کراچی : جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے آج اپنے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اسناد کی تصدیق کے عمل کو مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیئے پرائم ہیومن ریسورس سروسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں ۔
ایک سالہ اس معاہدے کے تحت پرائم ہیومن ریسورس سروسز کو جے ایس ایم یو کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تعلیمی و پیشہ ورانہ ڈگریوں کی تصدیق کے لیے باضابطہ شراکت دار مقرر کیا گیا ہے ۔ اس اشتراک کا مقصد اسناد کی مستند تصدیق کو یقینی بنانا اور ادارہ جاتی شفافیت و دیانت داری کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنا ہے ۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب جے ایس ایم یو میں منعقد ہوئی ، جس میں دونوں اداروں کے اہم حکام نے شرکت کی ۔ معاہدے پر رجسٹرار جے ایس ایم یو ڈاکٹر اعظم خان اور ڈپٹی جنرل منیجر پرائم ایچ آر عبدالرحیم رزاق نے دستخط کیے ۔ تقریب میں ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز جے ایس ایم یو ڈاکٹر راحت ناز اور پرائم ایچ آر کے دانش علی بطور گواہ موجود تھے ۔
وائس چانسلر جے ایس ایم یو پروفیسر ڈاکٹر امجد سراج میمن نے اس شراکت داری کی ادارہ جاتی نظم و نسق کے لیے اہمیت پر زور دیا ۔ ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز ڈاکٹر راحت ناز نے اس کے عملی فوائد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت اسناد کی تصدیق کے لیے ایک واضح، مؤثر اور تھرڈ پارٹی تصدیق شدہ نظام فراہم کرتی ہے، جس سے ہمارے ایچ آر امور میں نمایاں بہتری آئے گی، پراسیسنگ وقت کم ہو گا اور تصدیقی عمل کا باقاعدہ ریکارڈ دستیاب ہوگا، جس سے محکمہ ہیومن ریسورسز اسٹریٹجک ترقی اور ملازمین کی شمولیت پر زیادہ توجہ دے سکے گا۔
یہ شراکت داری فوری طور پر مؤثر ہو گئی ہے اور جے ایس ایم یو کی جانب سے انتظامی بہتری کے لیے بہترین عملی طریقوں اور ماہر شراکت داریوں کو اپنانے کی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
تاہم یہ امر حیران کن ہے کہ ایک یونیورسٹی کا اپنا ایچ آر سسٹم ہونے کے باوجود براہ راست ڈگریوں کو خود ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ جامعات سے تصدیق کرانے کے بجائے نجی کمپنی سے اشتراک کیا ہے ۔ جس میں ڈگری کی ویری فکیشن پر سوالات اٹھ سکتے ہیں ۔

