Tuesday, February 3, 2026
صفحہ اولتازہ ترینجامعہ کراچی : ریسرچ مراکز کے اساتذہ و ملازمین نے چارٹر آف...

جامعہ کراچی : ریسرچ مراکز کے اساتذہ و ملازمین نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیئے

کراچی : جامعہ کراچی کے ریسرچ سینٹرز ، انسٹیوٹس کے اساتذہ، آفیسرز و ملازمین نے اپنے حقوق کے لئے آرٹس آڈیٹوریم میں احتجاجی جلسہ کیا ، جس میں جامعہ کراچی اور انسٹی ٹیوٹ کے قوانین کو یکساں کرنے ، تنخواہ بمع ہاوس سیلنگ کی ادائیگی کو بروقت یقینی بنانے ،60 سال سے زائد عمر کی غیر قانونی تعیناتی سے پرہیز کرنے ، انسٹی ٹیوٹ اور جامعہ میں عرصہ دراز سے اساتذہ کرام کے رکے ہوئے سلیکشن بورڈ کے جلد انعقاد کرنے ، انسٹی ٹیوٹ میں خوف و حراس کی فضاء اور ذاتی اجارہ داری کو ختم کرنے اور  انسٹی ٹیوٹ ملازمین کے بچوں کو بھی جامعہ کے قوانین کے تحت فیسوں سے مستثنٰی کرنے جیسے مطالبات کئے گئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی یونیورسٹی میں ریسرچ مراکز کے اساتذہ، ملازمین، افسران کا تاریخی اجتماع 26 جنوری بروز جمعرات بوقت 11 بجے آرٹس آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں جلسہ منعقد ہوا ۔ جس میں انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین کے ساتھ ساتھ جامعہ کراچی کے ملازمین افسران اساتذہ کرام نے بھرپور شرکت کی ۔ جب کہ مادر علمی علمی کے منتخب نمائندگان انجمن اساتذہ آفیسرز ایسوسی ایشن اور ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی قیادت نے بھی اپنی شرکت کو یقینی بنایا اور خطاب کیا ۔

مقررین نے اظہار خیال میں مندرجہ بالا نکات پر زور دیا اور چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کے حصول پر زور دیا ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ریاض احمد صاحب نے ادا کیئے ۔ جب کہ مقررین میں ڈاکٹر فیض محمد میرین بیالوجی ۔ سفیر محمد ایچ ای جے ۔ محمد طاہر بٹ پاکستان اسٹڈی سینٹر ۔ نوید ملک میرین بیالوجی ۔ محمد صفدر کبجی ۔ مندرجہ بالا حضرات نے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کے ساتھ ساتھ انسٹی ٹیوٹس میں جاری اقرباء پروری ، لاقانونیت، ملازمین کا استحصال اور مالی بے ضابطگیوں پر روشنی ڈالی دیگر مقررین میں جامعہ کراچی کے انجمن اساتذہ کے نائب صدر غفران عالم ، سینٹ ممبر پروفیسر ڈاکٹر منصور احمد (سابقہ رکن سنڈیکیٹ) ، ڈاکٹر ذیشان اقبال (رکن کٹس کونسل)، پروفیسر ڈاکٹر ثمر سلطانہ (سابقہ چیرپرسن سیاسیات)، جلیس احمد قاضی ( آفیسر یونٹی)، منیر احمد بلوچ (یونائیٹد آفیسرز)، ثناء اللہ (یونائیڈ آفیسرز) افتخار احمد (انصاف پسند گروپ)نے خیالات کا اظہار کیا ۔

جب کہ اختیار عباس (یونائیڈ آفیسرز)، پروفیسر ڈاکٹر شاہ علی القدر (سابقہ صدر کٹس و رکن سنڈیکیٹ)، وقار علی (ملازمین مشترکہ گروپس)، اشفاق احمد (ملازمین مشترکہ گروپ)نے اظہار یکجہتی کیا۔ نیز تمام شرکاء نے بالخصوص انسٹی ٹیوٹ اور بالعموم جامعہ میں قانون کی بالادستی پر زور دیا جبر و استحصال کے خاتمہ اور حراساں کیئے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا آخر میں طے ہوا کہ آج اور ابھی چارٹرڈ آف ڈیمانڈ شیخ الجامعہ کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ اس موقع پر ایک چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری دی گئی جس میں مندرجہ زیل نکات شامل ہیں :

چارٹر آف ڈیمانڈ

تمام سینٹرز و انسٹیٹیوس میں :

۱۔ تنخواہ اور ہائوس سیلنگ کی ادائی یکم تاریخ کو لازمی ادا کی جائے۔ ہاوس سیلنگ کی پچھلی ادائی فوری کی جائے
۲۔ تمام اساتذہ و افسران کے دس سالوں سے سلیکشن بورڈ نہیں ہوا ان کے سلیکشن بورڈ اور سپورٹنگ اسٹاف کی سلیکشن کمیٹی کا انعقاد کیا جائے۔ اور ہر سینٹر کے بورڈ آف گورنر کا فوری انعقاد کیا جائے۔
۳۔ حاضر سروس مستقل ڈائرکٹر تمام سینٹرز و انسٹیٹوس میں تعینات کیے جائیں۔
۴۔ ملازمین کے بچوں کو تعلیمی وظائف جامعہ کراچی کے دیگر ملازمین کی طرح یکساں فراہم کیا جائے۔

 

۵۔ میڈیکل بلز کے ایریز فوری ادا کیے جائیں ۔
۶۔ وہ قوانین لاگو کیے جائیں جو یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق ہوں
۷۔ خوف و حراس کے ماحول کا خاتمہ کیا جائے، ذاتی اجارہ داری ختم کی جائے، قوانین کا یکساں اطلاق کیا جائے، حاضری کے نام پر اظہار رائے اور تنظیم سازی پر پابندی ختم کی جائے۔
۹۔ کم از پانچ سال کا غیر جانبدار اور شفاف آڈٹ ایک کمیشن کے زریعے کرایا جائے۔

چارٹر کی منظوری کے بعد تمام شرکاء گروپ کی صورت میں شیخ الجامعہ کے دفتر گئے اور چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پیش کیا اور اعلان ہوا کہ مورخہ 2 فروری بروز جمعرات آرٹس آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں دوبارہ یکجا ہونگے اور بھرپور تعداد میں اپنی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا اور عمل پیرا ہونگے تاکہ مسائل کو حل کیا جائے اور ملازمین یکسوئی کے ساتھ اپنی مادر علمی کی خدمت کر سکیں ۔

ویڈیو رپورٹ کے لئے لنک پر کلک کیجئے 

https://www.youtube.com/watch?v=uW6bNtWKyHQ

متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین