خلاف دائر کیا، جسے عدالت نے بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دیا تھا ۔

اس کے ضمن میں مذید لکھا گیا ہے کہ ایسے کیسز سے یونیورسٹی پر غیر ضروری قانونی اخراجات بڑھتے ہیں ۔افسران اور اساتذہ کا قیمتی وقت ضائع اور یونیورسٹی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے جس سے اندرونی شکایات کے نظام کو نقصان پہنچتا ہے ۔

سنڈیکیٹ ممبران کو ایک جانب تجویز کی پیشکش کی گئی ہے اور دوسری طرف خود ہی فیصلہ بھی دے دیا گیا ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے ملازم کے کیس کرنے پر پابندی ہو گی ۔ ملازمین اندرونی طریقہ کار کا مکمل استعمال کریں گے ۔ تمام ملازمین پر لازم ہو گا کہ وہ کسی بھی قانونی چارہ جوئی سے پہلے یونیورسٹی کے داخلی فورمز (جیسے شکایات کمیٹی اور سنڈیکیٹ) سے رجوع کریں گے ۔

حیران کن طور پر سنڈیکیٹ اجلاس سے یہ بھی منظور کرایا جا رہا ہے کہ اگر ملازم داخلی فورمز سے رجوع کیے بغیر مقدمہ دائر کرے اور فیصلہ یونیورسٹی کے حق میں ہو، تو مقدمے کے اخراجات متعلقہ ملازم کی تنخواہ سے 18 اقساط میں کاٹے جائیں گے۔ ایسے ملازمین کو باضابطہ وارننگ لیٹر جاری کیا جائے گا تاکہ وہ آئندہ ایسا عمل نہ دہرائیں۔

واضح رہے کہ آئین پاکستان کے تحت کوئی بھی شہری کسی بھی وقت انصاف کیلئے عدالت جا سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ایسے کسی بھی تجویز پر عمل درآمد نہیں جا سکتا ۔ ایسی تجویز انسانی بنیادی حقوق اور یونیورسٹی ملازمین کے حقوق کیخلاف ہے ۔ ایسی کوئی بھی کمیٹی یونیورسٹی انتظامیہ کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے ملازمین کے لیئے جانبدار ہو جاتی ہے ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین