Tuesday, February 3, 2026
صفحہ اولتازہ ترینگومل یونیورسٹی: لاء کالج میں 2 روزہ تربیتی ورکشاپ، موٹ کورٹ(فرضی عدالت)...

گومل یونیورسٹی: لاء کالج میں 2 روزہ تربیتی ورکشاپ، موٹ کورٹ(فرضی عدالت) لگائی گئی

ڈیرہ اسماعیل خان( ) گومل یونیورسٹی کے نواب اللہ نواز لاء کالج کے طلباء کیلئے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کے آخری دن موٹ کورٹ (فرضی عدالت) لگ گئی جس میں یونیورسٹی آف فیصل آباد شعبہ قانون کے سربراہ پاکستان میں فرضی عدالت کے اوپر لکھی جانیوالی پہلی کتاب کے مصنف سمیع الرحمن، نواب اللہ نواز لا کالج کے اساتذہ نعمان گل اورمیڈم نغمہ پر مشتمل تین رکنی فرضی جج صاحبان کے پینل نے فرائض سر انجام دیئے۔

 

اس موقع پر پرنسپل نواب اللہ نواز لاء کالج سراج خان سمیت شعبہ قانون کے تمام اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد موجود تھی۔

 

موٹ کورٹ (فرضی عدالت) میں مختلف سمسٹرز کے طلبا ء کے مابین مقابلے کا بھی انعقاد ہوا جس میں طلبا نے اپنے اپنے فرضی کیسوں کی پیروی کی اور اپنے کیسوں کو قانونی دلائل دیتے ہوئے دفاع کیا۔

مزید پڑھیں:کراچی: انٹر بورڈ کے تحت ٹیم گو گرین کی تقریبات اختتام پذیر

موٹ کورٹ میں تین رکنی معزز ججز صاحبان کے فرضی بینچ نے طلبا کو معزز عدلیہ کے احترام وقار اور طریقہ کار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عملی طور پر سمجھانے کیساتھ معزز عدلیہ کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد بھی کروایا تاکہ ان کو عدالتی کارروائی کے بارے میں پتہ چل سکے۔

 

موٹ کورٹ کے اختتام پر یونیورسٹی آف فیصل آباد کے شعبہ قانون کے سربراہ سمیع الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہت خوشی ہوئی کہ جس طرح طلبا نے ایک ہی دن میں تیاری کرکے موٹ کوٹ میں جس جوش و جذبہ سے حصہ لیا وہ بہت خوش آئند اور قابل دید تھا جس پر میں تمام طلباء کی محنت اور کاوش کو داد دیتا ہوں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ میں ا مید کرتا ہوں کہ آپ طلباء کو اس تربیتی ورکشاپ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملااسلئے پرنسپل سراج وزیر اور گومل یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ قانون کے طلباء کے لئے موٹ کورٹ مقابلوں کا انعقاد کروائیں، جس میں تمام طلباء مختلف نوعیت کے کیسوں کی پیروی کرکے اپنے صلاحیتوں کو دکھائیں تاکہ ڈگری کے حصول کے بعد یہ چیزیں ان کیلئے عملی زندگی میں کارآمد ثابت ہوں اور اس حوالے سے جب کبھی بھی گومل یونیورسٹی کے نواب اللہ نواز لاء کالج کو میری ضرورت پڑی تو میر ی خدمات ہمیشہ حاضر ہونگی ۔

مزید پڑھیں:خواتین کو جائز حقوق غیر متوازن نظریے پر عمل کرکے نہیں مل سکتے، پروفیسر امجد سراج میمن

پرنسپل نواب اللہ نواز لاء کالج محمد سراج خان اور شعبہ قانون کے استاد نعمان گل نے اپنے مشترکہ خطاب میں کہا ہے کہ موٹ کورٹ سے آج ہمارے طلباء کو معززعدلیہ کے حوالے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا جس پر ہم سمیع الرحمن اور ثناء معروف خان کے تہہ دل سے مشکور ہیں جنہوں نے اپناقیمتی وقت ہمارے ادارے اور ہمارے طلباء کو دے کر بہت کچھ سکھایا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ گومل یونیورسٹی میں جلد ہی قومی سطح پر موٹ کورٹ مقابلوں کا انعقاد کروایا جائے گا تاکہ پاکستان کی تمام یونیورسٹی سے وابستہ شعبہ قانون کے طلباء یہاں آئیں اور اس مقابلے میں حصہ لیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہم وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ اور گومل یونیورسٹی انتظامیہ کے بھی تہہ دل سے مشکور و ممنون کیونکہ آج کی کامیابی تربیتی ورکشاپ کا سہرا دراصل وائس چانسلر گومل یونیورسٹی اور یونیورسٹی انتظامیہ کو جاتا ہے جن کی وجہ سے اس کامیاب تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔

مزید پڑھیں:مراد علی شاہ کو ڈگری دینا، ہمارے لیےاعزاز ہے، ڈاکٹر سروش لودھی

پروگرام کے اختتام پر یونیورسٹی آف فیصل آباد شعبہ قانون کے سربراہ پاکستان میں فرضی عدالت کے اوپر لکھی جانیوالی پہلی کتاب کے مصنف سمیع الرحمن نے موٹ کوٹ میں حصہ لینے والے طلباء کو فیڈ بیک بھی دیئے۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین