Tuesday, February 3, 2026
صفحہ اولبلاگای او بی آئی (EOBI) پنشن میں اضافہ کیونکر ممکن ہے! 

ای او بی آئی (EOBI) پنشن میں اضافہ کیونکر ممکن ہے! 

تحریر: اسرار ایوبی

 

ای او بی آئی کے پنشن یافتگان کی جانب سے اکثر و بیشتر بڑی شدت کے ساتھ پنشن میں اضافہ کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے ۔ جو ملک میں روز افزوں بڑھتی ہوئی گرانی اور عوام الناس کی قوت خرید میں زبردست کمی کے باعث یقیناً ایک جائز اور اصولی مطالبہ ہے اور اس مطالبہ کو فوری طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

ہم اپنے اس مضمون کے ذریعہ EOBI کی پنشن، پنشن میں اضافہ کا طریقہ کار اور پنشن فنڈ اور ای او بی آئی کو درپیش سنگین مسائل اور چیلنجوں پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے، تاکہ ای او بی آئی کے لاکھوں پنشنرز کی بعض غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے اور ان کے سامنے صحیح صورت حال بھی واضح ہوسکے اور وہ اس صورت حال کی روشنی میں اپنی پنشن میں اضافہ کے لئے کوئی واضح لائحہ عمل طے کرسکیں ۔

 

انگریزی لفظ پنشن (Pension) لاطینی زبان کے لفظ Pensio یعنی ” ادائیگی” سے ماخوذ ہے ۔ پنشن کو ملازمت کا انعام بھی کہا جاتا ہے ۔

 

کارکنوں کی ریٹائرمنٹ اور معذوری کی صورت میں مقررہ شرائط وضوابط کے مطابق تاحیات پنشن ان کا بنیادی حق ہے اور خدانخواستہ کارکن یا پنشن یافتگان کی وفات کی صورت میں بھی تاحیات پنشن ان کے پسماندگان کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے ۔ جس کی آئین پاکستان کے آرٹیکل 38(C) میں ضمانت بھی دی گئی ہے ۔

 

اس وقت ملک میں پنشن یافتگان کے تین بڑے طبقات پائے جاتے ہیں ۔ جن میں سرکاری، عسکری اور EOBI کے پنشنرز شامل ہیں ۔

 

سرکاری، عسکری اور ای او بی آئی کے پنشن یافتگان کے لئے پنشن کے نظام کے ڈھانچے، شرائط وضوابط، عمر کی حد، مدت ملازمت، کنٹری بیوشن کی ادائیگی، خاندان کی تعریف اور پنشن کی رقم کے علیحدہ طریقہ کار مقرر ہیں ۔

 

سرکاری اور عسکری ملازمین اور ان کے پسماندگان کو تو ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے زیر ملازمت سرکاری اداروں کی جانب سے طے شدہ شرائط وضوابط ملازمت کے مطابق سرکاری خزانہ سے تاحیات ماہانہ پنشن ادا کی جاتی ہے ۔

 

جبکہ اس کے برعکس نجی شعبہ سے تعلق رکھنے والے ای او بی آئی کے بیمہ دار افراد کو ای او بی آئی کے قانون مجریہ 1976ء کے تحت ضعیف العمر ملازمین فوائد فنڈ (EOB fund) سے پنشن ادا کی جاتی ہے

 

قیام پاکستان کے بعد ملک میں سرکاری اور عسکری اداروں کے ملازمین کے لئے تو پنشن کا باقاعدہ نظام رائج تھا ۔ لیکن ملک کے نجی شعبہ میں خدمات انجام دینے والے کارکنوں کے لئے ان کی ریٹائرمنٹ اور معذوری اور خدانخواستہ ان کی وفات کی صورت میں ان کے پسماندگان کے لئے پنشن کے نظام کا وجود نہیں تھا ۔ یہ کارکن اپنی ملازمت کے اختتام پر صرف اپنا پروویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی کی رقم لے کر رخصت ہو جایا کرتے تھے اور اپنی بقیہ زندگی انتہائی تنگدستی میں گزار دیا کرتے تھے

 

1972ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی حکومت کے دور میں پہلی مرتبہ کارکنوں کی فلاح وبہبود کے لئے دیگر فلاحی منصوبوں کے آغاز کے ساتھ ساتھ ان کے لئے ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کی سہولت فراہم کرنے کے لئے بھی قانون سازی عمل میں آئی تھی۔ اس مقصد کے تحت 1976ء میں پارلیمنٹ نے متفقہ طور ضعیف العمر ملازمین فوائد ایکٹ 1976ء (EOB Act 1976)منظور کیا تھا ۔ جس کے نتیجہ میں پنشن کی فراہمی کے لئے وفاقی سطح پر ایک محکمہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن( EOBI ) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جو ضعیف العمر ملازمین فوائد ایکٹ مجریہ 1976ء کے تحت نجی شعبہ کے صنعتی، تجارتی، کاروباری، طبی، تعلیمی، رفاہی اور اس قسم کے دیگر اداروں اور ان میں خدمات انجام دینے والے ہر نوعیت کے ملازمین خواہ مستقل، عارضی، یومیہ اجرت، ٹھیکہ داری، بدلی، فصلی یا تربیتی بنیاد پر ملازم ہوں اور ان اداروں یا مالکان سے باقاعدہ اجرت پاتے ہوں، کی EOBI میں رجسٹریشن کرکے ان کے آجران اور ان رجسٹر شدہ ملازمین سے موجودہ کم ازکم اجرت کے 6 فیصد کے مساوی ماہانہ کنٹری بیوشن وصول کرتا ہے ۔

 

چونکہ ضعیف العمر ملازمین فوائد منصوبہ کارکنوں کے لئے لازمی سماجی بیمہ Compulsory Social Insurance ہے ۔ لہذا ای او بی آئی میں رجسٹر شدہ ان ملازمین کو بیمہ دار فرد (Insured Person) کہا جاتا ہے

 

ان بیمہ دار افراد کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق 15 برس کی بیمہ شدہ ملازمت اور ادا شدہ کنٹری بیوشن کی بنیاد پر مرد ملازمین کو 60 برس کی عمر میں اور خواتین ملازمین اور کان کنوں کو 55 برس کی عمر میں تاحیات ضعیف العمری پنشن ادا کی جاتی ہے، جبکہ بیمہ دار افراد کی معذوری کی صورت میں مقررہ طریقہ کار کے مطابق ای او بی آئی کے مقرر کردہ میڈیکل افسر کی مستند طبی رپورٹ کی بنیاد پر ایسے معذور بیمہ دار افراد کو تاحیات معذوری پنشن بھی ادا کی جاتی ہے ۔

 

ای او بی آئی کا پنشن منصوبہ اس قدر جامع ہے کہ پنشن کے لئے مقررہ بیمہ شدہ ملازمت کی مدت میں کمی کی صورت میں ایسے بیمہ دار افراد کو خالی ہاتھ گھر بھیجنے کے بجائے انہیں ماہانہ پنشن کی جگہ یکمشت ضعیف العمری امداد ادا کی جاتی ہے ۔

 

اسی طرح کسی بیمہ دار ملازم یا پنشن یافتہ کی وفات کی صورت میں محض 36 ماہ کی بیمہ شدہ ملازمت کی بنیاد پر اس کے شریک حیات کو بھی 100 فیصد تاحیات پسماندگان پنشن ادا کی جاتی ہے ۔ جو دیگر پنشن منصوبوں کے مقابلے میں ایک منفرد سہولت ہے ۔

 

اس وقت EOBI کی جانب سے ادا کی جانے والی پنشن کی شرح کم از کم 8٫500 روپے ماہانہ مقرر ہے ۔ جس کا اطلاق جنوری 2020ء میں کیا گیا تھا۔ جبکہ زیادہ سے زیادہ پنشن بیمہ دار فرد کی مدت ملازمت اور کنٹری بیوشن کی ادائیگی کی بنیاد پر ای او بی آئی پنشن فارمولا کے مطابق ادا کی جاتی ہے ۔

 

دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ملک کی معیشت میں افراط زر کی بڑھتی شرح، روپے کی قدر میں دن بدن کمی اور ستم بالائے ستم اس کے نتیجہ میں روز افزوں بدترین مہنگائی کے باعث بزرگ پنشن یافتگان کے لئے پنشن کی اس معمولی رقم 8,500 روپے میں پورا مہینہ گزارہ کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے ۔

 

اس تشویش ناک صورت حال میں ملک کے لاکھوں بزرگ پنشنرز کو اپنی روح اور جاں کا رشتہ برقرار رکھنے اور باعزت طور پر اپنی گزر بسر کے لئے معقول ماہانہ پنشن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ پنشنرز کا ایک طبقہ قانون سے لاعلمی کے باعث EOBI پنشن کو کم از کم اجرت کے مساوی کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے ۔ لیکن ان کی خدمت میں عرض ہے کہ کم از کم اجرت مقرر کرنے کا پیمانہ پنشن مقرر کرنے کے پیمانے سے بالکل الگ ہے ۔ قانون میں اجرت اور پنشن کی علیحدہ علیحدہ تعریف بیان کی گئی ہے ۔ اجرت انجام دیئے گئے کام کا معاوضہ اور پنشن ریٹائرمنٹ یا معذوری میں گزارہ کے لئے ایک ماہانہ رقم ہے ۔

 

اگر ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس کڑے وقت میں پنشن کے قومی ادارہ ای او بی آئی کو بھی گوناگوں چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ جن میں وفاقی حکومت کی جانب سے مالی عدم سرپرستی، بڑی تعداد میں نجی اداروں اور ان کے کارکنوں کی عدم رجسٹریشن، رجسٹر شدہ آجران کی جانب سے ماہانہ کنٹری بیوشن کی وصولی میں شدید کمی، فیلڈ آپریشنز میں تعینات انتہائی بدعنوان اور بااثر افسران کی جانب سے کارکنوں کی رجسٹریشن اور کنٹری بیوشن کی وصولی کے نام پر آجران سے کنٹری بیوشن کی رقم میں جوڑ توڑ، سودے بازی ، ڈرا دھمکا کر بھاری کرپشن اور بھتہ خوری، آجران کی جانب سے 18 ویں آئینی ترمیم آڑ میں کنٹری بیوشن کی قلیل ادائیگی اور اس سے چھوٹ کی کوششیں، آجران کی جانب سے ای او بی آئی کے خلاف مختلف عدالتوں میں مقدمہ بازیاں، EOBI کے ملازمین کی بڑی تعداد تعداد میں ریٹائرمنٹ اور کافی عرصہ سے نئی بھرتیوں پر عائد پابندیوں کے باعث افرادی قوت کی شدید قلت، اس وقت ادارہ اپنی نصف تعداد کی افرادی قوت پر کام کر رہا ہے ۔

 

اس وقت ادارہ کا ایک ایک ملازم تین ملازمین کے حصہ کا کام سر انجام دے رہا ہے ۔ 2013ء میں اس وقت کے انتہائی بدعنوان اور غاضب چیئرمین ظفر اقبال گوندل اور اس کے حواری افسران کی جانب سے پنشن فنڈ سے نام نہاد سرمایہ کاری کے نام پر ملک کے مختلف شہروں میں بھاری کمیشن کے عوض 18 کم قیمت اراضیات اور املاک کی غیر قانونی طور پر بلند قیمتوں پر خریداری اور 34 ارب روپے مالیت کے اس میگا لینڈ اسکینڈل پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے از خود نوٹس قابل ذکر ہیں ۔

 

2013ء سے تاحال سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے اور ظفر اقبال گوندل سمیت تمام بااثر بدعنوان افسران ضمانت پر رہائی کے بعد بڑے دھڑلے سے آزادانہ گھوم رہے ہیں ۔

 

ای او بی آئی کو درپیش ان سنگین بحرانوں اور مسائل سے نمٹنے کے لئے گزشتہ برس ماہ ستمبر میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایک انتہائی تجربہ کار، باصلاحیت اور اصول پرست اعلیٰ افسر شکیل احمد منگنیجو کو ای او بی آئی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا ۔جو EOBI کو اس گرداب سے نکالنے کے لئے شب و روز اپنی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں ۔ جن میں ادارہ میں کرپشن کی روک تھام ، بد انتظامیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خاتمہ ، نئے آجران کی رجسٹریشن اور کنٹری بیوشن کی وصولیابی میں اضافہ، ادارہ میں ہر سطح پر بڑے پیمانے پر اصلاحات اور اسے ہر قسم کی کالی بھیڑوں اور بدعنوانیوں سے پاک نظام کے نفاذ کی کوششیں شامل ہیں ۔

 

اس کے باوجود ان پے در پہ سنگین چیلنجوں کے باعث ای او بی آئی جیسے قومی فلاحی ادارہ کے لئے اپنا وجود برقرار رکھنا خاصا مشکل ہوگیا ہے

 

چونکہ ضعیف العمر ملازمین فوائد اسکیم ایک شراکت داری (Contributory) پنشن منصوبہ ہے ۔ جو قانون کے مطابق وفاقی حکومت اور رجسٹر شدہ آجران اور بیمہ دار افراد کی جانب سے ادا کئے جانے والے ماہانہ کنٹری بیوشن کی رقم سے پروان چڑھتا ہے اور اس کے علاوہ ای او بی آئی کا اور کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے ۔

 

ای او بی آئی ایک سہ فریقی Tripartite بنیاد پر قائم ادارہ ہے ۔ جس کے شراکت داروں میں وفاقی حکومت، چاروں صوبائی حکومتیں، آجران اور ملازمین شامل ہیں ۔ لیکن اس حقیقت سے بہت کم پنشنرز واقف ہوں گے کہ ضعیف العمر ملازمین فوائد ایکٹ 1976ء کے نفاذ کے وقت وفاقی حکومت کو EOBI کی جانب سے آجران سے وصول کردہ سالانہ کنٹری بیوشن کی رقم کے برابر مساوی امداد ( Matching Grant) پنشن فنڈ کے لئے ادا کرنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی ۔

 

وفاقی حکومت کی جانب سے مساوی امداد کی ادائیگی کا یہ سلسلہ 1995ء تک بلا تعطل جاری رہا ۔ جس کی بدولت EOBI پنشن فنڈ مستحکم اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہوگیا تھا ۔

 

بعد ازاں گزرتے وقت کے ساتھ اور برسر اقتدار آنے والی مختلف حکومتوں نے ملک کے لاکھوں کارکنوں کی فلاح وبہبود کے لئے کیا گیا اپنا یہ آئینی وعدہ فراموش کرنا شروع کردیا ہے اور پھر بدقسمتی سے وفاقی حکومت نے اپنی آئینی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہوئے اور اس قانونی ادائیگی سے مستقل جان چھڑاتے ہوئے 1995ء سے EOBI کو ادا کی جانے والی مساوی امداد (Matching Grant) کی فراہمی روک دی تھی اور اب صورت حال یہ ہے کہ وفاقی حکومت مجرمانہ غفلت اور انتہائی بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے لاکھوں کارکنوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے ۔

 

جس کے تحت وفاقی حکومت EOBI کو طے شدہ مقررہ مساوی امداد Matching Grant کی فراہمی کے بجائے پنشن فنڈ کے لئے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر صرف ایک لاکھ روپے مالیت کی سالانہ مساوی امداد ادا کر رہی ہے جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے ملک کے لاکھوں محنت کشوں کے ساتھ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اور عدم دلچسپی کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔

 

جبکہ اس کے برعکس ماضی میں برسر اقتدار آنے والی مختلف حکومتیں مجاز نہ ہونے کے باوجود وقتاً فوقتاً محض پنشن یافتگان کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے اور عوام الناس میں اپنی ساکھ بنانے کے لئے غیر قانونی طور پر EOBI پنشن میں اضافہ کا اعلان بھی کر دیتی ہیں ۔

 

واضح رہے کہ وفاقی حکومت سالانہ بجٹ میں صرف اور صرف سرکاری خزانہ سے پنشن پانے والے سرکاری اور عسکری ملازمین کے لئے تو پنشن میں اضافہ کا اختیار رکھتی ہے ۔ لیکن اسے کسی بھی طور پر سالانہ بجٹ میں EOBI پنشن میں اضافہ کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے ۔

 

کیونکہ ضعیف العمر ملازمین فوائد ایکٹ 1976ء کی دفعہ 21 کے مطابق EOBI کی پنشن میں اضافہ کے لئے EOBI کی انتظامیہ ہر تین برس بعد ادارہ کے واجبات اور اثاثہ جات کی تخمینہ کاری Actuarial Valuation کرانے کے بعد اس تخمینہ کاری کی رپورٹ کی روشنی میں پنشن میں کسی قسم کے اضافہ کرنے کی پابند ہے ۔ اس مقررہ طریقہ کار کو اختیار کئے بغیر EOBI پنشن میں اضافہ سراسر غیر قانونی تصور کیا جائے گا ۔

 

واضح رہے کہ EOBI کے واجبات اور اثاثہ جات کے تعین کے لئے پچھلی تخمینہ کاری Actuarial Valuation سال 2020ء میں نہایت مشکوک انداز میں اس وقت کرائی گئی تھی ۔ جب اس وقت کے انتہائی بدعنوان اور خوشامدی چیئرمین اظہر حمید نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے لالچ میں اس وقت کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بلا تخمینہ کاری Actuarial Valuation کرائے وفاقی حکومت سے پنشن میں اضافہ کا اعلان کرا دیا تھا ۔

 

حقیقت سامنے آنے پر وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کابینہ کے اجلاس میں تخمینہ کاری کرائے بغیر پنشن میں اضافہ کی منظوری رکوا دی تھی ۔ جس پر چیئرمین اظہر حمید نے وفاقی حکومت اور زلفی بخاری کو سبکی سے بچانے کے لئے بطور عجلت کراچی کی ایک غیر معروف تخمینہ کار کمپنی میسرز سر کنسلٹنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کو من پسند اور فرضی اعداد و شمار پیش کرکے ایک من مانی تخمینہ کاری رپورٹ تیار کرائی تھی ۔

 

اس وقت بظاہر پنشن میں اضافہ تو ہوگیا تھا لیکن بعد ازاں چیئرمین اظہر حمید کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس اسکینڈل کی تحقیقات جاری ہے ۔

 

ای او بی آئی ایک مختار ادارہ کی حیثیت سے ایک 16 رکنی سہ فریقی بورڈ آف ٹرسٹیز کی نگرانی میں خدمات انجام دیتا ہے ۔ اس بورڈ میں وفاقی حکومت کے چار نمائندوں کے علاوہ چاروں صوبائی حکومتوں، چاروں صوبوں کے آجران اور ملازمین کے نمائندوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہے ۔

 

اعلیٰ سطحی بورڈ آف ٹرسٹیز EOBI کا ایک پالیسی ساز ادارہ ہے ۔ جو EOBI کے تمام انتظامی اور مالیاتی منصوبوں سمیت سالانہ بجٹ اور ہر تین برس بعد واجبات اور اثاثہ جات کی تخمینہ کاری (Actuarial Valuation) کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد پنشن میں اضافہ کی منظوری دیتا ہے ۔

 

یہ حقیقت ہے کہ اس اعلیٰ سطحی سہ فریقی اور مجاز بورڈ آف ٹرسٹیز کے علاوہ وفاقی حکومت ، وزیر اعظم پاکستان سمیت کسی وفاقی وزیر اور EOBI کے چیئرمین کو بھی پنشن میں اضافہ کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔

 

ماضی میں مختلف ادوار میں حکومتوں کی جانب سے بلا سوچے سمجھے اور پنشن فنڈ کی تخمینہ کاری Actuarial Valuation کرائے بغیر اور EOBI کی مالی حالت کو یکسر نظر انداز کر کے محض اپنے سیاسی مفادات اور پنشنرز کی ہمدردی حاصل کرنے کی خاطر EOBI پنشن میں اضافہ کا اعلان کرکے EOBI کے پنشن فنڈ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جا چکا ہے ۔

 

دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ ضعیف العمر ملازمین فوائد ایکٹ 1976ء کے تحت وفاقی حکومت اور آجران کو اس پنشن منصوبہ کا مالی سرپرست مقرر کیا گیا تھا ۔ لیکن یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ اس پنشن منصوبہ کا سرپرست اعلیٰ مقرر کئے جانے والی وفاقی حکومت اور سرپرست مقرر کئے جانے والی آجر برادری کافی عرصہ سے اپنی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں پر عملدرآمد سے گریزاں ہیں ۔

 

گزرتے وقت کے ساتھ ملک کی آجر برادری رفتہ رفتہ اپنے ملازمین کی فلاح وبہبود کے لئے اپنی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے ہاتھ کھینچ رہی ہے اور اب ملک کے آجران طبقہ کا یہ عالم ہے کہ وہ خون پسینہ ایک کرکے خدمات انجام دینے والے اپنے جفاکش ملازمین کا بدترین معاشی استحصال کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔

 

آئے دن مختلف حیلے بہانوں اور چند قانونی موشگافیوں کا سہارا لیتے ہوئے اپنے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے مستقبل کی پنشن کے لئے EOBI کو ماہانہ کنٹری بیوشن کی ادائیگی سے ہر ممکن گریز کرتے نظر آتے ہیں ۔

 

آج بھی ای او بی آئی میں رجسٹر شدہ آجران کی بڑی اکثریت نے اپنے ملازمین کی اصل تعداد کے بجائے گنتی کے ملازمین ای او بی آئی میں رجسٹر کرائے ہوئے ہیں اور محض خانہ پری کے لئے کئی کئی برس پرانی کم از کم اجرت کے حساب سے ای او بی آئی کو ماہانہ کنٹری بیوشن ادا کر رہی ہے ۔

 

آجران کے اس ملازمین دشمن رویہ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اداروں کا EOBI میں رجسٹریشن کرانے اور کنٹری بیوشن کی ادائیگی سے ہر ممکن طور سے اپنے بچاؤ کے لئے EOBI کے خلاف مختلف عدالتوں میں مقدمہ بازیوں کے لئے تو نامی گرامی اور مہنگے ترین وکلاء کو لاکھوں کروڑوں روپے کی بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں ۔ لیکن اپنے ملازمین کی مستقبل میں پنشن یقینی بنانے کے لئے EOBI کو باقاعدگی سے کنٹری بیوشن ادا نہیں کرتے ۔

 

اس صورت حال کے باعث آجران اپنے غریب ملازمین اور ان کے پسماندگان کا بدترین استحصال کرتے ہوئے ان کو پنشن کے حق سے محروم کر رہے ہیں ۔ جو ملک کے لاکھوں غریب کارکنوں کی حق تلفی اور ان کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی کے مترادف ہے ۔

 

اسی طرح وفاقی حکومت اور آجران طبقہ کی جانب سے کارکنوں کی فلاح وبہبود کے لئے مسلسل عدم دلچسپی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کے باعث کنٹری بیوشن کی عدم ادائیگی یا محض دکھاوے کے طور پر کی جانے والی ادائیگیوں کے باعث گزشتہ دو عشروں سے ای او بی آئی پنشن فنڈ نہایت تیزی سے زوال پذیر ہے ۔

 

لہذا جب تک وفاقی حکومت اور آجران اپنی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ای او بی آئی کو اپنے واجب الادا کنٹری بیوشن کی ادائیگی نہیں کریں گے تو خاکم بدہن وہ دن دور نہیں کہ جب EOBI پنشن فنڈ مستقل طور پر دیوالیہ کا شکار ہو جائے گا ۔ جس کا سراسر خمیازہ صرف اور صرف ملک کے لاکھوں بزرگ اور معذور کارکنوں اور ان کی پسماندگان کو بھگتنا پڑے گا ۔

 

جبکہ دوسری جانب یہ حقیقت ہے کہ اس نازک صورت حال کے باوجود EOBI ملک بھر میں اپنے 4 لاکھ سے زائد ریٹائرڈ، معذور ملازمین اور متوفی ملازمین کی بیواؤں کو وفاقی حکومت اور آجران کی جانب سے ماہانہ کنٹری بیوشن کی عدم ادائیگی کے باوجود اپنے قیمتی مالی اثاثوں/ سرمایہ کاری کی آمدنی کی قربانی دے کر ہر ماہ باقاعدگی سے بھاری پنشن کی ادائیگی کر رہا ہے ۔

 

کنٹری بیوشن کی وصولیابی اور پنشن کی تقسیم کی رقوم میں شدید عدم توازن کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ای او بی آئی نے ماہ جنوری 2022ء میں ملک بھر میں اپنے 4 لاکھ سے زائد پنشن یافتگان میں 3 ارب 74 کروڑ روپے کی خطیر رقم بطور پنشن تقسیم کی ہے ۔ جبکہ اس کے مقابلہ میں اسی ماہ کے دوران EOBI کو کنٹری بیوشن کی مد میں صرف 2 ارب 46 کروڑ روپے وصول ہوئے ہیں ۔

 

اس طرح کنٹری بیوشن کی وصولی کی مد میں ہونے والا ایک ارب روپے سے زائد کا ماہانہ خسارہ ملک کے لاکھوں پنشن یافتگان کے سب سے بڑے پنشن فنڈ کے استحکام کے لئے نہایت مایوس کن صورت حال کی عکاسی کرتا ہے ۔

 

لیکن اس کے باوجود ای او بی آئی ان مشکل ترین مالی حالات میں بھی اپنے 4 لاکھ سے زائد بزرگ، معذور اور بیوگان پنشن یافتگان کی باقاعدہ ماہانہ مالی کفالت کرکے اپنا قومی فریضہ انجام دے رہا ہے ۔ لیکن اس تشویشناک صورت حال میں یہ سلسلہ زیادہ دیر تک جاری رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے ۔

 

ای او بی آئی پنشن فنڈ کی اس مخدوش صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اگر وفاقی حکومت اور ملک کی آجر برادری اپنی اپنی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ملک کے لاکھوں کارکنوں اور ان کے پسماندگان کی فلاح وبہبود کے لئے اپنے اپنے حصہ کا ماہانہ کنٹری بیوشن باقاعدگی سے EOBI کو ادا کرتے رہیں تو اس صورت میں ملک کے لاکھوں بزرگ پنشن یافتگان کی ماہانہ پنشن میں کسی معقول اضافہ کی امید کی جاسکتی ہے ۔

 

اس سلسلہ میں وفاقی حکومت اور ملک کی آجر برادری کو اس اہم انسانی معاملہ کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے اور اسے قومی فریضہ سمجھتے ہوئے ملک کے لاکھوں کارکنوں اور ان کے پسماندگان کی فلاح وبہبود کے لئے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں لازمی طور پر ادا کرنا ہوں گی۔

 

بصورت دیگر EOBI کے لاکھوں پنشن یافتگان کو EOBI پنشن فنڈ میں اضافہ اور اسے مزید مستحکم کرنے کے لئے ایک واضح حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے 1995ء سے مساوی امداد (Matching Grant) کی بندش کی فوری طور پر بحالی اور آجر برادری کی اکثریت کی جانب سے ان کے تمام ملازمین کی EOBI میں رجسٹریشن اور موجودہ کم از کم اجرت کے مطابق ماہانہ کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے لئے خواب غفلت سے بیدار کرنے اور مشترکہ طور پر جدوجہد کرنا ہوگی ۔

 

کیونکہ EOBI سے ملک کے لاکھوں بزرگ، معذور اور بیوہ پنشن یافتگان اور ایک کروڑ کے لگ بھگ بیمہ دار افراد (Insured Persons) کا مستقبل وابستہ ہے اور EOBI جیسے قومی فلاحی ادارہ کی بقاء و سلامتی میں ہی ان لاکھوں بزرگ پنشن یافتگان کا عظیم تر مفاد بھی پیوستہ ہے ۔

 

انداز بیاں گرچہ شوخ نہیں ہے

شائد کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

 

 

نوٹ: عوام الناس خصوصاً EOBI کے بیمہ دار افراد اور پنشنرز کی معلومات اور آگہی کے لئے 20 فروری 2022ء کی ایک تحریر۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین