محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سسے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول، علی خان گبول، ڈسٹرکٹ ملیر کے ہیڈ ماسٹر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ بجٹ میں خرد برد کی شکایت پر اس شوکاز کا جواب دیا جائے ۔
کراچی: محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی، حکومتِ سندھ نے اسکول اسپیسیفک بجٹ (SSB) میں بے ضابطگیوں اور اعلیٰ افسران کے خلاف بے بنیاد شکایات درج کرانے پر محکمہ تعلیم کے مختلف افسران اور ہیڈ ماسٹرز کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ 13 اگست 2026 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز کے مطابق ایک ہیڈ ماسٹر کو شوکاز نوٹس جبکہ دیگر 14 افسران سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
محکمہ تعلیم کے سیکریٹری زاہد علی عباسی کی جانب سے گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول، علی خان گبول، ڈسٹرکٹ ملیر کے ہیڈ ماسٹر (BS-17) محمد علی کو سندھ سول سرونٹس رولز 1973 کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ نوٹس میں ان پر درج ذیل سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں:
ضلع کورنگی میں اسکول اسپیسیفک بجٹ (SSB) کے فنڈز کی اسکولوں کو منتقلی سے قبل 20 سے 30 فیصد تک کی غیر مجاز کٹوتیوں میں انہوں نے میسرز سارا ایسوسی ایٹس (M/s Sara Associates) کے ساتھ بطور سہولت کار کام کیا۔
انہوں نے ایک نامعلوم پرائیویٹ وینڈر کے لیے ٹرانزیکشنز کیں، جس سے سرکاری فنڈز کو مالی خطرات لاحق ہوئے۔ انکوائری کمیٹی کو یقین دہانی کرانے کے باوجود وہ میسرز سارا ایسوسی ایٹس کے نمائندے کو پیش کرنے میں ناکام رہے۔
کمیٹی کی سماعت کے دوران انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) کی ہدایات کے حوالے سے بغیر ثبوت کے دعوے کیے جن کی دیگر ہیڈ ماسٹرز نے تردید کی اور وہ کوئی دستاویزی یا زبانی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ شوکاز نوٹس کے تحت انہیں 14 دن کے اندر اپنا جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے بصورت دیگر یکطرفہ کارروائی کی جائے گی۔


