سندھ پروفيسرز اينڈ ليکچررز ايسوسی ايشن ( سپلا) کے مرکزی صدر پروفيسر منور عباس، مرکزی سيکريٹری جنرل پروفيسر شاھ جہاں پنھور اور ديگر رہنماؤں نے محکمہ کالج ایجوکیشن کی بد سے بدتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سپلا کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ حکومتِ سندھ کا محکمہ کالج ایجوکیشن کس کے ماتحت ہے؟ اسے کو کون چلا رہا ہے؟ اس کے پالیسی ساز کون ہیں؟ اس محکمے کے وزیر کا نام کیا ہے؟ کیوں کہ تعلیم کے وزیر کو تو اس محکمے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس محکمہ کالج ایجوکیشن کے لیے وقت ہے۔
سپلا کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ صوبہ بھر کے کالجز کے اسٹاف روم میں اب یہ باتیں عام ہو چکی ہیں کہ معمولی کام بھی بغیر لین دین کے نہیں ہو رہا ہے، ٹرانسفر پوسٹنگ کے تو باقاعدہ ریٹس مقرر ہیں۔
خواتین کے کالجز میں مرد اساتذہ ، لڑکوں کے کالجز میں خواتین اساتذہ کے تبادلے کون سی قوتیں کر رہی ہیں؟ بالخصوص شام کے کالجز میں خواتین اساتذہ کی تعیناتی سمجھ سے بالاتر ہے۔
مزید پڑھیں:جامعہ کراچی : HEJ کے ڈائریکٹر نے سرکاری تعطیلات کو ماننے سے انکار کر دیا
سپلا کے رہنماؤں نے حکومتِ سندھ پر واضح کیا کہ سندھ کے کالجز میں گھوسٹ اساتذہ کا تصور تک موجود نہیں ہے اور کوئی بھی استاد بائیومیٹرک حاضری کا مخالف نہیں ہے ، مگر بائیومیٹرک مشین کی آڑ میں آئے روز نئے نئے خود ساختہ قوانین تو کبھی الٹی سیدھی معلومات کے پروفارمے جاری کر کے پرنسپل سمیت محکمہ کالج ایجوکیشن کے تدریسی و غیر تدریسی عملے کو ذہنی اذیت دیکر اس قدر پریشان کیا جارہا ہے کہ لوگ محکمہ کالج ایجوکیشن چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
سپلا کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ محکمہ کالج ایجوکیشن کی جانب سے تدریسی و غیر تدریسی عملے کے لیے ایک ایسا پروفارما جاری کیا گیا ہے جس میں ایسی معلومات مانگی گئی ہیں جو کہ کسی حساس ادارے کے ملازمین کے لیے بھی شاید نہ مانگی گئی ہوں ۔
سپلا کے رہنماؤں نے مزید یہ بھی کہا کہ محکمے کے کالج ایجوکیشن کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بائیومیٹرک کے حوالے سے جاری کردہ ایس او پیز کا لیٹر سندھ بھر کے کالج اساتذہ پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں ۔
سپلا کے رہنماؤں نے اس سلسلے میں اپنا دوٹوک اور واضح بیان دیتے ہوئے کہا کہ بائیو میٹرک کی آڑ میں کوئی ایسا نظام قبول نہیں کیا جاسکتا جو نہ وفاقی حکومت کے کسی محکمے میں رائج ہے اور نہ ہی صوبہ سندھ سمیت کسی بھی صوبے کے محکمے میں قائم ہے۔
مزید پڑھیں:جامعہ کراچی کا ایسوسی ایٹ ڈگری کامرس کے نتائج کا اعلان
سپلا کے رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ دن بہ دن محکمہ کالج ایجوکیشن کا ماحول بد سے بدتر ہوتا جارہا ہےاساتذہ کی تذلیل معمول بنتا جارہا ہے ، ایک دن کسی پرنسپل کو بیسٹ پرنسپل کا ایوارڈ دیا جاتا ہے تو اگلے روز اس کو ڈپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جاتا ہے۔
سپلا کے رہنماؤں نے آخر میں یہ کہا کہ اگر محکمہ کالج ایجوکیشن کی صورتحال کو بہتر نہ کیا گیا تو عید کے بعد سندھ بھر کے کالج اساتذہ سراپا احتجاج ہوں گے ۔
سپلا کے رہنماؤں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ موجودہ وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ کو محکمے سے کوئی دلچسپی نہیں لہٰذا محکمہ کالج ایجوکیشن کو یا تو الگ وزیر دیا جائے یا نیا وزیرِ تعلیم دیا جائے ۔

