کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے دائود انجینئرنگ یونیورسٹی کراچی کی جانب سے دائر درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت، پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC)، ایڈیشنل رجسٹرار پاکستان انجینئرنگ کونسل جہانزیب خان اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ۔
عدالت نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جانب سے 5 مارچ کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایڈیشنل رجسٹرار جہانزیب خان کو 7 اپریل کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
دائود انجینئرنگ یونیورسٹی کے وکیل مولوی اقبال حیدر نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل نے 5 مارچ 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے یونیورسٹی کے پیٹرولیم اینڈ گیس انجینئرنگ پروگرام کی ایکریڈیٹیشن واپس لے لی ہے ، جس سے طلبہ اور گریجویٹس کے مستقبل پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

درخواست میں بتایا گیا کہ یونیورسٹی کا پیٹرولیم اینڈ گیس انجینئرنگ پروگرام 2014 سے جاری ہے۔ عدالت نے درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے پاکستان انجینئرنگ کونسل اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے اور انہیں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ عدالت میں وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ایڈیشنل رجسٹرار جہانزیب خان ون مین شو کا قردار ادا کر رہا ہے ۔ تمام ممبران گورننگ بورڈ ، سینئر وائس چیئرمین ، چیئرمین سندھ وغیرہ نے جہانزیب خان کو لکھا کہ وہ اس معاملے پر نظر ثانی کریں تاہم جہانزیب خان کسی بھی قسم کی نظر ثانی کیلئے تیار نہیں تھے ۔ جس کی وجہ سے یونیورسٹی ہائی کورٹ پہنچ گئی ہے ۔
درخواست گزار دائود انجینئرنگ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کا فیصلہ قانونی اور انتظامی طور پر چیلنج کیا جا سکتا ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ایکریڈیٹیشن واپس لینے کے فیصلے کو معطل کیا جائے اور طلبہ کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

