کراچی : سندھ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) نے نجی اسکولوں کے حالیہ دوروں سے متعلق ایک باضابطہ وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ “گمراہ کن” خبروں کی تردید کر دی ہے۔ محکمے نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام کارروائیاں سندھ ہائی کورٹ کے معزز سکھر بنچ کے واضح احکامات کی روشنی میں انجام دی جا رہی ہیں۔
اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ یہ دورے آئینی درخواست نمبر D-1592 آف 2025 کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس میں عدالت نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کراچی کو ہدایت کی تھی کہ وہ نجی اسکولوں کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کریں اور سندھ چلڈرن رائٹ ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2013 پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت نجی تعلیمی اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے کل داخلوں میں سے کم از کم 10 فیصد نشستیں پسماندہ طبقے کے بچوں کو مفت تعلیم کے لیے مختص کریں۔ عدالت کے 8 دسمبر 2025 کے حکم نامے میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ہدایت دی گئی تھی ۔
اینٹی کرپشن حکام کا مزید کہنا تھا کہ والدین کے بیانات قلمبند کیے جائیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا واقعی مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے یا نہیں، اور قانون پر عمل نہ کرنے یا عدم تعاون کرنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے وضاحت کی ہے کہ عدالتی احکامات کی تعمیل کے لیے ایک اعلیٰ سطحی خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر، اینٹی کرپشن ڈسٹرکٹ ایسٹ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر (E)، DACE کراچی ڈویژن، اور انسپکٹر ، اینٹی کرپشن ایسٹ ڈسٹرکٹ شامل ہیں۔
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق، یہ ٹیمیں ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے فوکل پرسنز کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کر رہی ہیں تاکہ پورا عمل شفاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق رہے۔

ادارے کی جانب سے اس تاثر کو مسترد کیا گیا ہے کہ یہ دورے “من مانی” یا “غیر مجاز” ہیں ۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ نے قانون کی بالادستی اور عوامی مفاد کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے میڈیا اداروں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں، جو محکمے کی سرگرمیوں کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اپنی کارروائیوں پر مبنی تفصیلی رپورٹ آئندہ سماعت پر سندھ ہائی کورٹ میں پیش کی جائے گی، جس کی اگلی تاریخ 12 جنوری 2026 مقرر ہے۔

