کراچی : اشفاق لغاری نے رپورٹ کیا ہے کہ حیدرآباد میں قائم عبدالماجد بھرگڑی انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کی تمام سرکاری اسامیاں خالی ہیں، کام کرنے والے تمام ملازمین کانٹریکٹ پر ہیں اور رواں مالی سال ادارے کا بجٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں 78 فیصد کم کر دیا گیا ہے۔
ادارے کو 2024-25 میں پانچ کروڑ 29 لاکھ روپے ملے تھے جبکہ تخمینہ 14 کروڑ 71 لاکھ کا تھا۔ رواں سال میں یہ رقم مزید گھٹ کر ایک کروڑ 16 لاکھ روپے رہ گئی ہے۔
ادارے نے توسیعی بجٹ کے لیے حکومت سندھ کو درخواست بھیجی ہے۔ ادارے میں فی الحال پانچ کانٹریکٹ ملازمین کام کر رہے ہیں جن کی سالانہ تنخواہ تقریباً 70 لاکھ روپے بنتی ہے۔
ڈائریکٹر کے فرائض سرانجام دینے والے امر فیاض برڑو کی تنخواہ انسٹی ٹیوٹ کے بجٹ سے نہیں بلکہ محکمہ ثقافت کے ایک علیحدہ منصوبے سے ادا کی جاتی ہے۔
امر فیاض نے حال ہی میں فیس بک لائیو میں کہا کہ انہوں نے ادارہ ذاتی خرچے پر چلایا، انہیں دھمکیاں ملیں اور اب یہ کام جاری رکھنا ان کے بس میں نہیں۔ محکمہ ثقافت کی جانب سے ان کی شکایات کا کوئی جواب نہیں آیا۔
انسٹی ٹیوٹ کو سندھ اسمبلی کے ایکٹ XVI برائے 2021 ء کے تحت سندھی زبان کی کمپیوٹیشنل اور تکنیکی ترقی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ ادارے کے گریڈ 19 کے ڈائریکٹر سے لے کر چوکیدار تک کی تمام مستقل اسامیاں اب بھی خالی ہیں۔

