ڈاکٹر محمد سلیم حبیب کے قائم کردہ اداروں Barrett Hodgson Pakistan اور The Salim Habib Education Foundation (TSHEF) کے انتظامی کنٹرول، مالی معاملات اور اثاثوں سے متعلق سنگین تنازع سامنے آیا ہے ۔
سینئر صحافی محمد طاہر نے اپنے ادارے جرت پاکستان میں لکھا ہے کہ معروف صنعت کار ڈاکٹر محمد سلیم حبیب کے فلاحی ادارے سلیم حبیب یونیورسٹی، کراچی میں ایک بڑے تعلیمی منصوبے کے طور پر قائم کی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اسکول، کالج اور نرسنگ کالج قائم کیے گئے تھے ۔
ڈاکٹر سلیم حبیب اور ان کے نمائندوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان اداروں میں مختلف اوقات میں ملازمت اور انتظامی ذمہ داریاں حاصل کرنے والے بعض افراد نے اداروں کے انتظامی کنٹرول میں ایسی تبدیلیاں کیں جن پر ڈاکٹر سلیم حبیب اور ان کے نمائندوں کو سخت اعتراضات ہیں ۔شکایت کنندگان کی جانب سے اداروں کے انتظام اور مالی معاملات پر غیر مجاز کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں ، اداروں کے فنڈز میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے علاوہ غیر قانونی رقوم کی منتقلی یعنی مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر رقوم ایک سے دوسری جگہ منتقل کی گئیں ۔اداروں کے انتظامی اور کارپوریٹ دستاویزات میں جعل سازی اور ہیر پھیر کے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں ، ان الزامات میں جن افراد کے نام سامنے آئیں ہیں ان میں ڈاکٹر ارم آفاق ، محمد طارق امین ، فیروز عالم اور محمد عباس شامل ہیں ۔
شکایت کنندگان کا مؤقف ہے کہ فاؤنڈیشن اور متعلقہ کاروباری اداروں کے اصل مقاصد اور انتظامی کنٹرول کو غیر قانونی طور پر تبدیل کیا گیا۔ اس تنازع سے متعلق مختلف سرکاری اداروں کے سامنے شکایات درج کرائی گئی ہیں اور کارروائیاں شروع کی گئی ہیں ۔ کلفٹن پولیس اسٹیشن میں اس حوالے سے ایک مقدمہ بھی درج کرایا گیا ہے ۔
مبینہ جعلی یا تبدیل شدہ دستاویزات سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں شکایت کنندگان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بینکنگ ریکارڈ، کارپوریٹ دستاویزات اور دیگر ٹھوس شواہد تحقیقاتی اداروں کو فراہم کر دیے ہیں ۔
تحقیقاتی ادارے ان فراہم کردہ شواہد کی روشنی میں مالی معاملات میں مذکورہ بالا اور دیگر متعدد افراد کے کردار کی تحقیقات کر رہے ہیں ۔ڈاکٹر سلیم حبیب کے قائم کردہ فلاحی تعلیمی اداروں کا انتظام، مالی معاملات اور قیمتی اثاثے اس وقت ایک سنگین قانونی اور انتظامی تنازع کا شکار ہیں، اور معاملے کی تحقیقات مختلف سطحوں پر جاری ہے۔


