کراچی : کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سنڈیکیٹ کا 71واں اجلاس ہنگامی طور پر طلب کر لیا گیا ہے ، اجلاس کے لیئے 13 ممبران کو مدعو کیا گیا ہے ، تاہم ایجنڈا منظر عام پر نہیں آیا ہے ۔
ایجوکیشن نیوز کو حاصل دستاویزات کے مطابق کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے رجسڑار کی جانب سے 7 اگست کو لیٹر نمبر KUST/Estt/71st-Syn/6-4/26/6803-10 جاری کیا تھا ، جو ایک ہفتہ بعد بھی ویب سائٹ پر مذکورہ لیٹر اور ایجنڈا اپ لوڈ نہیں کیا گیا ، اس لیٹر کے مطابق سنڈیکیٹ کا 71 واں (ہنگامی) اجلاس بروز پیر 17 اگست 2026 کو صبح 10:30 بجے منعقد ہو گا ۔
یونیورسٹی کے رولز آف بزنس کی شق 8 کیمطابق ہنگامی اجلاس کی جب بھی ضرورت پیش آئے، سنڈیکیٹ کا ہنگامی اجلاس یا تو وائس چانسلر کی جانب سے طلب کیا جا سکتا ہے، یا پھر کل اراکین کے دو تہائی حصے کی جانب سے کی گئی تحریری درخواست پر وائس چانسلر کی منظوری کے ساتھ منعقد کیا جا سکتا ہے ۔ جب سیکریٹری کے دفتر میں تحریری درخواست موصول ہو جائے ، تو ہنگامی اجلاس 10 دفتری ایام (ورکنگ ڈیز) کے اندر طلب کیا جانا لازمی ہو گا ۔ ایسے اجلاس کا ایجنڈا، اجلاس سے کم از کم 03 دفتری ایام قبل تمام اراکین کو فراہم (سرکولیٹ) کر دیا جائے گا ۔

تاہم اس کے برعکس معلوم ہوا ہے کہ دو تہائی ممبران کی جانب سے سنڈیکیٹ کے اجلاس کے ہنگامی اجلاس کے لئے کوئی درخواست نہیں دی گئی ۔ اور اجلاس میں ڈینز بھی شامل نہیں کیئے گئے ہیں ۔
سنڈیکیٹ کے ممبران میں پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس (ریٹائرڈ) لال جان خٹک ، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن یا نمائندہ ، سیکریٹری برائے محکمہ خزانہ ، سیکریٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، سیکریٹری محکمہ اسٹیبلشمنٹ ، ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن ، انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل سائنسز جامعہ پشاور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر انوار الحق علی شاہ ، انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد نصیر الدین ، ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ کیمسٹری ڈاکٹر نعیم خان، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ فارمیسی ڈاکٹر فرمان اللہ، انسٹیٹیوٹ آف کمپیوٹنگ کے لیکچرار ڈاکٹر الیاس احمد کے علاوہ خزانچی اور ڈپٹی ٹریژرر ڈاکٹر زاہد قدیر شامل ہیں ۔ تاہم اجلاس میں چانسلر کے نامزدکنندہ ممبر بھی اجلاس کا حصہ ہو گا ۔ جس کا نام چانسلر آفس کی جانب سے یونیورسٹی کو بھیج دیا گیا ہے ۔
کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کوہاٹ کی سنڈیکیٹ کا 71 واں (ہنگامی) اجلاس بروز پیر، 17 اگست 2026 کو صبح 10:30 بجے منعقد ہو گا ۔ اجلاس یونیورسٹی کے ابن الہیثم، کانفرنس ہال میں شیڈول کیا گیا ہے ۔ ممبران کو 7 اگست کو بھیجے گئے لیٹر میں لکھا گیا تھا کہ اجلاس کا ایجنڈا ای میل / واٹس ایپ کے ذریعے سافٹ کاپی میں شیئر کیا جائے گا ۔
ایجوکیشن نیوز کو حاصل ہونے والے ایجنڈا کے مطابق ایجنڈے میں 14 پوائنٹ شامل کیئے گئے ہیں جس میں یونیورسٹی کے دو اساتذہ کیخلاف ورک پلیس ہراسمنٹ انکوائری کی سفارشات ، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کے معاملے میں ایف ایف سی کی سفارشات ، اسسٹنٹ پروفیسر کو معذوری پنشن کی منظوری ، ٹی ٹی ایس (TTS) فیکلٹی ممبران کے سالانہ انکریمنٹ کی رپورٹ شامل ہیں ۔
اس کے علاوہ شعبہ فزکس کے پروفیسر کی ڈیوٹی سے دانستہ غیر حاضری و انسٹیٹیوٹ آف کمپیوٹنگ کے استعفیٰ ، لیکچرار اور ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی ڈیوٹی سے دانستہ غیر حاضری اور ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی ڈیوٹی سے دانستہ غیر حاضری اور دوبارہ ملازمت جوائن کرنے سمیت 25 فروری 2026 کو منعقد ہونے والے اکیڈمک کونسل کے 44ویں اجلاس اور 20 جولائی 2026 کو منعقد ہونے والے اکیڈمک کونسل کے 45ویں اجلاس کے منٹس (کارروائی) کی توثیق شامل ہے ۔
اس کے علاوہ باقاعدہ منظوری/توثیق کے لیے سینیارٹی کے تعین کی کمیٹی کی جانب سے طے کردہ پروفیسرز کی سینیارٹی لسٹ کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی اداروں (HEIs) میں میریٹوریس پروفیسر (Meritorious Professor) کی تقرری کے لیے ایچ ای سی (HEC) کی جانب سے نوٹیفائیڈ اور ایچ ای ڈی (HED) کی جانب سے بتائے گئے فریم ورک کی منظوری کے علاوہ چیئر کی اجازت سے کوئی اور ایجنڈا بھی شامل کیا جا سکتا ہے ۔
اجلاس ایمرجنسی کی صورتحال میں کیوں مدعو کیا گیا ہے اور اس کے لئے رولز آف بزنس کی شق کیمطابق ممبران کی درخواست آئی ہے یا ایمرجنسی کی کوئی دیگر صورتحال یونیورسٹی کو درپیش ہے اور اس میں ڈینز کیوں موجود نہیں ہیں ، مذکورہ سوالات یونیورسٹی کے ترجمان اور شعبہ ابلاغ عامہ کے چیئرمین ڈاکٹر راشد اسحاق کو ارسال کر دیئے گئے جن کا جواب موصول ہونے پر شائع کیا جائیگا ۔


