پشاور : ہائر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی (ہیرا) خیبر پختونخوا نے رِفاع انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ملاکنڈ سب کیمپس کی مبینہ طور پر بغیر پیشگی منظوری اور لازمی این او سی کے منتقلی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے معاملہ مزید قانونی و ضابطہ جاتی کارروائی کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے سامنے اٹھا دیا ہے۔
ہیرا کی جانب سے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ارسال کیے گئے باضابطہ مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رِفاع انٹرنیشنل یونیورسٹی نے اپنے ملاکنڈ سب کیمپس کو چکدرہ، ضلع لوئر دیر سے سیکٹر ڈی، کانجو ٹاؤن شپ، ضلع سوات منتقل کر دیا ہے اور نئی جگہ پر تعلیمی و انتظامی سرگرمیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق کیمپس کی منتقلی سے قبل ہیرا سے لازمی پیشگی منظوری یا این او سی حاصل نہیں کیا گیا، جو صوبے میں نجی جامعات اور ان کے ذیلی کیمپسز کے قیام، منتقلی، توسیع اور انتظام سے متعلق مروجہ قوانین، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
ہیرا نے اپنے مراسلے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ قوانین اور ضابطہ کار کے تحت مناسب قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی نجی یونیورسٹی یا ذیلی کیمپس کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کرنے سے قبل متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی سے مقررہ طریقہ کار کے مطابق منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔
ہیرا کے مطابق تعلیمی اداروں کی غیر مجاز منتقلی نہ صرف ریگولیٹری نظام کے لیے ایک سنجیدہ معاملہ ہے بلکہ اس سے زیرِ تعلیم طلبہ کے تعلیمی مستقبل، ڈگریوں کی حیثیت، سہولیات اور دیگر متعلقہ امور بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں اتھارٹی نے معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھاتے ہوئے ایچ ای سی سے ضروری کارروائی کی درخواست کی ہے۔
اتھارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے، نجی جامعات اور ان کے ذیلی کیمپسز کو قانونی و ضابطہ جاتی دائرہ کار میں رکھنے اور طلبہ کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
ہیرا نے تمام نجی جامعات اور ان کے ذیلی کیمپسز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی نئے کیمپس کے قیام، موجودہ کیمپس کی منتقلی، توسیع یا تعلیمی سرگرمیوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی سے قبل متعلقہ قوانین اور مقررہ طریقہ کار کے تحت ہیرا سے پیشگی منظوری حاصل کریں۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت، معیار اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کو یقینی بنانا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی غیر مجاز اقدام کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔


