Friday, January 16, 2026
صفحہ اولNewsدینی مدارس و جامعات کی رجسٹریشن ایکٹ کے مطابق ہو گی :...

دینی مدارس و جامعات کی رجسٹریشن ایکٹ کے مطابق ہو گی : اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ

کراچی : دینی مدارس و جامعات کی حُرِّیتِ فکر و عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن پارلیمنٹ سے منظور کردہ ایکٹ کے مطابق ہونی چاہیے ۔

بروز اتوار بعد نمازِ مغرب تنظیم المدارس اہلسنّت پاکستان کے مرکزی دفتر لاہور میں ’’ اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان‘‘ کی رُکن پانچ تنظیمات وفاق المدارس العربیہ پاکستان ، تنظیم المدارس اہلسنّت پاکستان، وفاق المدارس السلفیہ پاکستان، وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اور رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان کی مجلسِ شُوریٰ کا اجلاس مفتی محمد تقی عثمانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا ۔

اجلاس میں مفتی منیب الرحمٰن اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے 2004 سے لے کر وفاقی حکومت اور حکومتِ پنجاب کی انتظامیہ کے ساتھ اب تک دینی مدارس وجامعات کی رجسٹریشن کے حوالے سے وقتاً فوقتاً ہونے والے مذاکرات ، معاہدات اور رابطہ کاری کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں پانچوں تنظیمات کے ذمے داران نے تفصیل کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تفصیلی غوروخوض کے بعد مندرجہ ذیل اعلامیے کی مکمل اتفاقِ رائے سے منظوری دی:

اجلاس نے مکمل اتفاقِ رائے سے قرار دیا کہ دینی مدارس وجامعات کی حریتِ فکر وعمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا ، نیز وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تنظیمات الگ الگ مذاکرات نہیں کریں گی، بلکہ مشترکہ طور پر مذاکرات کیے جائیں گے ۔

متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ رجسٹریشن اُسی قانون کے تحت ہو جو مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت نے پارلیمنٹ سے منظور کرایا ہے اور صدر کے دستخط کے بعد ایکٹ کی صورت میں اُس کا گزِٹ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، حکومتِ پنجاب سمیت تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ اُسی قانون کو مِن و عن صوبائی اسمبلیوں سے منظور کرا کے ایکٹ بنایا جائے اور بلا تاخیر اُس پر عمل درآمد کا آغاز کیا جائے ، پانچوں تنظیمات سے ملحق تمام مدارس رجسٹریشن کے عمل میں مکمل تعاون کریں گے ۔

ڈیٹا مرتّب کرنے کے لیے فارم وہی ہونا چاہیے ، جس پر ماضی میں حکومتِ پاکستان اور اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے ہو چکا ہے ، اس میں کسی ردّوبدل کی ضرورت نہیں اور تمام درکار تفصیلات اس پروفارما میں موجود ہیں ۔

حسبِ سابق سوسائیٹیز ایکٹ 1860 کی سیکشن 21 کے تحت رجسٹریشن ہونی چاہیے ، کیونکہ دینی مدارس و جامعات کی رجسٹریشن کے لیے ماضی میں’’ اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان ‘‘ اور حکومتِ پاکستان کے درمیان سیکشن 21 کے اضافے پر مکمل اتفاقِ رائے ہو چکا تھا۔

رجسٹریشن کا طریقۂ کار آسان بنایا جائے اور Manual ہوتا کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے دینی مدارس وجامعات کے لیے اسے سمجھنا اور اس پر عمل کرناآسان ہو، نیز ضلعی سطح پر ہر ریجن میں ماضی کی طرح رجسٹریشن کے ذیلی دفاتر قائم کیے جائیں۔

شیڈولڈ بنکوں میں دینی مدارس وجامعات کے بنک اکائونٹس بلاتاخیر کھولے جائیں اور اسٹیٹ بنک آف پاکستان تمام بنکوں کو ہدایت جاری کرے کہ بنک اکائونٹس کھولنے میں تعاون کریں تاکہ رقوم کی آمد وخرچ کے تمام معاملات شفاف ہوں اور ریکارڈ پر موجود ہوں۔

اجلاس میں مفتی محمد تقی عثمانی ، مفتی منیب الرحمٰن ، علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی،مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، صاحبزادہ محمد عبدالمصطفیٰ ہزاروی، ،مولانا یاسین ظفر ، مولانا حافظ محمد یونس بٹ ، مولانا حافظ سید قطب ، علامہ محمد افضل حیدری، مولانا زبیر احمد صدیقی ، مولانا قاری احمد رضا سیالوی، ڈاکٹر غلام عباس، ڈاکٹر عبدالغفور راشد، مولانا سید فرید حسین نقوی ،مولانا تقویم الحق، مولانا لعل حسین توحیدی، مولانا مفتی عبدالرحمٰن ، مولانا خالد احمداور مولانا محمد احمد حنیف نے شرکت کی ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین