Friday, January 16, 2026
صفحہ اولNewsمیڈیکل طلبہ میں ڈپریشن عام آبادی سے 2 تا 5 گنا زیادہ...

میڈیکل طلبہ میں ڈپریشن عام آبادی سے 2 تا 5 گنا زیادہ ہونے کا انکشاف

کراچی : میڈیکل طلبہ میں ڈپریشن عام آبادی سے 2 تا 5 گنا زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے  ، جے ایس ایم یو میں ذہنی صحت پر فوری اقدامات کا مطالبہ سامنے آیا ہے ۔

عالمی اعداد و شمار کے مطابق میڈیکل طلبہ میں ڈپریشن کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں دو سے پانچ گنا زیادہ جب کہ پچاس فیصد سے زائد ڈاکٹر شدید ذہنی تھکاوٹ(برن آؤٹ) کا شکار ہیں۔ ان تشویشناک حقائق کے تناظر میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) میں طبی شعبے کو درپیش بڑھتے ہوئے ذہنی صحت کے بحران پر ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔

“ہیلتھ اینڈ ویل بینگ” کے عنوان سے ہونے والے اس سیمینار میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مریضوں کی دیکھ بھال کے ذمہ دار افراد خود شدید ذہنی دباؤ، جذباتی تھکن اور مسلسل کام کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ مریضوں کی سلامتی، طبی فیصلوں کے معیار اور مجموعی نظامِ صحت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

وائس چانسلر جے ایس ایم یو پروفیسر امجد سراج میمن نے کہا کہ جدید طبی تعلیم کا تقاضا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز اور طلبہ کی ذہنی فلاح و بہبود کو بھی ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ “ڈاکٹر کی ذہنی صحت محفوظ، مؤثر اور انسان دوست علاج کی بنیاد ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ادارے اس حقیقت کو اپنی پالیسی اور نظام کا حصہ بنائیں۔”

سینئر ماہرِ نفسیات اور سیمینار کے منتظم پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے کہا کہ ذہنی صحت کی تعلیم اور ابتدائی اسکریننگ کو طبی تربیت کا لازمی جزو بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ “محض آگاہی کافی نہیں، بلکہ ایسی پالیسیاں درکار ہیں جو مدد حاصل کرنے کے عمل کو معمول بنائیں اور طبی طلبہ و پیشہ ور افراد کو منظم نفسیاتی معاونت فراہم کریں۔”

سیمینار میں جے ایس ایم یو میں ایک مستقل ہیلتھ اینڈ ویل بینگ سینٹر کے قیام کی تجویز کی متفقہ حمایت کی گئی، جسے طلبہ، فیکلٹی اور طبی عملے کے لیے ایک جامع معاون نظام کے طور پر قائم کرنے پر زور دیا گیا۔

مقررین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ادارہ جاتی اقدامات کو مؤثر سرکاری سرپرستی کے ذریعے تقویت دینا ناگزیر ہے۔ اس موقع پر سندھ مینٹل ہیلتھ ایکٹ سمیت موجودہ قانونی فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قانون سازی کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ سیمینار کے اختتام پر طبی شعبے میں خاموشی سے برداشت کیے جانے کی روایت کے خاتمے اور فعال نگہداشت و معاونت پر مبنی ماحول کے فروغ پر زور دیا گیا۔

اس موقع پر رجسٹرار جے ایس ایم یو ڈاکٹر اعظم خان، مس نائلہ شریف (کونسلر، ٹیمسائیڈ کونسل، برطانیہ)، پرو وائس چانسلر پروفیسر نگہت شاہ، سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ، پرنسپل ایس ایم سی-جے ایس ایم یو ڈاکٹر امبرین عثمانی،ماہرین نفسیات پروفیسر شاہد اقبال، پروفیسر چنی لال اور پروفیسر جاوید اکبر درس، انچارج اے آئی پی ایچ-جے ایس ایم یو ڈاکٹر آمنہ ریحانہ صدیقی، اور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن سہراب زمان بھی موجود تھے۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین