کراچی : جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے احکامات پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا ، اساتذہ ابھی تک ایڈمنسٹریٹیو عہدوں پر کام کر رہے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے 19 دسمبر کو سندھ بھر کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز کے نام ایک خط جاری کیا تھا ۔ خط میں گزشتہ برس لکھے گئے خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے مذید لکھا تھا کہ سابقہ خط نمبر AD(Legal)/SHEC/1-50/2024 مورخہ 11 نومبر 2024 میں بھی سپریم کورٹ آف پاکستان نے سی پی نمبر 7 آف 2024 مورخہ 24 اکتوبر 2024 میں حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ تمام خالی انتظامی اسامیاں قانون کے مطابق پر کی جائیں اور موجودہ ایڈیشنل چارج، لک آفٹر، او پی ایس، یا اس طرح کے دیگر انتظامات کو ختم کیا جائے ۔
جس کے بعد جامعات کو 8 روز میں اس حکم پر عمل درآمد کرنے کی ہدایات کی گئی تھیں جس کے باوجود بھی بیشتر جامعات نے اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا ہے ۔ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں اس وقت مختلف اہم اسامیوں پر اساتذہ کام کر رہے ہیں ۔
ان میں ڈائریکٹر ایڈمیشن ، ڈائریکٹر ریسرچ سمیت کل 5 سے 6 افراد کام کر رہے ہیں ۔ ڈائریکٹر ایڈمیشن پی ایچ ڈی اور پی ایم ڈی سی کی رجسٹرڈ فکیلٹی ہونے کے ساتھ ساتھ فیزیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں ۔ جب کہ فیزیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرپرسن بھی پی ایم ڈی سی کے رجسٹرڈ فکلیٹی کے علاوہ ڈائریکٹر ریسرچ کے طور پر انتظامی عہدے پر موجود ہیں ۔
حیران کن طور پر ابھی تک ان اساتذہ کو سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے احکامات کے باوجود عہدوں سے نہیں ہٹایا جا سکا ہے ۔ جس کی وجہ سے جہاں پر انتظامی عہدوں پر بھرتی ہونے والے افسران کی حق تلفی ہو رہی ہے وہیں پر بھاری فیسیں دیکر داخلے لینے والے طلبہ کی بھی حق تلفی ہو رہی ہے کہ ان کے اساتذہ ان کو پڑھانے کے بجائے انتظامی عہدوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔

