کراچی:۔ بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم(آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ صحت کے عالمی ادارے کے مطابق دنیابھر میں دائمی جلنے کے زخم سے ڈھائی لاکھ (265,000) سے زیادہ افرادموت کا شکار ہوتے ہیں، متاثرہ شخص پر جھلسے ہوئے ٹشو کے شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ زخم عام ہونے کے لحاظ سے دنیا میں چھوتھے نمبر پر ہیں جو زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں رپورٹ ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں:جامعہ کراچی: اسکاؤٹ تحریک کے بانی کی یاد میں تقریب کا اہتمام کیا گیا
یہ بات انھوں نے بدھ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ، جامعہ کراچی کے تحت ”جلد کی تخلیقِ نو میں اسٹیم سیل“ کے موضوع پرجاری تین روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ اس ورکشاپ کا انعقاد ڈاکٹر پنجوانی سینٹر، سندھ انوویشن، ریسرچ اینڈ ایجوکیشن نیٹ ورک (سائرن) اورآئی سی سی بی ایس، جامعہ کراچی کے باہمی تعاون سے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر، جامعہ کراچی میں ہورہا ہے جس میں،ملک کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے تقریباً70سے زیادہمحققین شرکت کررہے ہیں۔
پروفیسر اقبال چوہدری نے مزیدکہا کہ علاج کے کامیاب نتائج کے لیے زخموں کی تشخیص اور مینجمنٹ ضروری ہے، خراب زخم بڑھتی ہوئی بیماریوں کا ایک اہم سبب ہیں۔ انھوں نے کہا متاثرہ خلیوں کی دوبارہ بحالی کے لیے اسٹیم سیل تھیرپی کا کردار اہم ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں، سید امین الحق
ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں اسٹیم سیل ریسرچ لیبارٹری تمام تر جدید آلات سے مزیّن ہے جہاں متعدد تحقیقی پروجیکٹس جاری ہیں، انھوں نے امید کا اظہار کیا کہ ورکشاپ متعلقہ موضوع پر بہتر تفہیم فراہم کرے گے۔ ورکشاپ کی کوارڈینیٹر پروفیسر ڈاکٹر عصمت سلیم نے شرکا ء کو ورکشاپ میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اسٹیم سیل تھیرپی میں متاثرہ جلد، خلیوں اور اعضاء کی دوبارہ بحال کرنے کی بے حد صلاحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ میں شرکاء ’جلدی زخم کے ماڈل وغیرہ تیار کرنے، اسٹیم سیل الگ کرنے اور ٹرانسپلانٹ کرنے اور کیمیائی تجزیہ کرنے کا طریقہ سکھیں گے۔

