ڈیرہ اسماعیل خان(۔)گومل یونیورسٹی کے قائداعظم کیمپس میں نواب اللہ نواز لاء کالج کے طلباء کیلئے دو روزہ تربیتی سیمینار موٹ کوٹ (فرضی عدالت)کا انعقاد کیا گیا ۔
اس موقع پر پرنسپل نواب اللہ نواز لاء کالج محمد سراج خان وزیر سمیت شعبہ قانون کے اساتذہ ، طلباء کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ سیمینار میںشعبہ قانون کی دلچسپی قابل دید تھی۔
موٹ کوٹ (فرضی عدالت)کے مہمان سپیکر میں یونیورسٹی آف فیصل آباد شعبہ قانون کے سربراہ پاکستان میں فرضی عدالت کے اوپر لکھی جانیوالی پہلی کتاب کے مصنف سمیع الرحمن اورلیگل ایسوسی ایٹ اسکوئیر لیگل موٹر و موٹ مقابلوں کی جج مس ثناء معروف خان تھیں۔
مزید پڑھیں:وطن کی محبت کو اُجاگر کرنے میں ملی و قومی نغمات اہم کردار ادا کرتے ہیں، سید شرف علی شاہ
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پرنسپل نواب اللہ نواز لاء کالج محمد سراج خان نے کہا کہ میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ اور تمام یونیورسٹی انتظامیہ کا مشکور ہوں جن کی وجہ سے آج کا یہ اہم معلوماتی سیمینار کا انعقاد ممکن ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی ورکشاپ کے انعقاد سے طلباء میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی عملی زندگی میں سیکھنے عدالتی کارروائی کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع پر ملتا ہے ۔ پرنسپل سراج خان نے مہمان سپیکر کو خو ش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آپ کی قیمتی وقت سے آج ہمارے طلباء کیساتھ ساتھ ہمارے اساتذہ کو آپ کے قانون کے حوالے سے علم و تحقیق اورموٹنگ تجربات بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا جس سے ہمارے طلباء کی بڑی تعداد مستفید ہوگی ۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سمیع الرحمن اور ثناء معروف خان نے طلباء کو موٹنگ کی اہمیت و افادیت کے بارے میں تفصیل لیکچر دیئے ۔انہوں نے طلباء کو قانون کی تحریک، عدالت میں وکالت کے طریقہ کار’خود اعتمادی اور بولنے کے طریقہ کار کے بارے میں طلباء کو تفصیل سے بتایا کہ کس طرح آپ عدالت میں اپنے کیس کی پیروی کریں گے۔
سیمینار میں طلباء نے موٹ کورٹ کے حوالے سے مختلف سوالات بھی کئے۔ سیمینار کے آخری دن طلباء کو عملی طور پر عدالت میں کیس کے حوالے سے پیروی کے بارے میں بتایا جائے گا۔ جس کیلئے ایک فرضی عدالت بھی قائم کی جائے گی۔

