Tuesday, February 3, 2026
صفحہ اولتازہ ترینپاکستان میں 24ملین افراد کو ذہنی و نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے،...

پاکستان میں 24ملین افراد کو ذہنی و نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے، عالمی ادارہ صحت

کراچی( )عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کے مطابق، پاکستان میں ذہنی بیماریوں کے نتیجے میں صحت اور معیار زندگی متاثر ہونے کی شرح جسمانی بیماریوں کے مقابلے میں تقریباً 4فیصد ہے اور24ملین افراد کو ذہنی و نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

 

ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) میں امیونائزیشن پر توسیعی پروگرام(EPI) پر سیکریٹری ہیلتھ سندھ سید ذوالفقار علی شاہ اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ (PILL) کی سی ای او پروفیسر نسیم چودھری کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے دوران پِل انسٹیٹیوٹ میں کرتے ہوئے کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں بڑے پیمانے پر ہونے والے سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی نقصان کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی جیسا کہ حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے متاثرہ کمیونٹیز کو ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس میں ایک اندازے کے مطابق16 ملین بچوں سمیت 33ملین افراد متاثر ہوئے ہیں جس میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ان افراد کی نفسیاتی و ذہنی صحت بھی کافی متاثر ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں:اولین ترجیح جامعہ کی ترقی و خوشحالی ہے، وی سی گومل یونیورسٹی

ان اعداد و شمار کے تباہ کن اثرات کو مد نظر رکھا جائے تو ذہنی صحت کی پالیسی کا نفاذ ہماری اعلیٰ ترین قومی ترجیحات میں سر فہرست ہے۔

 

سی ای او پاکستان انسٹیٹیوٹ آ ف لیونگ اینڈ لرننگ پروفیسر نسیم چودھری نے کہاہمارا بنیادی مقصدآئی اے پی ٹی(IAPT) کا فلاح و بہبود پر سیمینار ہے،جسے ابتدائی طور پر سندھ کے دو اضلاع سکھر اور قمبر شہدادکوٹ کے ایسے علاقوں میں پائلٹ ٹیسٹ کے طور پر شروع کیا جائے گا جہاں کمیونٹیز کی ضرورتیں زیادہ ہیں۔ بعدازاں اس کے دائرہ کار وسیع کردیاجائے گا۔

 

سیکریٹری ہیلتھ سندھ سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ اس تحقیقی پراجیکٹ کے پائلٹ ٹیسٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے سندھ کے ذہنی صحت کی پالیسی پر نظرثانی اور عمل درآمد کے منصوبے کی رہنمائی میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں:وزیر تعلیم کو محکمے میں دلچسپی نہیں، نیا وزیر تعلیم دیا جائے، سیپلا

اس اشتراک کا مقصد خاص طور پر صوبہ سندھ میں ذہنی صحت کی مناسب خدمات کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنا اور سب کے لئے یکساں فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے۔

 

اس موقع پرPILL کے پروفیسر اور چیئرمین عمران بشیر چوہدری، شعبہ نفسیات و ذہنی امراض، ضیاالدین ہسپتال سے پروفیسر زینب زادہ،پروفیسر، سائنسدان وسربراہ شعبہ بچگان و نوعمر افراد (PILL)امیر بخش، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریسرچ ڈویلپمنٹ اینڈ ڈسیمینیشن(PILL) فیصل علی اور دیگر شامل تھے۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین