کراچی(7/مارچ 2023ء) ادارہ بیت الواعظ و اسلامک اسکول سسٹم طارق روڈ کے زیر اہتمام سالانہ تقریب بسلسلہ تکمیل حفظ و ناظرہ قرآن کریم کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کے مہمان خصوصی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے میڈیا کوارڈینیٹر مولانا طلحہ رحمانی تھے۔
جبکہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاد حدیث مولانا فیصل خلیل،جے یو آئی کے رھنماء قاری محمد عثمان،مولانا فتح اللہ،مولانا محمد ادریس ربانی،بزنس فورم مولانا امین اللہ،قاری عبدالجلیل،مولانا رشید احمد خاکسار،مولانا اسامہ خطیب،حافظ عفان مدنی،حافظ عمیر مدنی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔
مکتب بیت الواعظ اسلامک اسکول سسٹم کے تحت دس بچوں کے تکمیل حفظ اور چھ بچوں کے ناظرہ ختم قرآن اور سالانہ امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کو ادارہ کی جانب سے اعزازی شیلڈ اور انعامات بھی دیئے گئے،تقریب میں معروف قراء نے تلاوت قرآن اور نعت خوانوں نے حمد ونعت بھی پیش کی۔
مزید پڑھیں:کراچی: انٹر بورڈ کے تحت ٹیم گو گرین کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ قرآن کریم کا پیغام جملہ امت کے لیے راہ ہدایت اور راہ نجات ہے. اِنسان کو فطری طورپر اپنے آباء واجداد سے محبت ہوتی ہے۔ اس محبت کی بناپر وہ دین آبائی سے بھی لگاؤ محسوس کرتا ہے لیکن اس کی اصل کامیابی ہدایت الٰہی کے اتباع میں ہے۔ اگر آبائی دین ، الٰہی ہدایت پر مبنی نہ ہو تو اُس کو اختیار کرکے اِنسان کامیاب نہیں ہوسکتا۔
ہدایت الٰہی کی نشاندہی کرنے والی مستند اور محفوظ کتاب قرآن مجید ہے،قرآن ایک ایسی عظیم کتاب ہے جس میں آسمان کی رفعت اور سمندر کی گہرائی پائی جاتی ہے، جس کی جڑیں پاتال تک پہنچی ہوئی ہیں اور جس کی شاخیں فضائے عالم میں لہرارہی ہیں، جس میں بجلی کی چمک، بادل کی کڑک اور آفتاب و ماہتاب کی تابانی ہے۔ یہ وہ نورِ حیات ہے، جس سے ہر طرح کی ظلمتیں کافور ہوجاتی ہیں۔
اس کی تعریف و توصیف میں جو کچھ بھی کہاجائے اور اس کی تعلیمات کی جتنی کچھ بھی توضیح کی جائے وہ اصل سے کم ہی ہوگی۔ اس کے بارے میں ہرتحقیق نئی تحقیق کادروازہ کھولتی ہے۔ یہ گنجینۂ معارف ہے۔ یہ علم کی طلب پیدا کرتی اور اس کی پیاس بڑھاتی ہے۔ہم قرآن مجید کھولتے ہیں تو اس کی پہلی سورت (سورۂ فاتحہ) سامنے آتی ہے یہ سورت بتاتی ہے کہ اللہ کیاہے، وہ کن صفات کاحامل اور کن کن خوبیوں کا مالک ہے انسان کااس سے کیا تعلق ہے، انسان کواس کے ساتھ کس طرح کارویہ اختیار کرنا چاہیے۔
اس نے فرد اور سماج کی ہدایت کا کیا انتظام کیاہے، کون لوگ ہیں جواس کے انعام واکرام کے مستحق ہوں گے اور کون ہیں جو راہِ راست سے بھٹک گئے؟اس طرح پہلے ہی صفحہ میں اللہ تعالیٰ کا تعارف ہوجاتا ہے قرآن پڑھنے والے قارئین اسے جان بھی جاتے ہیں اور اس سے تعلق بھی قائم ہوجاتاہے۔ دنیا میں ایسی کوئی کتاب نہیں جس میں سات مختصر جملوں یا سات آیات میں اتنی جامع بات کہی گئی ہو۔
مزید پڑھیں:او آئی سی ممالک جی ڈی پی کاایک فیصد سائینس پر صرف کریں
ادارہ بیت الواعظ و اسلامک اسکول سسٹم جس جدت اور لگن کے ساتھ اپنا پیغام پہنچا رہی ہے وہ قابل تحسین اور قابل تقلید بھی ہے۔مقررین نے مزید کہا کہ قرآن سب کے لئے اپنی اندر بہت سارے موضوعات سمیٹے ہوئے ہے مگر قرآن اسی کو فیضیاب کرتا ہے جو اس کا ادب ملحوظ خاطر رکھتا ہے،بے شک قرآن کریم شفاء بھی ہے ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی ہے،دینی وعصری یکجا تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے،ان اداروں میں دونوں طرح کی تعلیم کے ساتھ بہترین تربیت دینا ایک مثالی کام ہے،اسی تربیت کی بدولت معاشرہ کیلئے بہترین افراد سازی کا کام یہ ادارے انجام دے رہے ہیں،اس حوالہ وفاق المدارس کا عالیشان تعلیمی نیٹ ورک کی خدمات کا اعتراف دیگر اسلامی ممالک بھی کررھے ہیں۔
اس موقع پر ادارہ بیت الواعظ و اسلامک اسکول سسٹم کے مدیر مولانا سید عبدالجليل وناظم تعلیمات مولانا رشید احمد خاکسار نے تقریب میں تشریف لانے والے مہمانوں کو سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پروگرام کا مقصد دینی و ملی ہم آہنگی، پیار اور امن ہے،ہماری کوشش ہے کہ ہم ہر پروگرام کو پیغام قرآن پیغام پاکستان کے ساتھ منسلک رکھیں تاکہ ہمارا کام آنے والی نسلوں کیلئے سود مند اور گران قدر ثابت ہو،الحمدللہ ہمارا پلیٹ فارم روحانی طور پر لوگوں کے لئے آسودگی کا باعث ہے یہاں پر تمام شعبہ ہائے زندگی کے لوگ فیضان قرآن سے بہرہ مند ہوتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ اپنے دینی و دنیاوی مسائل کا حل کے لئے بھی ہم سے رجوع کرتے ہیں ۔
ادارہ بیت الواعظ و اسلامک اسکول سسٹم صوفیاء کا پیغام، تعلیمات اور ان کی روحانی تربیت کا بھی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس تقریب میں قرآن کی تلاوت کی سعادت کا اعزاز،پاکستان کے مایہ ناز قاری قاری محمد نعیم اللہ حبیب، قاری محمد نصیر احمد، قاری محمد کلیم نے حاصل کی،جبکہ محمد جاسم مصطفی، قاری وسیم عباس،حافظ حدیفہ نے حمد ونعت پیش کی،پروگرام کی نظامت کے فرائض مولانا اسامہ خطیب نے ادا کئے۔آخر میں تقریب میں شرکت کرنے پر معزز مہمانوں کو مکتب بیت الواعظ اسلامک اسکول سسٹم کی جانب سے بطور یادگار اعزازی شلیڈیں بھی دی گئیں۔

