Thursday, February 26, 2026
صفحہ اولبلاگسید سلیمان گیلانیؒ کی لائبریری اور پروپیگنڈہ

سید سلیمان گیلانیؒ کی لائبریری اور پروپیگنڈہ

تحریر : عظمت خان

غالباً یہ 08-2007 کی بات ہے ۔ میں دورہ صرف و نحو کیلئے جامعہ مدنیہ لاہور گیا تھا ۔ جہاں ولی دوراں مفتی محمد حسن صاحب کے ادارے میں دورہ تھا ‛ وہاں ہمارے ساتھ ایک نوجوان بھی شریک دورہ تھے ۔ ان سے مختصر دنوں کی ملاقات پھر بعد ازاں اچھے تعلق میں تبدیل ہو گئی ۔ یہ اچھا تعلق اُن کے نزدیک دوستی میں بدل چکا ہے یا نہیں مگر میرے نزدیک یہ محبت و احترام و احساس تفاخر کا ذریعہ بن چکا ہے ۔ کیونکہ وہ نوجوان خود بڑی شخصیات میں سے ہیں اور ہم تو ٹھہرے دنیا دار سے لوگ ۔

خیر ‛ اس سبق کے دوران ہی شاید نوجوان نے ایک دن بتایا کہ حضرت شاہ جی سلمان گیلانی صاحب نے اپنی لائبریری کی اچھی خاصی کتب انہیں ہدیہ کر دی ہیں ۔ اب آپ سوچیں جو نوجوان ابھی عالم فاضل نہیں ہوا ‛حضرت شاہ جی نے ان کی علمی قابلیت اور اکابر کا ان پر بھروسہ دیکھ کر “حق بہ حق دار رسید” یعنی کتابیں انہیں ہدیہ کر دیں ۔ بعد میں مذید بھی کتب ہدیہ کیں ۔

حق بہ حق دار رسید سے یاد آیا ۔ ابھی حالیہ دنوں جیو نیوز سے وابستہ اعزاز سید سے بنگلہ دیش میں دوران سفر کسی کتاب کا ذکر ہوا ۔ کتاب نایاب تھی اور اس سے زیادہ تاریخی و انتہائی اہم پس منظر کی حامل تھی ۔ شاہ جی دو تین بار سفر میں کتاب کو یاد کرتے رہے ۔ کراچی آئے تو میں نے شاہ جی کو کتاب ہدیہ کی ۔ اور بار بار شکریہ ادا کرتے رہے ۔ میں نے عرض کیا شاہ جی میں نے موساد پر لکھی صحافی کی یہ کتاب پڑھ لی ہے اب حق بہ حق دار رسید ۔ شاہ خوش ہوئے ۔ حق پا کر خوشی کا عالم کیا ہوتا ہے ۔ دینے اور وصول کرنے والا ہی سمجھ سکتے ہیں ۔

آمدم برسر مطلب ۔ ۔ ۔ اب یہ نوجوان واقعی میں ایک بڑا آدمی ہے ‛ اُن کی خطابت کے شُہرے دیوبندیوں کی ہر جماعت میں مقبول ہیں ۔ ورنہ اب تو خطباء بھی تنظیموں کو پیارے ہو چکے ہیں ۔ لیکن اکابر کے خدمت گزار اِس نوجوان کو ہر ایک اسٹیج پر یکساں مقبولیت و قبولیت حاصل ہے ۔ یہ دیکھ کر آپ میری اِس بیس برس قبل کی بات کو سمجھ جائیں کہ جس نوجوان کو حضرت امین گیلانی کا ورثہ ملا ہو ‛ جس نوجوان کو حضرت خالد محمود پی ایچ ڈی لندن رحمہ اللہ کی سرپرستی ملی ہو ‛ شاہ کی نظر کیسے اُس نوجوان پر نہ ٹھہرتی ۔

میرے نزدیک بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو بڑا ہو کر بھی چھوٹوں تک رسائی رکھتا ہو وہ بڑا آدمی ہوتا ہے ۔ شاہ جی بڑے آدمی تھے کہ چھوٹوں پر نظر و محبت اور شفقت تھی اور اب اِس نوجوان کو دیکھ کر میرا دل خوش ہوتا ہے ۔ سیدی سلمان گیلانی رحمہ اللہ کی لائبریری سے متعلق باندھے گئے جھوٹ پر اِس نوجوان بلکہ بڑے آدمی کی وضاحتی پوسٹ پڑھی تو میری یاداشت مجھے جامعہ مدنیہ لاہور لے گئی اور میں نے اِس نوجوان کی وضاحت پر گواہی دے دی ہے ۔

کیا آپ جانتے ہیں یہ نوجوان کون ہے ؟ یہ میرے قبیلے کا خوبصورت و خوب سیرت مولانا مفتی ظہیر احمد اعوان ہے ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین