Sunday, February 22, 2026
صفحہ اولNewsیونیورسٹی آف ہری پور کے اساتذہ کا مبینہ بے ضابطگیوں کیخلاف تحقیقات...

یونیورسٹی آف ہری پور کے اساتذہ کا مبینہ بے ضابطگیوں کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ

ہری پور : یونیورسٹی آف ہری پور کے فیکلٹی ممبران اور انتظامی عملے نے چانسلر، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پرو چانسلر/صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کو ایک مفصل درخواست جمع کرائی ہے، جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کی قیادت میں میرٹ کی سنگین خلاف ورزیوں، انتظامی بدانتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران یونیورسٹی میں میرٹ اور انصاف کے اصولوں کی بار بار خلاف ورزی کی گئی۔ الزام ہے کہ 2025 کے سلیکشن بورڈ کے دوران تدریسی تقرریوں اور ترقیوں میں پسندیدہ امیدواروں کو منتخب کیا گیا جب کہ اہل امیدواروں کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔

انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز میں زیادہ نمبر رکھنے والے دو اندرونی امیدواروں کو مبینہ طور پر انٹرویو اور ٹیچنگ ڈیمونسٹریشن میں ناکام قرار دیا گیا جب کہ کم نمبر والے امیدوار منتخب کر لیے گئے۔ کئی معاملات میں ایک ہی انٹرویو کے لیے بلائے گئے امیدواروں کو مختلف اسامیوں کے لیے مختلف نمبر دیے گئے، جس سے شفافیت اور انصاف پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 2025 کے سلیکشن بورڈ کے دوران نفسیات، تاریخ و سیاست اور کیمسٹری کے شعبہ جات میں پی ایچ ڈی ڈگری رکھنے والے امیدواروں کو انتخاب اور ترقی سے محروم رکھا گیا جب کہ ایم فل امیدوار بشمول سائرہ بانو (نفسیات) اور وقاص (تاریخ و سیاست) کو منتخب کیا گیا۔

درخواست میں آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈاکٹر داور خان کا معاملہ بھی بیان کیا گیا ہے، جو چائنیز اکیڈمی آف سائنسز سے پی ایچ ڈی رکھتے ہیں اور معروف بین الاقوامی اداروں میں پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق مکمل کر چکے ہیں۔ درخواست کے مطابق انہیں مبینہ طور پر غیر متناسب طور پر کم نمبر دے کر ایسوسی ایٹ پروفیسر کی ترقی اور انتخاب سے محروم رکھا گیا جبکہ کم میرٹ رکھنے والے امیدوار منتخب کر لیے گئے۔

ایک اور معاملہ انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز کا بیان کیا گیا ہے جہاں طفیل، جو پبلک پالیسی اینڈ گورننس میں پی ایچ ڈی، تعلیمی کیریئر میں گولڈ میڈلز، 18 سال سے زائد تدریسی تجربہ (بی پی ایس 18) اور شعبے کے بانی سربراہ رہ چکے ہیں، کو انٹرویو میں پہلی پوزیشن کے باوجود ٹیچنگ ڈیمونسٹریشن میں کم نمبر دے کر حتمی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔

اسی نوعیت کی شکایات ڈاکٹر سائرہ اشفاق (آئی ایم ایس)، ڈاکٹر عطیہ اشرف (آئی ٹی)، ڈاکٹر خالد زمان (اکنامکس) اور ڈاکٹر فضل حکیم (شعبہ تعلیم) کی جانب سے بھی سامنے آئیں۔ کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں بھی درخواست کے مطابق ڈاکٹر اشرف کو کم نمبر والے امیدوار کے حق میں ذاتی تعلقات کی بنیاد پر نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ قومی سطح کے اعلیٰ سائنسدانوں اور محققین کو غیر ضروری دباؤ، بار بار دفاتر کی تبدیلی اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بعض پسندیدہ اساتذہ کو خصوصی مراعات اور دورانِ آزمائش توسیعی چھٹی دی جا رہی ہے۔

انتظامی تقرریوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ معذور افراد اور مذہبی اقلیتوں کے لیے مختص کوٹہ سپریم کورٹ اور یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی منظوری کے باوجود نظر انداز کیا گیا۔ کئی اسامیاں مطلوبہ این او سی اور تنظیمی ڈھانچے کی منظوری کے بغیر مشتہر کی گئیں۔ اہل افسران اور ملازمین برسوں سے ترقی کے منتظر ہیں جبکہ یونیورسٹی کے سب سے بڑے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر سطح کی اسامیاں مشتہر نہیں کی گئیں۔

امتحانی نظام کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جن میں امتحانات کے دوران موبائل فون کے مبینہ استعمال کو تعلیمی معیار کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ مالی ریکارڈ میں “قرآنی گارڈن” کے عنوان سے اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

مزید برآں، درخواست میں کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KUST) سے وابستہ افراد کی مختلف کمیٹیوں اور قانونی اداروں میں غیر معمولی شمولیت پر بھی اعتراض کیا گیا ہے، جس سے یونیورسٹی کے معاملات میں بیرونی اثر و رسوخ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ اس وقت بیشتر اہم ڈائریکٹر اور سیکشن ہیڈ کے عہدے مبینہ طور پر “ایڈیشنل چارج” پر چلائے جا رہے ہیں، جو یونیورسٹی ایکٹ اور متعلقہ قواعد کی خلاف ورزی قرار دی گئی ہے۔

درخواست میں یونیورسٹی وسائل کے مبینہ غلط استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کی موجودگی کے باوجود 80 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی اضافی لگژری گاڑی خریدی گئی، جبکہ یونیورسٹی کی گاڑیاں اور ڈرائیور غیر سرکاری مقاصد کے لیے استعمال ہوئے۔

مزید یہ کہ فیکلٹی ہاسٹل میں رہائش پذیر اساتذہ کو مالی قلت کے نام پر بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا جبکہ بعض افسران کو غیر مجاز میڈیکل ری ایمبرسمنٹ اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی سہولت جاری رہی۔یہ بھی الزام ہے کہ کچھ افسران سفری اور پی او ایل الاؤنس لینے کے باوجود سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں۔

خریداری کے عمل میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق کم معیار کا فرنیچر اور سامان مہنگے داموں خریدا گیا، جبکہ ایک محدود گروہ بار بار اہم کمیٹیوں اور فیصلہ سازی کے فورمز پر حاوی رہتا ہے۔

فیکلٹی اور عملے نے ان الزامات کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک آزاد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ اس کمیٹی کی سربراہی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم یا چانسلر کے نامزد نمائندے کے سپرد ہو اور اسے یونیورسٹی ایکٹ اور قواعد کے مطابق تحقیقات کے مکمل اختیارات حاصل ہوں۔ درخواست گزاروں نے شکایت جمع کرانے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی، ہراسانی یا امتیازی سلوک سے تحفظ بھی طلب کیا ہے۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین