Tuesday, May 5, 2026
صفحہ اولNewsسندھ کی پہلی یونیورسٹی میں سیگریٹ پینے پر انسداد منشیات پالیسی کے...

سندھ کی پہلی یونیورسٹی میں سیگریٹ پینے پر انسداد منشیات پالیسی کے تحت افسر پر جرمانہ

کراچی : داؤد یونیورسٹی آف انجنیئئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سندھ کی پہلی جامعہ ہے جہاں انتظامیہ نے خود انتظامیہ کے ہی اعلی افسر کو سرعام سیگریٹ پینے پر 5 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے ۔ افسر نے جرمانہ جمع بھی کرا دیا ہے ۔

تفصیلات کے مطالق داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی کے ڈائریکٹر ورکس اینڈ سروسز ڈاکٹر راجہ شاہ میر نظام کو یونیورسٹی کے احاطے میں سگریٹ پینے پر 5,000 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

یہ اقدام اینٹی ڈرگ اینڈ ٹوبیکو کمیٹی (ATDC) کی رپورٹ کے بعد کیا گیا ہے، جس میں یہ عمل یونیورسٹی کی پالیسی کی خلاف ورزی اور بدانتظامی قرار دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر سید آصف علی شاہ کی جانب سے جاری کردہ خفیہ (SECRETE) نوٹیفکیشن نمبر DUET/Reg/Warning/RSN/2026-1002 کے مطابق، ڈاکٹر راجہ شاہ میر نظام کو 5,000 روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے جو تین کاروباری دنوں کے اندر یونیورسٹی میں جمع کروانا ہو گا۔

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقبل میں اگر ایسی کوئی خلاف ورزی پائی گئی تو یونیورسٹی کے ای اینڈ ڈی قوانین کے تحت سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

یہ اقدام وائس چانسلر کی منظوری سے کیا گیا ہے اور اس کی کاپیاں ATDC کے چیئرمین، وائس چانسلر کے پرسنل سیکریٹری، ذاتی فائل اور آفس ریکارڈ کو بھیجی گئی ہیں۔

ادھر معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ افسر کا تعلق بھی یونیورسٹی کی ایڈمنسٹریشن سے تھا ۔جو ڈائریکٹر ورکس اینڈ سروسز کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ تاہم انہوں نے جرمانے کی رقم ادا کر دی ہے ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا


مقبول ترین