صفحہ اولNewsجامعہ این ای ڈی کے سلیکشن بورڈ 2025 میں حق تلفی کی...

جامعہ این ای ڈی کے سلیکشن بورڈ 2025 میں حق تلفی کی شکایات سامنے آ گئیں

کراچی : جامعہ این ای ڈی کے سلیکشن بورڈ برائے 2025 کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان اٹھ گئے ، سینئر فکلیٹی ممبر کی حق تلفی کی شکایات سامنے آئی ہیں ، جونیئر کو جامعہ کراچی کے ایکسپرٹ کی جانبدارانہ رپورٹس کی وجہ سے نوازا گیا ہے ۔ تعلیمی تباہی کی طرف ایک اور قدم اٹھایا گیا ہے۔

ایجوکیشن نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق جامعہ این ای ڈی میں پروفیسر برائے کیمسٹری کے سلیکشن بورڈ کے لئے جامعہ کراچی کے شعبہ کیمسٹری سے زیادہ تر امیدوار آئے اور اسی شعبہ کے اساتذہ کو بطور ایکسپرٹ بھی بلایا گیا تھا جو مفادارت کے ٹکراؤ کی واضح مثال ہے ۔ سب سے زیادہ ایوارڈ ، ریسرچ گرانٹ اور بیرون سے پی ایچ ڈی ہولڈر سینیئر فکلیٹی کو نظر انداز کر کے جونیئرز کو پروفیسر بنایا گیا ہے ۔

این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب سے سلیکشن بورڈ میں ماہرین کو جامعہ کراچی کے شعبہ کیمسٹری سے مدعو کیا گیا تھا ۔ ان میں جامعہ کراچی شعبہ کیمسٹری کی چیئرپرسن ڈاکٹر نسرین فاطمہ ، سابق ڈین آف سائنس و سابق چیئرپرسن شعبہ کیمسٹری ڈاکٹر افتخار امام نقوی اور چیئرپرسن شعبہ اپلائیڈ کیمسٹری پروفیسر ڈاکٹر محب رضا کاظمی کو لایا گیا تھا ۔ جن کو سلیکٹ کیا گیا ہے ان میں سے ایک امیدوار خود جامعہ این ای ڈی کے رجسٹرار کے طالب علم رہ چکے ہیں اور آنے والا ایک ایکسپرٹ خود رجسٹرار کا استاد رہ چکا ہے ۔ یعنی مفادات کے ٹکراؤ کی سنگین واردات کی گئی ہے ۔

سلیکشن بورڈ کی جانب سے جن امیدواروں کو ٹاپ پر رکھا گیا تھا ان میں ڈاکٹر امۃ القیوم ، ڈاکٹر سعیدہ نادر علی اور انتظار کی لسٹ میں ڈاکٹر سید نوازش علی اور ڈاکٹر نذہت ارشد اور ڈاکٹر زاہد حسین شامل تھے ۔ جس امیدوار کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا وہ جامعہ این ای ڈی کے شعبہ کیمسٹری میں سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسر تھیں ۔ جن کی جونیئرز کو نمبر 1 اور نمبر 2 پر کر دیا گیا تھا ۔

ڈاکٹر نزہت ارشد نے 2009 میں آسٹریلیا سے پی ایچ ڈی کی ۔ اپریل 2012 میں ڈاکٹر نزہت نے بحثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر کیمسٹری جوائننگ جامعہ این ای ڈی میں جوائننگ دی ۔ جب کہ سلیکشن بورڈ میں پہلے نمبر پر آنے والی خاتون ڈاکٹر امۃ القیوم نے 2011 میں جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ، جو 2017 میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ایڈہاک بھرتی ہوئیں اور اس کے علاوہ دوسرے نمبر پر آنے والی ڈاکٹر سعیدہ نادر علی نے 2014 میں کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی اور وہ 11 اگست 2017 کو ایسوسی ایٹ پروفیسر کنٹرکٹ پر بھرتی ہوئیں ۔

ایسوسی ایٹ پروفسرز کی سنیارٹی لسٹ کیمطابق ڈاکٹر نذہت ارشد 2012 سے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ دو بار چیئرپرسن بھی رہیں ۔ کیسمٹری ڈیپارٹمنٹ کی سب سے پہلی ریسرچ گرانٹ حاصل کی ، ایوارڈ لیئے ، سب سے پہلے کیمسٹری کے دو پی ایچ ڈی کی سپروائزر رہیں اور این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب سے دیا جانے والا ‘بہترین محقق کا ایوارڈ برائے 2025’ بھی حاصل کیا۔ مگر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے جامعہ کراچی کے ماہرین کے ساتھ مل کر ان کی حق تلفی کی ۔ جامعہ این ڈی میں پروفیسر برائے کیمسٹری بننے والی فکلیٹی کی جانب سے اپنے اوپر احسان کا بدلہ چکانے کے لئے ایک دعوتی تقریب منعقد کی جس میں سلیکشن بورڈ میں شامل مضامین کے ماہرین ڈاکٹر نسرین فاطمہ و دیگر کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ ان کا شکریہ ادا کیا جا سکے ۔

واضح رہے کہ داؤد یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر سمیرین حسین نے سنڈیکیٹ اجلاس میں اعتراض اٹھایا کہ سلیکشن بورڈ کے منٹس پہلے کیوں نہیں لائے گئے ، اور سلیکشن بورڈ میں کام کرنے والوں کو ایڈوانس انکریمنٹس کیوں دیئے جا رہے ہیں اور سلیکشن بورڈ میں انٹرویو کرنے والوں کی مکمل لسٹ کیوں ساتھ فراہم نہیں کی گئی ۔ جس پر سابق وائس چانسلر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی نے بتایا کہ بورڈ کا اجلاس محض دو دن پہلے ہی ختم ہوا تھا اور وقت کی کمی کے باعث تفصیلات پہلے سے فراہم کرنا ممکن نہیں ہو سکا ۔

پروفیسر ڈاکٹر سروش ایچ لودھی نے این ای ڈی (NED) یونیورسٹی کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سلیکشن بورڈ کے منٹس اجلاس کے فوری بعد مرتب اور دستخط کیے جاتے ہیں ۔ وائس چانسلر نے مزید یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں سلیکشن بورڈ کی تمام تفصیلات ورکنگ پیپرز کے ساتھ کافی پہلے شیئر کی جائیں گی۔ تاہم اس حق تلفی کی بنیاد پر 4 جون کو این ای ڈی یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کا اجلاس ہوا ، ڈاکٹر نزہت کو اپنی شکایت کی نمائندگی کے لیے صبح ہنگامی بنیادوں پر مدعو کیا گیا تھا ۔

سنڈیکیٹ کے نمائندے جسٹس فیصل کمال نے بتایا کہ مفادات کا ٹکراؤ ہے کیونکہ انہوں نے بتایا کہ کچھ امیدواروں کی مضامین کے ماہرین کے ساتھ مشترکہ مطبوعات ہیں ۔جسٹس فیصل کامران نے بھی کہا کہ وہ ٹھیک کہتی ہیں کہ وہ بہتر پروجیکٹ جیتنے والی اور اچھی پروفائل رکھتی ہیں تو سلیکشن بورڈ کو کیمسٹری ڈپارٹمنٹ کے لیے منسوخ کر دینا چاہیے ۔

تاہم تمام بیرونی سنڈیکیٹ ممبران ایک نکتے پر متحد ہو گئے کہ اس کے کیس کی پریزنٹیشن سے جانبداری کا ثبوت ملتا ہے، مضمون کے ماہرین کیسے ہو سکتے ہیں ایک ہی ڈیپارٹمنٹ سے جہاں سے آدھے امیدواروں نے پی ایچ ڈی کی ہو ، ان کا ڈائریکٹ سپروائزر اور فیکلٹی ممبرز کے طور پر کام کر رہے ہیں اور کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے لیے سلیکشن بورڈ کو واپس بھیج دیا جائے اور اسے منسوخ کر دیا جائے ۔ سنڈیکیٹ کے ایک رکن نے نشاندہی کی کہ متعصب بیرونی مضامین کے ماہرین کے اس طرز عمل کی مستقبل میں پیروی نہیں کی جانی چاہیے اور VC اور رجسٹرار نے عہد کیا کہ آئندہ سلیکشن بورڈ میں ایسا نہیں کیا جائے گا ۔

سنڈیکیٹ کے ایک رکن نے یہ بھی کہا کہ صرف انٹرویوز یا مضمون کے ماہرین کی رائے کی بنیاد پر کسی مضبوط یا سرفہرست امیدوار کو مسترد نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے ‘ویٹنگ لسٹ’ (انتظار کی فہرست) میں ڈالا جا سکتا ہے ۔ زیادہ تر ارکان اس بات پر متفق تھے کہ معاملے کو متعلقہ سلیکشن بورڈ کو واپس بھیج دیا جائے، تاہم سنڈیکیٹ کے ایک رکن اے کیو مغل نے نشاندہی کی کہ اگر کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے سلیکشن بورڈ کا معاملہ واپس بھیجا گیا تو اس سے دیگر شعبہ جات کے سلیکشن بورڈز بھی متنازعہ ہو جائیں گے اور معاملہ وزیراعلیٰ تک جا پہنچے گا ۔ لہٰذا اسے یہیں کسی نہ کسی طرح حل کر لیا جائے اور مستقبل میں ایسے عمل سے گریز کیا جائے ۔

وائس چانسلر اور رجسٹرار نے یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں ایسا نہیں کیا جائے گا اور اس سے بچنے کے لیے بہتر طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ تاہم، معاملے کو واپس بھیجنے سے متعلق بحث کے دوران، وائس چانسلر نے ظہرانے (لنچ) کے وقفے کے لیے اجلاس ختم کرتے ہوئے اپنی نشست چھوڑ دی ۔ جب سنڈیکیٹ کے ایک رکن نے پوچھا کہ آپ تو بغیر کسی فیصلے کے ہی چلے گئے، تو وائس چانسلر نے انہیں بتایا کہ ہم ڈاکٹر نوازش کو تیسرے اور ڈاکٹر نزہت کو چوتھے نمبر پر ‘ویٹنگ’ (انتظار کی فہرست میں جگہ) کی پیشکش کریں گے ۔ رکن نے کہا کہ ڈاکٹر نزہت دوبارہ عدالت جا سکتی ہیں کیونکہ انہوں نے میرٹ کے معاملے کو چیلنج کیا تھا اور آپ نے انہیں زبانی طور پر چوتھے نمبر کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے پہلے قبول نہیں کیا تھا ۔

News Desk
News Deskhttps://educationnews.tv/
ایجوکیشن نیوز تعلیمی خبروں ، تعلیمی اداروں کی اپ ڈیٹس اور تحقیقاتی رپورٹس کی پہلی ویب سائٹ ہے ۔
متعلقہ خبریں

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا
Are you human? Please solve:Captcha


مقبول ترین